کراچی: محکمہ تعلیم سندھ نے نجی اسکولوں کو موسم سرما میں مخصوص رنگ، ڈیزائن کے سوئیٹر یا جیکٹ پہننے کی پابندی سے روک دیا۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق ڈائریکٹوریٹ آف پرائیویٹ انسٹی ٹیوشنز کا تمام نجی اسکولوں کو ہدایت نامہ جاری کیا، جس میں صوبہ کے تمام نجی اسکولوں کو موسم سرما میں مخصوص کلر یا ڈیزائن کی جیکٹ پہننے کی پابندی سے روکا گیا ہے۔

ڈائریکٹر پرائیوٹ انسٹیٹیوشن سندھ رفیعہ جاوید نے کہا کہ نوٹی فکیشن کے بعد بچے سردیوں میں اپنی پسند کے گرم کپڑے اور جیکٹ پہن سکیں گے اور اسکول انتظامیہ بچوں کو مخصوص گرم لباس پہننے پر مجبور نہیں کرے گی۔

انہوں نے بتایا کہ خلاف ورزی کرنے والے اسکولوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

ایڈیشنل ڈائریکٹر رفیعہ جاوید نے واضح کیا کہ اسکولوں کے بچوں پر کوئی ڈریس جیکٹ کی پابندی نہیں ہے۔ وزیرِ تعلیم سندھ سردار شاہ کی ہدایت پر نجی اسکولوں کو مراسلہ جاری کیا گیا ہے۔ جس میں کہا گیا کہ سردیوں میں بچوں کی صحت ترجیح اور زبردستی کی مخصوص گرم جیکٹس کی اجازت نہیں ہے۔

وزیر تعلیم سندھ سردار شاہ نے کہا کہ موسم سرما میں بچوں کی سہولت اولین ترجیح ہے، طلبا کسی بھی رنگ اور کسی بھی ڈیزائن کی گرم جیکٹ پہننے سکتے ہیں۔

    موسم سرما میں بچوں کی سہولت اولین ترجیح ہیں ۔سردار شاہ

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: نجی اسکولوں کو کی پابندی

پڑھیں:

دنیا شدید گرمی اور تباہ کن موسم کے لیے تیار ہوجائے، اقوام متحدہ نے بڑی وارننگ جاری کردی 

اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے اور عالمی موسمیاتی تنظیم  نے خبردار کیا ہے کہ جون سے اگست 2026 کے دوران ال نینو کے پیدا ہونے کا امکان 80 فیصد تک پہنچ گیا ہے، جس کے باعث دنیا بھر میں شدید گرمی، خشک سالی، غیر معمولی بارشوں اور دیگر موسمی شدت کے واقعات میں اضافہ ہوسکتا ہے۔

عالمی موسمیاتی تنظیم کے مطابق بحرالکاہل کے وسطی اور مشرقی استوائی علاقوں میں سمندر کے پانی کا درجہ حرارت معمول سے غیر معمولی حد تک بڑھ رہا ہے، جس کے نتیجے میں ال نینو کی صورتحال تیزی سے تشکیل پا رہی ہے۔

ادارے نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں کہا ہے کہ عالمی پیش گوئیوں کے مطابق جون تا اگست کے دوران ال نینو کے بننے کا امکان 80 فیصد جبکہ نومبر تک یہ امکان 90 فیصد یا اس سے بھی زیادہ ہوسکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ال نینو کم از کم درمیانی شدت کا اور ممکنہ طور پر طاقتور بھی ثابت ہوسکتا ہے۔

ال نینو ایک قدرتی موسمیاتی عمل ہے جو ہر دو سے سات سال بعد رونما ہوتا ہے اور عموماً 9 سے 12 ماہ تک برقرار رہتا ہے۔ اس دوران بحرالکاہل کے پانی گرم ہوجاتے ہیں، جس کے نتیجے میں دنیا بھر میں ہواؤں، بارشوں اور درجہ حرارت کے نظام میں نمایاں تبدیلیاں آتی ہیں۔

عالمی موسمیاتی تنظیم کی سربراہ نے کہا کہ دنیا کو ال نینو کے اثرات کے لیے ابھی سے تیاری شروع کر دینی چاہیے کیونکہ یہ خشک سالی، موسلا دھار بارشوں، زمینی اور سمندری ہیٹ ویوز کے خطرات کو مزید بڑھا سکتا ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ال نینو ہمارے دروازے پر دستک دے رہا ہے اور اسے ایک ہنگامی موسمیاتی انتباہ کے طور پر لینا چاہیے۔ ان کے مطابق بڑھتی ہوئی عالمی حدت کے ساتھ ال نینو کے اثرات مزید شدید ہوسکتے ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جون سے اگست کے دوران دنیا کے بیشتر حصوں میں معمول سے زیادہ درجہ حرارت ریکارڈ کیے جانے کا امکان ہے۔ مشرقی افریقہ کے بعض علاقوں میں بارشیں کم ہوسکتی ہیں، جنوبی ایشیا میں مون سون معمول سے کم رہنے کا خدشہ ہے جبکہ وسطی امریکہ میں بھی خشک اور گرم موسم متوقع ہے۔

ماہرین کے مطابق ال نینو کے باعث زراعت، پانی کے ذخائر، توانائی کے شعبے اور صحت عامہ پر گہرے اثرات مرتب ہوسکتے ہیں، اسی لیے حکومتوں اور متعلقہ اداروں کو پیشگی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

متعلقہ مضامین

  • بحرالکاہل میں ایل نینو سرگرم، پاکستان کے موسم پر کیا اثرات مرتب ہوں گے؟
  • تمام ایپل ڈیوائسز پر یکساں تجربہ، واٹس ایپ کا یونیفائیڈ ڈیزائن پلان سامنے آ گیا
  • مختلف علاقوں میں بارشیں ہی بارشیں؛محکمہ موسمیات نے پیش گوئی کردی
  • دنیا شدید گرمی اور تباہ کن موسم کے لیے تیار ہوجائے، اقوام متحدہ نے بڑی وارننگ جاری کردی 
  • میرپور آزاد کشمیر ، مری ، کھاریاں سمیت ملک کے کئی علاقوں میں تیز ہواؤں کیساتھ بارش
  • شانگلہ: مکان کی چھت گرگئی، 6بچے جاں بحق
  • پنجاب بھر میں دفعہ 144 کے نفاذ میں توسیع
  • مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی
  • سارا انعام قتل کیس: شاہنواز امیر کی اپیلوں پر سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت