بنگلادیش کے چیف ایڈوائزر پروفیسر محمد یونس نے یقین دہانی کرائی ہے کہ حکومت سابقہ انتظامیہ کے دور میں امتیازی سلوک، زیادتی اور ناانصافی کا شکار ہونے والے فوج، نیوی اور فضائیہ کے افسران کے ساتھ انصاف کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ یہ افسران دیگر محروم سرکاری ملازمین کی طرح انصاف کے مستحق ہیں اور ان کے حقوق بحال کیے جائیں گے۔

یہ بھی پڑھیں:شیخ حسینہ واجد کی حوالگی، بھارت نے بنگلہ دیش کی درخواست پر غور شروع کردیا

یہ بیان اس موقع پر دیا گیا جب ایک کمیٹی نے ریٹائر اور برطرف افسران کی شکایات پر مشتمل رپورٹ پیش کی، جو 2009 سے 4 اگست 2024 تک خدمات انجام دے چکے تھے۔

ان شکایات میں امتیازی سلوک، غلط برطرفی، اور سیاسی بنیادوں پر کارروائی کے الزامات شامل تھے۔ پروفیسر یونس نے کہا کہ جب میں نے آپ کو یہ کام سونپا تھا، تو مجھے لگا کہ چند معمولی خلاف ورزیاں سامنے آئیں گی، لیکن جو تفصیلی جائزہ آپ نے پیش کیا، وہ واقعی تشویشناک ہے اور ہماری توقع سے کہیں زیادہ ہے۔

کمیٹی کی تشکیل اور کام

کمیٹی کی قیادت ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل عبدالحفیظ نے کی، جو چیف ایڈوائزر کے خصوصی معاون برائے دفاع اور قومی ہم آہنگی ہیں۔ دیگر ارکان میں میجر جنرل (ریٹائرڈ) محمد شمس الحق، میجر جنرل (ریٹائرڈ) شیخ پاشا حبیب الدین، ریئر ایڈمرل (ریٹائرڈ) محمد شفیع الاسلام اور ایئر وائس مارشل (ریٹائرڈ) محمد شفقات علی شامل تھے۔

کمیٹی کو مجموعی طور پر 733 درخواستیں موصول ہوئیں، جن میں سے 145 کیسز کی سفارشات کے لیے اہل قرار دی گئیں۔ کمیٹی نے سرکاری ریکارڈ، درخواست دہندگان کی فراہم کردہ اضافی معلومات اور افسران کے ساتھ براہِ راست انٹرویوز کی بنیاد پر سفارشات تیار کیں۔ بعض صورتوں میں سابقہ کمانڈروں اور اعلیٰ افسران سے بھی رابطہ کیا گیا تاکہ زیادتی کے الزامات کی تصدیق کی جا سکے۔

سنگین نتائج

تحقیقات کے دوران معلوم ہوا کہ چھ افسران کو ان کے اہل خانہ کی سیاسی وابستگی یا مشتبہ انتہا پسند روابط کی بنیاد پر ایک سے آٹھ سال تک غیر قانونی طور پر قید کیا گیا۔ ایک ریٹائرڈ افسر کو غلط طور پر انتہا پسند قرار دینے کے بعد قتل کیا گیا، اور اس کی بیوی اور ایک سالہ بچہ بغیر مقدمے کے چھ سال تک قید میں رہے۔

یہ بھی پڑھیں:حسینہ واجد کے بینک لاکرز سے برآمد ہونے والا 10 کلو سونا ضبط

کئی افسران جنہوں نے 2009 کے بی ڈی آر بغاوت کے دوران حکومت کی خاموشی پر تنقید کی، کو نشانہ بنایا گیا، جن میں 5 کو فرضی مقدمے میں تشدد کا سامنا کرنا پڑا۔ 5 افسران کو 1/11 کی عبوری حکومت کے دوران ڈی جی ایف آئی میں خدمات کے دوران بغیر الزامات یا جھوٹے الزامات پر برطرف کیا گیا۔ 4 جونیئر افسران (لیفٹیننٹ) کو مذہبی اصولوں پر سختی سے عمل کرنے کی وجہ سے برطرف کیا گیا، جسے غلط طور پر کسی گروپ یا انتہا پسند نظریے سے وابستگی قرار دیا گیا۔

کمیٹی کی سفارشات

کمیٹی نے اپنی تحقیقات کی روشنی میں جو سفارشات پیش کیں، ان کے مطابق بری فوج کے 114 افسران کے لیے مختلف نوعیت کے ریلیف اقدامات تجویز کیے گئے ہیں، جن میں ریٹائرمنٹ فوائد کی بحالی، سروس اور پری ریٹائرمنٹ پروموشنز، مالی بقایا جات کی ادائیگی اور جہاں ممکن ہو چار افسران کی سروس میں بحالی شامل ہے۔

اسی طرح بنگلہ دیش نیوی کے 19 اور فضائیہ کے 12 افسران کے لیے بھی ریلیف کی سفارش کی گئی ہے، جن میں ریٹائرمنٹ فوائد، ترقیوں کی بحالی اور مالی واجبات کی ادائیگی شامل ہیں۔

کمیٹی کے اجلاس میں محمد اشرف الدین اور چیف ایڈوائزر کے ملٹری سیکریٹری میجر جنرل ابول حسن محمد طارق بھی موجود تھے۔ یہ اقدام سابقہ حکومت کے دور میں مسلح افواج کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں کی تحقیقات اور متاثرہ افسران کو انصاف فراہم کرنے کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

بنگلہ دیش بنگلہ دیش آرمی بنگلہ دیش فضائیہ بنگلہ دیش نیوی حسینہ واجد ڈاکٹریونس.

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: بنگلہ دیش بنگلہ دیش ا رمی بنگلہ دیش فضائیہ بنگلہ دیش نیوی حسینہ واجد ڈاکٹریونس حسینہ واجد افسران کے بنگلہ دیش افسران کو کے دوران کیا گیا کے لیے

پڑھیں:

امریکا سے مزید 39 بنگلہ دیشی واپس، ہر فرد نے 30 سے 35 لاکھ ٹکا خرچ کیے

امریکا سے مزید 39 بنگلہ دیشی باشندے خصوصی امریکی فوجی پرواز کے ذریعے واپس ڈھاکا پہنچے ہیں۔ یہ پرواز جمعہ کی صبح قریباً 5:30 بجے حضرت شاہ جلال انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر اتری، جہاں ایئرپورٹ حکام کے تعاون سے واپسی آنے والوں کو ہنگامی مدد اور نقل و حمل کی سہولت فراہم کی۔

بنگلہ دیش مائیگریشن پروگرام کے مطابق، واپس آنے والوں میں سے 26 افراد نواخالی کے ہیں۔ باقی افراد میں کوملا، سلہٹ، فینی اور لکشمی پور سے دو دو، جبکہ چٹگرام، غازی پور، ڈھاکا، منشی گنج اور نرسنگدی سے ایک ایک شامل ہے۔ اس گروپ کی واپسی کے ساتھ، امسال امریکا سے واپس آنے والے بنگلہ دیشیوں کی تعداد 187 تک پہنچ گئی ہے۔

مزید پڑھیں:چین کا بنگلہ دیش میں پٹ سن پر منحصر صنعتوں میں بڑی سرمایہ کاری کا عندیہ

حکام نے بتایا کہ ان 39 افراد میں سے کم از کم 34 نے برازیل جانے کے لیے قانونی اجازت لی تھی، لیکن وہاں سے غیر قانونی طور پر میکسیکو کے راستے امریکا پہنچنے کی کوشش کی۔ باقی 5 افراد میں سے 2 براہ راست امریکا گئے جبکہ 3 نے جنوبی افریقہ کے راستے امریکا کا سفر کیا۔ تمام افراد نے امریکا میں رہائش کے لیے درخواست دی، لیکن قانونی کارروائی کے بعد امریکی حکام نے انہیں ملک بدر کرنے کا حکم دیا۔

مائیگریشن اور یوتھ پلیٹ فارم کے ایسوسی ایٹ ڈائریکٹر شریف الحسن نے سوال اٹھایا کہ جب یہ افراد قانونی طور پر برازیل جا سکتے تھے تو یہ بات کیوں نظر انداز کی گئی کہ وہ امریکا جانے کے لیے اسے عبوری راستہ استعمال کر رہے تھے۔

انہوں نے کہا کہ ہر فرد نے 30 سے 35 لاکھ ٹکا صرف کیا اور بالآخر خالی ہاتھ واپس آئے۔ اس کے ذمہ دار کون ہیں؟ انہوں نے مزید کہا کہ بھرتی کرنے والی ایجنسیاں اور اجازت دینے والے حکام جواب دہ ہوں، اور حکومت کو نئے ملازمین کو برازیل بھیجنے سے پہلے اپنی کارروائی کے طریقہ کار کا جائزہ لینا چاہیے۔

ایئرپورٹ ذرائع اور واپس آنے والے افراد نے بتایا کہ اس سال کے پہلے گروپوں کے مقابلے میں، جنہیں ہاتھوں اور پیروں میں زنجیروں کے ساتھ واپس بھیجا گیا تھا، اس بار واپسی میں ایسا عمل نہیں کیا گیا۔

مزید پڑھیں:بنگلہ دیش: شیخ حسینہ کو 3 کرپشن کیسز میں مجموعی طور پر 21 سال قید کی سزا

ڈونلڈ ٹرمپ کے وائٹ ہاؤس میں دوبارہ آنے کے بعد، امریکی حکام نے غیر قانونی تارکینِ وطن پر کریک ڈاؤن تیز کر دیا ہے۔ اس سخت نفاذ کے تحت، پچھلے چند مہینوں میں کئی بنگلہ دیشی اور دیگر غیر ملکی شہری ملک بدر کیے جا چکے ہیں۔

امریکی قوانین کے مطابق، غیر قانونی تارکینِ وطن کو عدالت کے حکم یا انتظامی فیصلہ کے بعد ملک بدر کیا جا سکتا ہے۔ اگر پناہ کی درخواست ناکام ہو جائے تو امریکا کی امیگریشن اور کسٹمز انسپیکشن واپسی کا انتظام کرتا ہے۔ حالیہ مہینوں میں اس عمل میں تیزی آئی ہے، جس کے نتیجے میں چارٹرڈ اور فوجی پروازوں کا زیادہ استعمال کیا گیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

39 بنگلہ دیشی امریکا بنگلہ دیش

متعلقہ مضامین

  • اب حسینہ واجد کا کیا بنے گا؟
  • غزہ میں ایک اور سانحہ: زخمی باپ کے لیے لکڑیاں جمع کرنے نکلنے والے دو معصوم بھائی اسرائیلی میزائل کا نشانہ بن گئے
  • شیخ حسینہ کی برطرفی نے بنگلہ دیش میں بھارت کی مداخلت ختم کردی، بنگلہ دیشی صحافی
  • سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے این ایچ اے افسران کو کرپشن الزامات پر ڈی چوک میں لٹکانے کا مطالبہ کردیا
  • بنگلہ دیش، کھیت سے ملنے والے اژدھے کی جنگل میں محفوظ منتقلی
  • امریکا سے مزید 39 بنگلہ دیشی واپس، ہر فرد نے 30 سے 35 لاکھ ٹکا خرچ کیے
  • نیب میں گریڈ 18 کے 29 افسران کو گریڈ 19 میں ترقی دے دی گئی
  • عظیم لیڈر کو مکمل تنہائی میں رکھنا بدترین سیاسی انتقام ہے‘حلیم عادل
  • سزائے موت کے بعد شیخ حسینہ ایک اور مشکل میں پھنس گئیں