گلگت بلتستان اسمبلی تحلیل، جسٹس یار محمد نگران وزیراعلیٰ مقرر کر دیے گئے
اشاعت کی تاریخ: 25th, November 2025 GMT
گلگت بلتستان اسمبلی اپنی آئینی مدت پوری کرنے کے بعد باضابطہ طور پر تحلیل ہوگئی۔
آئینی تقاضوں کے تحت نئے نگران سیٹ اپ کی تیاری مکمل کر لی گئی ہے اور وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے خطے کے نئے نگران وزیراعلیٰ کے لیے جسٹس ریٹائرڈ یار محمد کے نام کی منظوری بھی دے دی ہے۔ اس فیصلے کے بعد گلگت بلتستان میں نگران انتظامیہ کی سرگرمیاں باضابطہ طور پر شروع ہونے والی ہیں، جو آئندہ انتخابات کے شفاف انعقاد کی ذمہ دار ہوگی۔
تفصیلات کے مطابق آئینی مدت پوری ہونے کے ساتھ ہی 24 اور 25 نومبر کی درمیانی شب گلگت بلتستان اسمبلی تحلیل ہوگئی، جس کے نتیجے میں وزیراعلیٰ حاجی گلبر خان اور ان کی کابینہ بھی اپنے عہدوں سے سبکدوش ہوگئے۔
حکومت کی تحلیل کے ساتھ خطے میں انتظامی اختیارات نگران سیٹ اپ کے حوالے کیے جا رہے ہیں، جس کی تشکیل کے تمام مراحل مکمل کر لیے گئے ہیں۔ اس عمل سے خطے میں نئی سیاسی سرگرمیوں کا آغاز بھی متوقع ہے، جہاں مختلف جماعتیں آئندہ عام انتخابات کی تیاری میں مصروف ہوں گی۔
دوسری جانب نئے نگران وزیراعلیٰ جسٹس ریٹائرڈ یار محمد آج یا کل باضابطہ طور پر اپنے عہدے کا حلف اٹھائیں گے۔ وہ گلگت بلتستان چیف کورٹ کے سابق جج رہ چکے ہیں ۔ جسٹس ریٹائرڈ یار محمد کا تعلق ضلع استور سے ہے جب کہ ان کی رہائش اسلام آباد میں ہے۔
جسٹس ریٹائرڈ یار محمد نے 2008 میں انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد سے شریعہ و قانون کی ڈگری حاصل کی۔ اپنی قانونی تعلیم اور عدالتی خدمات کے بعد انہیں فیڈرل پبلک سروس کمیشن کے نمائندے کی حیثیت سے بھی ذمہ داری دی گئی، جہاں انہوں نے سول ججز کے انٹرویوز میں حصہ لیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل جسٹس ریٹائرڈ یار محمد گلگت بلتستان
پڑھیں:
ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی
محمد انعام یوسفزئی کا کہنا تھا کہ بطور ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل ذمہ داری ادا کرنا میرے لیے اعزاز کی بات ہے، تاہم مزید اس پوسٹ پر کام جاری نہیں رکھ سکتا۔ اسلام ٹائمز۔ ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا محمد انعام یوسفزئی نے استعفا دے دیا۔ محمد انعام یوسفزئی کا کہنا تھا کہ بطور ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل ذمہ داری ادا کرنا میرے لیے اعزاز کی بات ہے، تاہم مزید اس پوسٹ پر کام جاری نہیں رکھ سکتا۔ مستعفی ہونے والے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل کا کہنا تھا کہ وزیر قانون اور سیکرٹری قانون کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔