پی آئی اے کے بین الاقوامی نیٹ ورک میں توسیع، کراچی سے ریاض نئی پرواز شامل
اشاعت کی تاریخ: 1st, December 2025 GMT
پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز نے سعودی عرب کے لیے اپنے فضائی نیٹ ورک میں توسیع کرتے ہوئے کراچی اور ریاض کے درمیان نئی ہفتہ وار پرواز شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔
ترجمان پی آئی اے کے مطابق مذکورہ روٹ پر قومی ایئرلائن 2 جنوری 2026 سے پرواز کا آغاز کرے گی۔
From January 2, 2026, PIA starting once-a-week flight between Karachi and Riyadh with Airbus A320.
— Pakistan Aviation News ???????? (@avpak3) November 28, 2025
قومی ایئرلائن اس وقت اسلام آباد اور لاہور سے ریاض کے لیے پروازیں چلا رہی ہے۔
کراچی سے ریاض سروس کا مقصد کاروباری افراد، تارکینِ وطن ملازمین اور ان خاندانوں کے لیے سہولت پیدا کرنا ہے جو دونوں شہروں کے درمیان باقاعدگی سے سفر کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم شہباز شریف کی پی آئی اے نجکاری کا عمل تیز کرنے کی ہدایت
پی آئی اے کے عہدیداران کا کہنا ہے کہ یہ نیا اضافہ ایئرلائن کے اس وسیع منصوبے کا حصہ ہے جس کے تحت بین الاقوامی رابطوں کو مضبوط بنایا جارہا ہے۔
مسافروں کا اعتماد بحال کرنے کے لیے روٹ نیٹ ورک میں مسلسل بہتری لائی جارہی ہے۔
مزید پڑھیں:
کراچی سے ریاض جانے والی پرواز PK729 ایئر بس A320 طیارے سے ہوگی اور اس میں تقریباً 4 گھنٹے کا وقت لگے گا۔
واپسی کی پرواز PK730 ہر ہفتے ہفتہ کی صبح 12:05 بجے ریاض سے کراچی کے لیے روانہ ہوگی، اور یہ بھی ایئر بس A320 طیارے سے تقریباً 4 گھنٹے میں مکمل ہوگی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بین الاقوامی پی آئی اے ریاض کراچی نیٹ ورک
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بین الاقوامی پی ا ئی اے ریاض کراچی نیٹ ورک نیٹ ورک سے ریاض کے لیے
پڑھیں:
پنجاب بھر میں دفعہ 144 کے نفاذ میں توسیع
لاہور: پنجاب بھر میں دفعہ 144 کے نفاذ میں توسیع کردی گئی۔محکمہ داخلہ پنجاب کے مطابق صوبہ بھر میں کھلی فضا میں ڈرون اُڑانے پر مکمل پابندی برقرار ہے، دفعہ 144 کے تحت آؤٹ ڈور ڈرون اڑانے پر عائد پابندی میں 30 روز کی توسیع کر دی گئی ہے۔حکومت پنجاب نے یہ فیصلہ سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر کیا ہے۔اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ہالز اور مارکیز کے اندر تقریبات کے دوران چھوٹے ڈرون کے محدود استعمال کی اجازت ہے، جبکہ اندرونی تقریبات میں ڈرون کے محفوظ استعمال کی ذمہ داری منتظمین پر عائد ہوگی۔حکومتی ہدایت کے مطابق قانون نافذ کرنے والے ادارے اور انٹیلیجنس ایجنسیاں اس پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی اور وہ اپنے فرائض کے مطابق ڈرون سمیت دیگر ٹیکنالوجی استعمال کر سکیں گی۔