سندھ: نجی اسکولز کو مخصوص کلر یا ڈیزائن کی جیکٹ پہننے کی پابندی سے روک دیا
اشاعت کی تاریخ: 28th, November 2025 GMT
کراچی (نیوزڈیسک) صوبہ سندھ میں نجی اسکولوں کو موسم سرما میں مخصوص کلر یا ڈیزائن کی جیکٹ پہننے کی پابندی سے روک دیا، ڈائریکٹوریٹ آف پرائیویٹ انسٹیٹیوشنز نے تمام نجی اسکولوں کو ہدایت نامہ جاری کر دیا۔ اس حوالے سے ایڈیشنل ڈائریکٹر پرائیویٹ انسٹیٹیوشن سندھ رفیعہ جاوید نے کہا کہ بچے سردیوں میں اپنی پسند کے گرم کپڑے اور جیکٹ پہن سکیں گے۔
انھوں نے کہا کہ اسکول انتظامیہ بچوں کو مخصوص گرم لباس پہننے پر مجبور نہیں کرے گی۔ خلاف ورزی کرنے والے اسکولوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
ایڈیشنل ڈائریکٹر رفیعہ جاوید نے واضح احکامات جاری کرتے ہوئے کہا کہ بچوں پر کوئی ڈریس جیکٹ کی پابندی نہیں ہے۔ انھوں نے کہا کہ وزیرِ تعلیم سندھ سردار علی شاہ کی ہدایت پر نجی اسکولوں کو مراسلہ جاری کر دیا ہے، سردیوں میں بچوں کی صحت ترجیح ہے، زبردستی کی مخصوص گرم جیکٹس کی اجازت نہیں ہے۔ بچے کسی بھی رنگ اور کسی بھی ڈیزائن کی گرم جیکٹ پہن سکتے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ وزیر تعلیم سردار علی شاہ نے کہا ہے کہ موسم سرما میں بچوں کی سہولت اولین ترجیح ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
بحرین میں ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کا نعرہ لگانے پر پابندی عائد
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ محرم کے آغاز سے قبل سکیورٹی اقدامات میں اضافہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ بحرینی حکام عاشورا کے پیغام اور عزاداری کی مجالس کے سماجی اور ثقافتی اثرات کے حوالے سے تشویش رکھتے ہیں۔ ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے زور دے کر کہا کہ یہ پابندیاں ان متعدد اقدامات کا تسلسل ہیں جو گزشتہ برسوں کے دوران مختلف علماء، خطباء اور مذہبی شخصیات کے خلاف گرفتاریوں، طلبیوں اور دباؤ کی صورت میں سامنے آتے رہے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ شیعہ نشین عرب ملک بحرین میں قیدیوں کے لیے کام کرنیوالی تنظیم نے میڈیا کو بتایا ہے کہ ملک کے سکیورٹی اداروں نے ماہِ محرم کی آمد کے موقع پر مجالس عزا پڑھنے والے خطباء اور مقررین کو وسیع پیمانے پر طلب کر کے نئی پابندیاں عائد کرتے ہوئے شیعہ مذہبی مراسم پر دباؤ میں اضافہ کر دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق بحرینی سکیورٹی اداروں نے محرم الحرام سے قبل متعدد خطباء اور ذاکرین کو طلب کیا ہے اور عزاداری کی مجالس اور مذہبی شعائر کے انعقاد کے لیے کئی نئی پابندیاں نافذ کی ہیں۔ ان پابندیوں میں مجالسِ عزاء کے لیے چالیس منٹ کی وقت کی حد مقرر کرنا، بعض حسینی نعروں خصوصاً ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کے بلند کرنے یا دہرانے پر پابندی لگانا، نیز خطباء کو ظلم و استبداد کے خلاف جدوجہد سے وابستہ تاریخی اور سیاسی شخصیات کا تذکرہ کرنے سے روکنا شامل ہے۔
ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے ان فیصلوں پر تنقید کرتے ہوئے انہیں بحرین کی شیعہ اکثریتی آبادی کے خلاف اختیار کی جانے والی محدودیت پسند پالیسیوں کا حصہ قرار دیا اور کہا کہ یہ اقدامات مذہبی مناسبتوں پر نگرانی اور کنٹرول بڑھانے کے مقصد سے کیے جا رہے ہیں۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ محرم کے آغاز سے قبل سکیورٹی اقدامات میں اضافہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ بحرینی حکام عاشورا کے پیغام اور عزاداری کی مجالس کے سماجی اور ثقافتی اثرات کے حوالے سے تشویش رکھتے ہیں۔ ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے زور دے کر کہا کہ یہ پابندیاں ان متعدد اقدامات کا تسلسل ہیں جو گزشتہ برسوں کے دوران مختلف علماء، خطباء اور مذہبی شخصیات کے خلاف گرفتاریوں، طلبیوں اور دباؤ کی صورت میں سامنے آتے رہے ہیں۔ بیان کے مطابق ایسی پالیسیوں کا تسلسل مذہبی شعائر کی آزادانہ ادائیگی اور بحرینی معاشرے کی دینی و ثقافتی شناخت کے تحفظ پر منفی اثرات مرتب کر سکتا ہے۔