میئر کراچی کا سارے اداروں پر قبضہ، پھر بھی بچے گٹر میں گر رہے ہیں: جماعت اسلامی
اشاعت کی تاریخ: 1st, December 2025 GMT
کراچی(ڈیلی پاکستان آن لائن) امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ میئر کراچی نے سارے ادارے اپنے قبضے میں کر رکھے ہیں، کوئی اس شہر کا پرسان حال نہیں ہے۔
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق کراچی میں امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ بی آر ٹی کے نام پر شہریوں کی تذلیل کی جا رہی ہے، سندھ حکومت میں کرپشن بڑا کاروبار بن چکا ہے، ان کی سرپرستی کون کررہا ہے سب کو پتہ ہے، اس بی آر ٹی کے ڈیزائن میں بھی مسائل ہیں۔
حافظ نعیم الرحمان کا کہنا ہے کہ مطالبہ ہے بی آر ٹی پروجیکٹ ختم کیا جائے، یونیورسٹی روڈ کو بحال کیا جائے۔ فرضی ڈاکومنٹس پر گلشن اقبال میں گھر پر قبضہ کیا جا رہا ہے، کسی بھی شہری کے گھر پر کوئی قبضہ کرے گا تو جماعت اسلامی مزاحمت کرے گی، جماعت اسلامی نے سیل بنا دیا ہے۔
لاہور: درختوں کی کٹائی سے متعلق درخواست پر پی ایچ اے کو نوٹس جاری
ان کا کہنا تھا کہ زمینوں پر قبضے کے خلاف مزاحمت کی جائے گی، حکومت سسٹم چلانے والوں کو لگام دے، پاکستان میں ہر جگہ قبضہ ہوتا ہے، کسانوں، ہاریوں کی زمین پر قبضہ کر لیا جاتا ہے، دریائے راوی کے کنارے جعلی سوسائٹیاں بنی ہوئی ہیں، جعلی سوسائٹیاں بنتی ہیں، دریاؤں کے راستوں پر قبضہ کر لیا جاتا ہے، زمین پر قبضے کے خلاف جدوجہد بدل دو نظام کا اہم حصہ ہو گا۔
حافظ نعیم الرحمان کا کہنا ہے کہ ایم کیو ایم نورا کشتی لڑتی ہے، عوام کو بے وقوف بناتی ہے، کے ڈی اے، ایل ڈی اے، ایم ڈی اے پر جب قبضہ ہو رہا تھا ایم کیو ایم ان کے ساتھ کھڑی تھی، قبضہ گیروں کے خلاف مزاحمت کی جائے گی، کوئی اس شہر کا پرسان حال نہیں ہے، حالات کی ذمے داری حکومت پر ہے، کراچی کے شہریوں کو لاوارث نہیں چھوڑیں گے۔
ڈیرہ غازی خان میں پولیس اور واپڈا کے درمیان انوکھا فلمی تصادم، پورا علاقہ پریشان
انہوں نے کہا کہ چھوٹے کاشتکاروں کی زمین پر قبضہ کیا جاتا ہے، ہزار ارب روپے کراچی کو ملنے چاہئے تھے، مصطفیٰ کمال کے دور میں یہ شق ختم کی گئی، ایم کیو ایم اس وقت حکومت کا حصہ تھی۔
اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے منعم ظفر نے کہا کہ بچے گٹر میں گر رہے ہیں، مر رہے ہیں، انفرا سٹریکچر تباہ حال ہے، ہم اس واقعے کی مذمت کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ڈوبنے والے بچے کی لاش 12 گھنٹے بعد بھی تلاش نہیں کی جاسکی، افسوسناک واقعہ کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے، فون کالز کے باوجود کے ایم سی کہیں موجود نہیں تھی۔
ویڈیو: پی ایس ای آر کے تحت پنجاب بھر میں گھر گھر سروے شروع، مستقبل میں یہ سروے عوام کے لیے کتنا مفید؟ اہم تفصیلات جانیے
منعم ظفر نے بتایا کہ یوسی چیئرمین نے اس گڑھے کے حوالے سے29اکتوبر کو شکایت درج کرائی، ہمارے تمام ٹاؤنز چیئرمین آن بورڈ ہیں، جن محکموں کی ذمہ داری بنتی ہے ان کو کردارادا کرنا چاہیے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: حافظ نعیم الرحمان جماعت اسلامی نے کہا کہ
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ کی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش مسترد، 8 اسلامی ممالک کا اسرائیل کو فوری انتباہ
پاکستان سمیت 8 عرب اور اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ اور الحرم الشریف میں اسرائیلی اشتعال انگیز اقدامات کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی صریح خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ مشترکہ اعلامیے میں اسرائیل سے فوری طور پر ان اقدامات کو روکنے اور عالمی برادری سے مؤثر کردار ادا کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
پاکستان، مصر، ترکیہ، انڈونیشیا، اردن، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ (الحرم الشریف) میں اسرائیل کی حالیہ اشتعال انگیزی اور کشیدگی میں اضافے کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدامات بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور مقبوضہ مشرقی یروشلم میں مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔
پاکستان کے دفتر خارجہ کی جانب سے جاری مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ اسرائیلی فورسز کی سرپرستی میں انتہا پسند اسرائیلی وزراء کی قیادت میں یہودی آبادکاروں کی مسلسل اجتماعی دراندازی، مسجد اقصیٰ کے صحن میں اسرائیلی پرچم لہرانا، اسرائیلی پولیس کی جانب سے دو خیمے نصب کرنا اور دیگر اشتعال انگیز اقدامات نہایت خطرناک اور ناقابل قبول ہیں۔
وزرائے خارجہ نے اسرائیلی انتہا پسند وزراء اور گروہوں کی جانب سے اشتعال انگیزی، مسجد اقصیٰ میں دراندازی پر اکسانے اور تشدد پر مبنی بیانات کی بھی شدید مذمت کی۔ اعلامیے میں خبردار کیا گیا کہ ایسے اقدامات نفرت اور انتہا پسندی کو فروغ دیتے ہیں اور دو ریاستی حل کی بنیاد پر منصفانہ اور پائیدار امن کی کوششوں کو نقصان پہنچاتے ہیں۔
مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ یروشلم کے قدیم شہر اور اس کے مذہبی مقامات تک رسائی پر پابندیاں، خصوصاً مسلمانوں اور دیگر عبادت گزاروں کے ساتھ امتیازی سلوک، بین الاقوامی قانون اور بین الاقوامی انسانی قانون کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ یہ اقدامات مقدس مقامات کی تاریخی اور قانونی حیثیت کو تبدیل کرنے کی ایک غیرقانونی کوشش ہیں۔
وزرائے خارجہ نے واضح کیا کہ اسرائیل کو مقبوضہ یروشلم یا وہاں موجود اسلامی اور مسیحی مقدس مقامات پر کسی قسم کی خودمختاری حاصل نہیں۔
اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ اسرائیل بطور قابض طاقت مقبوضہ مشرقی یروشلم کی تاریخی، قانونی اور آبادیاتی حیثیت تبدیل کرنے کے لیے منظم اقدامات کر رہا ہے، جو اسلامی اور مسیحی مقدس مقامات کے تقدس اور حیثیت کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہیں۔
آٹھوں ممالک نے یروشلم اور اس کے اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کی تاریخی اور قانونی حیثیت میں کسی بھی قسم کی تبدیلی کی کوشش کو دوٹوک انداز میں مسترد کرتے ہوئے اس حیثیت کے تحفظ پر زور دیا۔ اعلامیے میں مقدس مقامات کی نگرانی کے حوالے سے ہاشمی سرپرستی کے خصوصی کردار کو بھی تسلیم کیا گیا۔
مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ/الحرم الشریف کا پورا 144 دونم (تقریباً 35 ایکڑ) رقبہ صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے۔ مزید کہا گیا کہ اردن کی وزارت اوقاف و اسلامی امور کے ماتحت یروشلم اوقاف اور مسجد اقصیٰ امور کا محکمہ ہی وہ واحد قانونی ادارہ ہے جو مسجد اقصیٰ کے انتظام و انصرام اور وہاں داخلے کے معاملات کا مجاز ہے۔
وزرائے خارجہ نے اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ وہ بطور قابض طاقت فوری طور پر یروشلم کے قدیم شہر میں عائد تمام پابندیاں ختم کرے، مسجد اقصیٰ میں مسلمانوں کی عبادت میں رکاوٹ ڈالنے سے باز آئے اور مقدس مقامات کے تقدس کا احترام کرے۔
مشترکہ اعلامیے میں عالمی برادری سے بھی مطالبہ کیا گیا کہ وہ اسرائیل کو یروشلم میں اسلامی اور مسیحی مقدس مقامات کے خلاف جاری غیرقانونی اقدامات اور خلاف ورزیوں سے باز رکھنے کے لیے واضح، مضبوط اور مؤثر موقف اختیار کرے، تاکہ مقدس مقامات کی حرمت اور تاریخی حیثیت کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں