پنجاب پولیس میں افسران و جوانوں کی ذہنی و جسمانی ہیلتھ اسکریننگ کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 1st, December 2025 GMT
پنجاب پولیس میں افسران و جوانوں کی ذہنی و جسمانی ہیلتھ اسکریننگ کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق ڈی آئی جی اسٹیبلشمنٹ پنجاب ون نے صوبے بھر کے پولیس حکام کو مراسلہ ارسال کردیا ہے جس میں پولیس فورس میں بڑھتے ذہنی و جسمانی دباؤ پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔
پولیسں افسران و جوان جرائم پیشہ عناصر سے نمٹنے اور سخت ڈیوٹی شیڈول انتظامی ،معاشی سماجی و سیاسی معاملات کے باعث مسلسل دباؤ میں رہنے سے ذہنی مسائل کا شکار ہوجاتے ہیں۔ شیزوفرینیا، ڈپریشن، بائی پولر ڈس آرڈر سمیت متعدد امراض کا خطرہ رہتا ہے۔
لہذا تمام اضلاع و یونٹس میں منظم زہنی ہیلتھ اسکریننگ لازمی قرار دی جارہی ہے جبکہ کانسٹیبل سے اعلی افسر تک ہر رینک کی اسکریننگ کا شیڈول جاری کیا گیا ہے۔ انسپکٹر، ایس آئی، ڈی ایس پی، ایس پی ڈی آئی جی کی اسکریننگ سینئر افسران کی نگرانی میں ہوگی۔
علاوہ ازیں ہر انچارج اپنے عملے کا انفرادی انٹرویو کرکے اسسمنٹ کریں اور مشتبہ کیسز کی مزید تشخیص ضلعی ہسپتال کے سائیکاٹرسٹ سے کرائی جائے۔
مراسلے میں ہدایت دی گئیں کہ صوبے بھر سے جامع اسکریننگ رپورٹس 15 دسمبر تک سینٹرل پولیس آفس پنجاب بھجوائی جائیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
پنجاب بھر میں دفعہ 144 کے نفاذ میں توسیع
لاہور: پنجاب بھر میں دفعہ 144 کے نفاذ میں توسیع کردی گئی۔محکمہ داخلہ پنجاب کے مطابق صوبہ بھر میں کھلی فضا میں ڈرون اُڑانے پر مکمل پابندی برقرار ہے، دفعہ 144 کے تحت آؤٹ ڈور ڈرون اڑانے پر عائد پابندی میں 30 روز کی توسیع کر دی گئی ہے۔حکومت پنجاب نے یہ فیصلہ سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر کیا ہے۔اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ہالز اور مارکیز کے اندر تقریبات کے دوران چھوٹے ڈرون کے محدود استعمال کی اجازت ہے، جبکہ اندرونی تقریبات میں ڈرون کے محفوظ استعمال کی ذمہ داری منتظمین پر عائد ہوگی۔حکومتی ہدایت کے مطابق قانون نافذ کرنے والے ادارے اور انٹیلیجنس ایجنسیاں اس پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی اور وہ اپنے فرائض کے مطابق ڈرون سمیت دیگر ٹیکنالوجی استعمال کر سکیں گی۔