فِن لینڈ کا اسلام آباد میں سفارت خانہ بند کرنے کا اعلان، وجہ کیا ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 30th, November 2025 GMT
فِن لینڈ نے اپنی عالمی سفارتی حکمتِ عملی میں بڑی تبدیلی کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ 2026 تک پاکستان میں موجود سفارت خانہ بند کر دیا جائے گا۔ یہ اعلان ہفتے کو فن لینڈ کی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری کیے گئے باضابطہ بیان میں کیا گیا۔
بیان کے مطابق فن لینڈ اپنی سفارتی سرگرمیوں کا ازسرِنو جائزہ لے رہا ہے تاکہ اپنے سیاسی اور معاشی مفادات کے مطابق زیادہ اہم ممالک میں وسائل کو مرکوز کیا جا سکے۔ اسی منصوبے کے تحت نہ صرف اسلام آباد، بلکہ کابل اور یانگون میں موجود فن لینڈ کے سفارت خانے بھی آئندہ سال بند کر دیے جائیں گے۔
وزارتِ خارجہ کے مطابق یہ فیصلہ مختلف عوامل کا نتیجہ ہے، جن میں متعلقہ ممالک کی بدلتی ہوئی سیاسی صورتِ حال اور فن لینڈ کے ساتھ محدود تجارتی روابط شامل ہیں۔
حکام نے بتایا کہ فن لینڈ کا فارن سروس نیٹ ورک وقتاً فوقتاً اس لیے بھی جائزے سے گزرتا ہے تاکہ اس کی پالیسی عالمی حالات اور ترجیحات کے مطابق رہے۔
اس جائزہ رپورٹ میں سکیورٹی کی صورتحال، فن لینڈ کی برآمدات میں اضافے کے امکانات اور عالمی سفارتی لائحہ عمل کو سامنے رکھا گیا۔
فن لینڈ کی وزیرِ خارجہ ایلینا والٹونن نے کہا کہ دنیا تیزی سے بدل رہی ہے اور فن لینڈ کو بھی اپنی سفارتی موجودگی اسی رفتار سے اپ ڈیٹ کرنا ہوگی۔ اُن کے مطابق یہ تبدیلیاں فن لینڈ کو عالمی سطح پر زیادہ مضبوط اور مسابقتی بنانے میں مدد دیں گی۔
فن لینڈ نے اس سال امریکہ میں اپنی موجودگی بڑھانے کے لیے ہیوسٹن میں قونصل جنرل کا دفتر قائم کیا، جو توانائی، ٹیکنالوجی اور تجارت کا اہم مرکز ہے۔ اس کے علاوہ 2026 میں کچھ ممالک میں نئے کمرشل آفس کھولنے کی تیاری بھی کی جا رہی ہے، جہاں پہلے ’بزنس فن لینڈ‘ کام کر رہا تھا۔
قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ فن لینڈ نے مالی مشکلات کے باعث 2012 میں بھی پاکستان میں اپنا سفارت خانہ بند کر دیا تھا، تاہم 2022 میں اسے دوبارہ کھول دیا گیا تھا۔ اب ایک دہائی بعد فن لینڈ دوبارہ پاکستان میں اپنی سفارتی موجودگی ختم کرنے جا رہا ہے۔
فنش وزارتِ خارجہ نے بتایا کہ سفارت خانوں کی بندش کا حتمی فیصلہ فن لینڈ کے صدر کے دستخط سے جاری ہونے والے سرکاری حکم نامے کے بعد نافذ العمل ہوگا، جس کے ساتھ ہی فن لینڈ کی عالمی سفارتی حکمتِ عملی ایک نئے دور میں داخل ہو جائے گی۔
.ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: فن لینڈ کی کے مطابق
پڑھیں:
اسلام آباد میں شدید سردی اور خشک موسم: شہری وائرل انفیکشنز کی لپیٹ میں
اسلام آباد اور گرد و نواح میں گزشتہ چند دنوں سے سخت سردی کی لہر جاری ہے۔ دن اور رات کے درجہ حرارت میں نمایاں فرق، بارش نہ ہونے کی وجہ سے خشک فضا اور مسلسل سرد ہوائیں شہریوں کے لیے شدید مشکلات پیدا کر رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: نومبر سے سرد موسمیاتی کیفیت کا سامنا ہوگا، موسمی رجحان لانینا کیا ہے؟
اس عرصے میں ایک بوند بارش بھی نہ ہونے کے باعث موسم غیر معمولی حد تک خشک ہو چکا ہے جس نے شہریوں کی صحت پر براہ راست اثر ڈالا ہے۔
شہر کے مختلف اسپتالوں کے مطابق نزلہ، زکام، کھانسی، گلے کی خراش، بخار، سینے میں جکڑن اور وائرل انفیکشن کے مریضوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔
جنرل فزیشن ڈاکٹر محمد ندیم کا کہنا ہے کہ خشک موسم میں انسانی ناک اور گلے کی جھلیاں سوکھ جاتی ہیں جس کے باعث وائرس اور بیکٹیریا تیزی سے جسم میں داخل ہو سکتے ہیں۔
اسی وجہ سے چھوٹے بچے، بزرگ اور پہلے سے کمزور مدافعتی نظام رکھنے والے افراد ان بیماریوں کا زیادہ شکار ہوتے ہیں اور موسم کی تبدیلی بھی ان افراد پر زیادہ اثر انداز ہوتی ہے۔
اسلام آباد میں سردی کے موسم میں عام طور پر وقفے وقفے سے بارشیں ماحول کا درجہ حرارت متوازن رکھتی ہیں مگر گزشتہ برس کی طرح اس بار بھی بارش نہ ہونے کی وجہ سے فضا میں مٹی اور آلودگی کے ذرات بڑھ گئے ہیں۔
مزید پڑھیے: ملک کے بیشتر علاقوں میں موسم خشک، پہاڑی علاقوں میں شدید سردی کا امکان
ماہرین کے مطابق آلودہ اور خشک ہوا پھیپھڑوں کے انفیکشن، سانس کی تکالیف، دمے کے حملے، الرجیز اور گلے کی بیماریوں کے پھیلاؤ میں اضافے کا باعث بن رہی ہے۔
گرم پانی و مشروبات کا استعمال بڑھادیں، ڈاکٹر ندیمڈاکٹر ندیم کے مطابق موسم کی شدت اور بڑھتے ہوئے وائرل انفیکشنز سے بچنے کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کی جائیں جن میں گرم کپڑوں کا استعمال، گھر سے باہر نکلتے وقت مفلر یا ماسک لازمی پہننا وغیرہ شامل ہیں۔
انہوں نے مشورہ دیا کہ گرم پانی اور دیگر گرم مشروبات کا استعمال بڑھایا جائے اور ہاتھوں کی صفائی کا خاص خیال رکھا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ بلا ضرورت کھلی فضا میں زیادہ دیر نہ ٹھہریں جبکہ بند کمروں میں مناسب وینٹیلیشن ضروری ہے تاکہ جراثیم جمع نہ ہوں۔
ڈاکٹر ندیم نے کہا کہ کھانسی، بخار یا سانس کی تکلیف جیسی علامات کو سنجیدہ لیا جائے اور ان سے صفائی، گرم مشروبات اور گرم لباس اور احتیاط سے نمٹا جائے۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگر خشک موسم بغیر بارش کے برقرار رہا تو آنے والے دنوں میں وائرل انفیکشنز اور سانس کی بیماریوں میں اضافے کا خدشہ بڑھ سکتا ہے۔
چند ہفتوں تک نمایاں تبدیلی کی توقع نہیں، ڈی جی موسمیات صاحبزاد خانڈائریکٹر جنرل محکمہ موسمیات صاحبزاد خان کے مطابق ملک میں آئندہ چند ہفتوں تک موسم میں کسی نمایاں تبدیلی کا امکان نہیں ہے اور مجموعی طور پر موسم خشک اور سرد ہی رہنے کی توقع ہے۔
صاحبزاد خان نے بتایا کہ اس عرصے میں ہوا میں نمی کی مقدار کم رہے گی جس کی وجہ سے درجہ حرارت رات کے وقت مزید گر سکتا ہے جبکہ دن میں ٹھنڈی اور خشک ہوائیں چلتی رہیں گی۔
مزید پڑھیں: کوئٹہ میں سردیوں کی آمد، موسم کے ساتھ ساتھ لوگوں کے مزاج بھی بدلنے لگے
مزید برآں صاحبزاد خان نے خبردار کیا کہ رواں برس بھی ملک میں بارشوں کے امکانات محدود رہیں گے۔ ان کے مطابق اس صورتحال کی بنیادی وجہ لا نینا نامی موسمیاتی مظہر ہے جو عام طور پر پاکستان اور اس کے آس پاس کے خطے میں بارشوں میں کمی کا باعث بنتا ہے۔
لا نینا کے دوران بحرالکاہل کے پانیوں میں ٹھنڈک بڑھ جاتی ہے جس کا اثر عالمی موسمیاتی نظام پر پڑتا ہے اور جنوبی اور مشرقی ایشیا میں مجموعی طور پر ہوا کے نظام بدل جاتے ہیں جس کے نتیجے میں بارشیں کم ہو جاتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: کیا اس سال پاکستان میں غیر معمولی سردی ہوگی؟ محکمہ موسمیات کا اہم بیان آگیا
ماہرین کا کہنا ہے کہ بارش نہ صرف فضائی آلودگی کو کم کرتی ہے بلکہ خشک ہوا کا اثر بھی کم کر دیتی ہے اس لیے بارش کا نہ ہونا شہریوں کی بیماریوں میں اضافے کی بڑی وجہ بن رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسلام اباد اسلام آباد خشک موسم اسلام آباد سرد موسم