گلگت بلتستان اسمبلی کی 5 سالہ مدت مکمل ہونے پر، وزیراعظم شہباز شریف نے ریٹائرڈ جسٹس یار محمد کو نگران وزیراعلیٰ مقرر کردیا ہے۔

گلگت بلتستان اسمبلی نے پیر اور منگل کی درمیانی شب اپنی 5 سالہ مدت مکمل کر لی۔ آخری اجلاس پیر کو اسمبلی ہال میں اسپیکر نذیر احمد ایڈووکیٹ کی صدارت میں منعقد ہوا، جس میں اراکین نے اکثریت سے 12 بل منظور کیے، جن میں جی بی ٹورزم ایڈونچر ٹورزم مینجمنٹ بل 2025 اور جی بی ٹوبیکو کنٹرول بل شامل ہیں۔ اجلاس میں اراکین نے 2 قراردادیں بھی متفقہ طور پر منظور کیں، جن میں ریسکیو 1122 اور لوکل کونسل کے کنٹریکٹ ملازمین کی مستقلی کا مطالبہ شامل تھا۔

اسپیکر نذیر احمد ایڈووکیٹ نے کہا کہ گلگت بلتستان میں جمہوری عمل ملک کے دیگر حصوں کے مقابلے میں دیر سے شروع ہوا، اور گزشتہ 5 سال کے دوران ارکان اسمبلی نے عوام کے مسائل حل کرنے کی بھرپور کوشش کی۔ انہوں نے کہا کہ اسمبلی کی کارروائیوں کو فطری انداز میں چلانا بعض اوقات مشکل رہا، جبکہ وزیر عبدالحمید نے ایوان کو بتایا کہ تعلیم اور صحت کے شعبے سنگین مسائل کا شکار ہیں اور خطہ صرف سیاحت کے شعبے کی ترقی کے ذریعے آگے بڑھ سکتا ہے۔

پیپلز پارٹی جی بی کے صدر اور رکن اسمبلی ایڈووکیٹ امجد حسین نے کہا کہ اراکین نے قانون سازی اور عملی اقدامات کے ذریعے عوام کی طرف سے دی گئی ذمہ داریاں پوری کرنے کی کوشش کی۔

5 سالہ پس منظر

گلگت بلتستان اسمبلی کے انتخابات 15 نومبر 2020 کو 24 حلقوں میں ہوئے تھے، جس کے بعد پی ٹی آئی نے حکومت تشکیل دی اور خالد خورشید وزیر اعلیٰ منتخب ہوئے۔ تاہم جولائی 2023 میں جی بی چیف کورٹ نے خالد خورشید کو نااہل قرار دیا۔ بعد ازاں پی ٹی آئی کے ناراض گروپ، پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے ارکان نے مخلوط حکومت بنائی اور حاجی گلبر خان کو نیا وزیر اعلیٰ منتخب کیا۔

ڈپٹی ڈائریکٹر اطلاعات عباس علی کے مطابق، اسمبلی نے 5 سالہ مدت کے دوران 63 ایکٹ منظور کیے، جن میں زرعی اصلاحات سے متعلق ایک اور 6 وفاقی ایکٹ شامل ہیں۔ اسمبلی نے مختلف مسائل پر 114 قراردادیں بھی منظور کیں، جن میں وفاقی حکومت سے گلگت بلتستان کو پاکستان کا عبوری صوبہ قرار دینے کا مطالبہ بھی شامل تھا۔ رخصت ہونے والے اراکین کے لیے اسپیکر نذیر احمد ایڈووکیٹ نے الوداعی تقریب کا بھی اہتمام کیا۔

نگران وزیر اعلیٰ کی تقرری

وزیراعظم ہاؤس کی جانب سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے گلگت بلتستان آرڈر 2018 کے آرٹیکل 48 اے(2) کے تحت ریٹائرڈ جسٹس یار محمد کو نگران وزیر اعلیٰ مقرر کیا ہے۔ نگران وزیر اعلیٰ اپنے منصب کا چارج سنبھالنے سے پہلے حلف اٹھائیں گے۔

جی بی آرڈر 2018 کے تحت نئے انتخابات 60 دن کے اندر کرانے لازمی ہیں۔ نگران وزیر اعلیٰ کے لیے ایک نام پر اتفاق رائے پیدا کرنے کی ذمہ داری وزیر اعلیٰ، اپوزیشن لیڈر اور وفاقی وزیر برائے امور کشمیر و گلگت بلتستان پر ہوتی ہے۔

وفاقی وزیر امور کشمیر و گلگت بلتستان امیر مقام نے کہا کہ اگر ایک نام پر اتفاق نہ ہوا تو تجویز شدہ نام وزیراعظم کو بھیجا جائے گا، جو جی بی کونسل کے چیئرمین کی حیثیت سے کسی موزوں شخص کو نامزد کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

جسٹس یار محمد گلگت بلتستان اسمبلی.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: جسٹس یار محمد گلگت بلتستان اسمبلی گلگت بلتستان اسمبلی نگران وزیر اعلی اسمبلی نے نے کہا کہ یار محمد سالہ مدت

پڑھیں:

کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن

الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔

اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔ 

الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔ 

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔ 

خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔ 

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔ 

خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔  

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • گلگت بلتستان میں موسلادھار بارشوں سے سیلابی تباہی، شاہراہیں اور پل بہہ گئے، ہزاروں افراد محصور : انتباہ جاری
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • مریم نواز کا اربن فلڈنگ اور سیلاب سے نمٹنے کے لیے وسائل بروئے کار لانے کا حکم
  • خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
  • کراچی: 6 سالہ بچی سے مبینہ زیادتی کرنے والا ملزم پولیس مقابلے میں مارا گیا