چینی افواج کی ہوانگ یئن جزیرے کے علاقائی پانیوں اور فضائی حدود میں جنگی تیاریوں کے تحت نگرانی
اشاعت کی تاریخ: 29th, November 2025 GMT
چینی افواج کی ہوانگ یئن جزیرے کے علاقائی پانیوں اور فضائی حدود میں جنگی تیاریوں کے تحت نگرانی WhatsAppFacebookTwitter 0 29 November, 2025 سب نیوز
بیجنگ :عوامی جمہوریہ چین کی پیپلز لبریشن آرمی کے سدرن تھیٹر ن کمانڈ نے ہوانگ یئن جزیرے اور اس کے ملحقہ علاقوں میں بحری و فضائی دستوں کے ذریعے جنگی تیاریوں کے تحت پٹرولنگ کا اہتمام کیا۔
ہفتہ کے روز چینی میڈیا کے مطابق نومبر کے مہینے کے دوران، تھیٹر کمانڈ کی افواج نے ہوانگ یئن جزیرے کے آس پاس کے علاقوں میں بحری اور فضائی پٹرولنگ کو مسلسل مضبوط کیا، متعلقہ بحری و فضائی حدود پر کنٹرول مزید مضبوط کیا، قومی خودمختاری اور سلامتی کا تحفظ یقینی بنایا گیا،
اور بحیرہ جنوبی چین میں امن و استحکام برقرار رکھا۔چائنا کوسٹ گارڈ نے چین کے ہوانگ یئن جزیرے اور اس کے آس پاس کے علاقائی پانیوں میں قانون نافذ کرنے والے گشت کا انعقاد کیا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرہانگ کانگ میں آگ لگنے سے ہلاک ہونے والوں کے لیے تعزیتی تقریبات کا انعقاد ہانگ کانگ میں آگ لگنے سے ہلاک ہونے والوں کے لیے تعزیتی تقریبات کا انعقاد وائٹ ہاؤس فائرنگ کے افغان ملزم کو سیاسی پناہ کس نے دی؟ اہم انکشاف افغان پاسپورٹس پر امریکی ویزے اور اسائلم کی درخواستوں پر کام بند اسرائیل کا حماس کی سرنگوں میں اب تک 30 فلسطینیوں کو شہید کرنے کا دعویٰ تاجکستان میں چینی شہریوں کی ہلاکت، چین کی شہریوں کو سرحدی علاقے سے فوری انخلاکی ہدایت ہانگ کانگ میں رہائشی کمپلیکس میں لگی آگ بجھانے اور سرچ اینڈ ریسکیو کی کارروائیاں مکملCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: ہوانگ یئن جزیرے
پڑھیں:
عباس عراقچی شنگھائی تعاون تنظیم کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے کرغزستان پہنچ گئے
بشکیک: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے کرغزستان پہنچ گئے، جہاں رکن ممالک کے وزرائے خارجہ اہم علاقائی اور بین الاقوامی امور پر تبادلہ خیال کر رہے ہیں۔
اجلاس کی میزبان ریاست کرغزستان کے وزیر خارجہ نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا استقبال کیا۔ اس موقع پر مختلف رکن ممالک کے نمائندے بھی موجود تھے۔
شنگھائی تعاون تنظیم کے اس سالانہ اجلاس میں چین، روس، پاکستان، بھارت، ایران اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ شریک ہیں۔ اجلاس میں خطے کی سکیورٹی، اقتصادی تعاون، انسداد دہشت گردی، علاقائی روابط اور باہمی شراکت داری سمیت مختلف اہم موضوعات پر بات چیت کی جا رہی ہے۔
عباس عراقچی نے اجلاس کے موقع پر ایک گروپ تصویر بھی جاری کی، جس میں وہ چین کے وزیر خارجہ وانگ ای، روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ کے ہمراہ اپنے اپنے قومی پرچموں کے سامنے موجود ہیں۔
شنگھائی تعاون تنظیم ایک اہم کثیرالجہتی علاقائی تنظیم ہے، جس کا مقصد رکن ممالک کے درمیان باہمی اعتماد کو فروغ دینا، اقتصادی تعاون کو مضبوط بنانا اور خطے کو درپیش مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تعاون بڑھانا ہے۔
اگرچہ تنظیم سکیورٹی اور علاقائی استحکام کے معاملات پر بھی توجہ دیتی ہے، تاہم یہ کسی فوجی یا دفاعی اتحاد کی حیثیت نہیں رکھتی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایسے وقت میں جب خطے میں جغرافیائی سیاسی کشیدگی برقرار ہے، شنگھائی تعاون تنظیم کا یہ اجلاس رکن ممالک کے درمیان سفارتی رابطوں اور تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔