فلسطینی ریاست کا قیام ایک تاریخی حق ہے، مصر
اشاعت کی تاریخ: 29th, November 2025 GMT
اپنے ایک جاری بیان میں مصری وزارت خارجہ کا کہنا تھا کہ فلسطینیوں کے حقوق کے تحفظ اور علاقائی استحکام کیلئے امریکی صدر "ڈونلڈ ٹرمپ" کے اعلان کردہ منصوبے کو مکمل طور پر نافذ کرنے کیلئے امریکی و علاقائی شراکت داروں کے ساتھ مسلسل رابطے و ہم آہنگی کو پروان چڑھایا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ مصر کی وزارت خارجہ نے فلسطینی عوام کے ساتھ عالمی یکجہتی کے دن کے موقع پر ایک بیان جاری کیا۔ جس میں فلسطینی عوام کو 4 جون 1967ء کی سرحدوں کے مطابق، مشرقی یروشلم کو دارالحکومت قرار دیتے ہوئے اپنی تقدیر کا فیصلہ کرنے اور آزاد ریاست قائم کرنے کے حق پر زور دیا گیا۔ اس حوالے سے مصری وزارت خارجہ نے موقف اپنایا کہ یہ صرف ایک سیاسی مطالبہ نہیں بلکہ بین الاقوامی قوانین کی رو سے ایک تاریخی حق ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ فلسطینی عوام کے ساتھ عالمی یکجہتی کا دن، محض ایک سالانہ تقریب نہیں بلکہ یہ انصاف کی اقدار کو زندہ کرنے، فلسطینی عوام اور ان کے بنیادی حقوق کے حوالے سے بین الاقوامی اخلاقی و سیاسی عہد کی تجدید کا موقع ہے۔
اپنے جاری بیان میں مصر کی وزارت خارجہ نے غزہ کی پٹی میں جنگ بندی کو مستحکم کرنے کی نصیحت کی۔ انہوں نے کہا کہ غزہ میں سلامتی کونسل کی قرارداد 2720 اور شرم الشیخ امن اجلاس میں طے کردہ شرائط کے تناظر میں بلامشروط انسانی امداد کی رسائی کو یقینی بنایا جائے۔ مصر نے اس بات پر بھی زور دیا کہ فلسطینیوں کے حقوق کے تحفظ اور علاقائی استحکام کے لیے امریکی صدر "ڈونلڈ ٹرمپ" کے اعلان کردہ منصوبے کو مکمل طور پر نافذ کرنے کے لئے امریکی و علاقائی شراکت داروں کے ساتھ مسلسل رابطے و ہم آہنگی کو پروان چڑھایا جائے۔ مذکورہ جاری بیان میں فلسطینی اتھارٹی کے کلیدی کردار کو زندہ رکھنے کا مطالبہ کیا گیا۔ نیز کسی بھی پائیدار معاہدے کی صورت میں فلسطینی علاقائی وحدت باقی رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: فلسطینی عوام کے ساتھ
پڑھیں:
رائل کمیشن کی مکہ کے تاریخی ورثے کے تحفظ اور فروغ کے لیے اہم پیشرفت
مکہ مکرمہ اور مشاعر مقدسہ کے لیے قائم رائل کمیشن نے شہر کے تاریخی اور ثقافتی ورثے کو اجاگر کرنے کے لیے ایک نئی آگاہی مہم کا آغاز کیا ہے۔
مذکورہ مہم کا مقصد زائرین اور سیاحوں کو مکہ کے تاریخی مقامات، ان کی مذہبی، تہذیبی اور تمدنی اہمیت سے روشناس کرانا اور انہیں شہر کے عظیم ورثے سے مزید قریب لانا ہے۔
سعودی پریس ایجنسی کے مطابق، یہ تمام اقدامات سعودی وژن 2030 کے اہداف سے ہم آہنگ ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سعودی ایپ ’ہُدہُد‘ عمرہ زائرین کے لیے جدید رہنما بن گئی، مکہ کے مذہبی و تاریخی مقامات تک رسائی آسان
’یہ مہم رائل کمیشن کی اس حکمت عملی کا حصہ ہے جس کا مقصد تاریخی ورثے کا تحفظ، ثقافتی اقدار کو فروغ دینا اور تاریخی مقامات کو پائیدار تعلیمی اور ثقافتی مراکز میں تبدیل کرنا ہے۔‘
رائل کمیشن کے مطابق اس حکمت عملی کے تحت درجنوں تاریخی مقامات کی بحالی اور ترقی کا کام مکمل کیا جا چکا ہے، جبکہ مکہ کے 60 اہم تاریخی مقامات کی دستاویز بندی بھی کی گئی ہے۔
مزید پڑھیں: مکہ میں ام القریٰ یونیورسٹی کا انقلابی ڈیجیٹل کلچرل منصوبہ، حجاج اور عمرہ زائرین کا سفر اب مزید یادگار
اس کے علاوہ 27 تاریخی مقامات عوام اور زائرین کے لیے کھولے جا چکے ہیں اور سات وزیٹر سینٹرز بھی قائم کیے گئے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق اب تک ایک کروڑ 75 لاکھ سے زائد افراد ان تاریخی مقامات کا دورہ کر چکے ہیں، جبکہ زائرین کی اطمینان کی شرح 97.5 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے۔
مذکورہ اعدادوشمار فراہم کی جانے والی سہولیات اور تاریخی ورثے کے تحفظ و ترقی کے اقدامات کی کامیابی کی عکاسی کرتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
تاریخی مقامات تاریخی ورثے رائل کمیشن زائرین سعودی پریس ایجنسی سعودی عرب سعودی وژن سیاح مکہ مکرمہ