حسینہ واجد کے انتقام کا نشانہ بننے والے افسران کو فراہمی انصاف کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 30th, November 2025 GMT
بنگلادیش کے چیف ایڈوائزر پروفیسر محمد یونس نے یقین دہانی کرائی ہے کہ حکومت سابقہ انتظامیہ کے دور میں امتیازی سلوک، زیادتی اور ناانصافی کا شکار ہونے والے فوج، نیوی اور فضائیہ کے افسران کے ساتھ انصاف کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ یہ افسران دیگر محروم سرکاری ملازمین کی طرح انصاف کے مستحق ہیں اور ان کے حقوق بحال کیے جائیں گے۔
یہ بھی پڑھیں:شیخ حسینہ واجد کی حوالگی، بھارت نے بنگلہ دیش کی درخواست پر غور شروع کردیا
یہ بیان اس موقع پر دیا گیا جب ایک کمیٹی نے ریٹائر اور برطرف افسران کی شکایات پر مشتمل رپورٹ پیش کی، جو 2009 سے 4 اگست 2024 تک خدمات انجام دے چکے تھے۔
ان شکایات میں امتیازی سلوک، غلط برطرفی، اور سیاسی بنیادوں پر کارروائی کے الزامات شامل تھے۔ پروفیسر یونس نے کہا کہ جب میں نے آپ کو یہ کام سونپا تھا، تو مجھے لگا کہ چند معمولی خلاف ورزیاں سامنے آئیں گی، لیکن جو تفصیلی جائزہ آپ نے پیش کیا، وہ واقعی تشویشناک ہے اور ہماری توقع سے کہیں زیادہ ہے۔
کمیٹی کی تشکیل اور کام
کمیٹی کی قیادت ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل عبدالحفیظ نے کی، جو چیف ایڈوائزر کے خصوصی معاون برائے دفاع اور قومی ہم آہنگی ہیں۔ دیگر ارکان میں میجر جنرل (ریٹائرڈ) محمد شمس الحق، میجر جنرل (ریٹائرڈ) شیخ پاشا حبیب الدین، ریئر ایڈمرل (ریٹائرڈ) محمد شفیع الاسلام اور ایئر وائس مارشل (ریٹائرڈ) محمد شفقات علی شامل تھے۔
کمیٹی کو مجموعی طور پر 733 درخواستیں موصول ہوئیں، جن میں سے 145 کیسز کی سفارشات کے لیے اہل قرار دی گئیں۔ کمیٹی نے سرکاری ریکارڈ، درخواست دہندگان کی فراہم کردہ اضافی معلومات اور افسران کے ساتھ براہِ راست انٹرویوز کی بنیاد پر سفارشات تیار کیں۔ بعض صورتوں میں سابقہ کمانڈروں اور اعلیٰ افسران سے بھی رابطہ کیا گیا تاکہ زیادتی کے الزامات کی تصدیق کی جا سکے۔
سنگین نتائج
تحقیقات کے دوران معلوم ہوا کہ چھ افسران کو ان کے اہل خانہ کی سیاسی وابستگی یا مشتبہ انتہا پسند روابط کی بنیاد پر ایک سے آٹھ سال تک غیر قانونی طور پر قید کیا گیا۔ ایک ریٹائرڈ افسر کو غلط طور پر انتہا پسند قرار دینے کے بعد قتل کیا گیا، اور اس کی بیوی اور ایک سالہ بچہ بغیر مقدمے کے چھ سال تک قید میں رہے۔
یہ بھی پڑھیں:حسینہ واجد کے بینک لاکرز سے برآمد ہونے والا 10 کلو سونا ضبط
کئی افسران جنہوں نے 2009 کے بی ڈی آر بغاوت کے دوران حکومت کی خاموشی پر تنقید کی، کو نشانہ بنایا گیا، جن میں 5 کو فرضی مقدمے میں تشدد کا سامنا کرنا پڑا۔ 5 افسران کو 1/11 کی عبوری حکومت کے دوران ڈی جی ایف آئی میں خدمات کے دوران بغیر الزامات یا جھوٹے الزامات پر برطرف کیا گیا۔ 4 جونیئر افسران (لیفٹیننٹ) کو مذہبی اصولوں پر سختی سے عمل کرنے کی وجہ سے برطرف کیا گیا، جسے غلط طور پر کسی گروپ یا انتہا پسند نظریے سے وابستگی قرار دیا گیا۔
کمیٹی کی سفارشات
کمیٹی نے اپنی تحقیقات کی روشنی میں جو سفارشات پیش کیں، ان کے مطابق بری فوج کے 114 افسران کے لیے مختلف نوعیت کے ریلیف اقدامات تجویز کیے گئے ہیں، جن میں ریٹائرمنٹ فوائد کی بحالی، سروس اور پری ریٹائرمنٹ پروموشنز، مالی بقایا جات کی ادائیگی اور جہاں ممکن ہو چار افسران کی سروس میں بحالی شامل ہے۔
اسی طرح بنگلہ دیش نیوی کے 19 اور فضائیہ کے 12 افسران کے لیے بھی ریلیف کی سفارش کی گئی ہے، جن میں ریٹائرمنٹ فوائد، ترقیوں کی بحالی اور مالی واجبات کی ادائیگی شامل ہیں۔
کمیٹی کے اجلاس میں محمد اشرف الدین اور چیف ایڈوائزر کے ملٹری سیکریٹری میجر جنرل ابول حسن محمد طارق بھی موجود تھے۔ یہ اقدام سابقہ حکومت کے دور میں مسلح افواج کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں کی تحقیقات اور متاثرہ افسران کو انصاف فراہم کرنے کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بنگلہ دیش بنگلہ دیش آرمی بنگلہ دیش فضائیہ بنگلہ دیش نیوی حسینہ واجد ڈاکٹریونس.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بنگلہ دیش بنگلہ دیش ا رمی بنگلہ دیش فضائیہ بنگلہ دیش نیوی حسینہ واجد ڈاکٹریونس حسینہ واجد افسران کے بنگلہ دیش افسران کو کے دوران کیا گیا کے لیے
پڑھیں:
کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج
کراچی:شہر قائد میں گلشن معمار پولیس نے نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا مقدمہ والد کی مدعیت میں درج کرلیا۔
اس حوالے سے مدعی مقدمہ جاوید اقبال نے پولیس کو بیان دیا ہے کہ بہادر گوٹھ میں کارپٹ کی دکان پر کام کرتا ہوں جبکہ اہلیہ گھریلو ملازمہ ہے۔
23 جولائی کو میں اور اہلیہ صبح 9 بجے اپنے اپنے کام پر چلے گئے جبکہ گھر پر 18 سالہ بیٹی اکیلی تھی۔
مدعی کے مطابق صبح سوا نو بجے 2 لڑکے ہمارے گھر میں زبردستی داخل ہوئے جو کہ شلوار قمیض پہنے ہوئے تھے جبکہ سامنے آنے پر میری بیٹی انھیں شناخت کر سکتی ہے۔
مدعی کے مطابق دونوں نے میری بیٹی کو پکڑا اور کمرے میں لیجا کر اس کے ساتھ زیادتی کی اور موقع سے فرار ہوگئے۔
واقعے کے بعد میری بیٹی نے بذریعہ فون مجھے اطلاع دی جس کے بعد میں اور میری اہلیہ گھر پہنچ گئے۔
واقعے کی مدد گار 15 پولیس کو اطلاع دی جو موقع پر پہنچ گئی، مدعی کے مطابق میرا دعویٰ 2 نامعلوم صورت شناس لڑکوں پر میرے گھر میں گھس کر بیٹی کو زیادتی کا نشانہ بنانے کا ہے لہذا قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
گلشن معمار پولیس نے نوجوان لڑکی کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا مقدمہ نمبر 356 سال 2026 بجرم دفعہ 376 چونتیس کے تحت درج کر کے مزید تفتیش کے لیے انویسٹی گیشن پولیس کے حوالے کر دیا ۔