گلگت بلتستان کی نگران کابینہ میں کون کون شامل ہونگے ؟
اشاعت کی تاریخ: 30th, November 2025 GMT
سکردو سے شیخ محمد حسن جعفری کے فرزند جو حال ہی میں امریکہ سے تعلیم حاصل کر کے آئے ہیں، کو بھی کابینہ میں شامل کرنے کا قوی امکان ہے۔ گلگت سے انجمن امامیہ کے سابق صدر ساجد علی بیگ کو بھی کابینہ میں شامل کرنے کی توقع ہے۔ اسلام ٹائمز۔ گلگت بلتستان کی نگران کابینہ کی تشکیل میں غیر معمولی تاخیر کا شکار ہو گئی تاہم کچھ نام سامنے آ گئے ہیں جن کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ کابینہ کا حصہ ہوں گے۔ 26 نومبر کو نگران وزیر اعلیٰ جسٹس ریٹائرڈ یار محمد نے حلف اٹھایا تھا تاہم چار روز گزرنے کے باوجود نگران کابینہ کا فیصلہ نہ ہو سکا۔ ذرائع کے مطابق وزارت کیلئے درجنوں امیدواروں کے مابین کھینچا تانی جاری ہے۔ ساتھ ہی اداروں کے درمیان بھی بعض معاملات پر اتفاق رائے نہ ہونے کی وجہ سے کابینہ کی تشکیل تاخیر کا شکار ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ بلتستان ریجن سے چار وزیر کابینہ میں لینے کی تجویز ہے جبکہ گلگت، دیامر استور ڈویژن سے چھ وزراء لینے کی تجویز ہے۔ حاجی گلبر خان کی سابقہ حکومت کے کچھ کارڈینیٹرز بھی نگران وزیر بننے کیلئے کوششیں کر رہے ہیں۔ سابق کوارڈنیٹر ذبیح اللہ بیگ کو کابینہ میں لینے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے تاہم ان کے نام پر چیف سیکرٹری نے سخت اختلات کیا ہے۔ سکردو سے شیخ محمد حسن جعفری کے فرزند یحییٰ جعفری (جو حال ہی میں امریکہ سے تعلیم حاصل کر کے آئے ہیں) کو بھی کابینہ میں شامل کرنے کا قوی امکان ہے۔ گلگت سے انجمن امامیہ کے سابق صدر ساجد علی بیگ کو بھی کابینہ میں شامل کرنے کی توقع ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کو بھی کابینہ میں شامل کرنے
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔
تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔