اسلام آباد:

خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (SIFC) کے نیشنل کوآرڈی نیٹر لیفٹیننٹ جنرل سرفراز احمد نے جمعرات کے روز ملکی معیشت کو مسابقتی بنانے کے لیے ایک کاروبار دوست روڈ میپ پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ کارپوریٹ شعبے پر ٹیکسوں کا بوجھ نمایاں حد تک کم کیا جائے گا، شرح سود میں کمی لائی جائے گی اور ایک حقیقت پسندانہ و مسابقتی شرح مبادلہ اپنائی جائے گی۔

اسلام آباد میں پاکستان بزنس کونسل کی جانب سے منعقدہ ’’ڈائیلاگ آن اکانومی‘‘ کے دوسرے روز ملکی ممتاز تاجروں اور صنعتکاروں سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اس وقت پاکستان میں سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ملک کے پاس واضح معاشی ترقی کا کوئی روڈمیپ موجود نہیں۔

انھوں نے تمام اسٹیک ہولڈرز پر زور دیا کہ وہ تحفظات اور سبسڈی پر مبنی نظام سے نکل کر برآمدات پر مبنی معاشی ترقی کے ماڈل پر اتفاق رائے پیدا کریں۔ لیفٹیننٹ جنرل سرفراز احمد نے کہا کہ ’’ہم نے اپنی مالی صورتحال کو خود خراب کیا ہے۔

ہمارے پاس واحد حل ٹیکس لگانا ہے اور آپ سب سے آسان ہدف ہیں کیونکہ آپ پہلے ہی ٹیکس نیٹ میں ہیں۔‘‘

انھوں نے بتایا کہ حکومت سنجیدگی سے کارپوریٹ سیکٹر پر ٹیکس کم کرنے پر غور کر رہی ہے۔ خصوصی طور پر 29 فیصد کارپوریٹ انکم ٹیکس کو کم کرکے 25 فیصد کرنے، سپر ٹیکس کو ختم کرنے، انٹر کارپوریٹ ڈیویڈنڈ ٹیکس ختم کرنے پر بھی غور جاری ہے۔

جنرل سرفراز نے کہا کہ شرح سود کو بھی کم کیا جانا چاہیے کیونکہ افراط زر میں کمی کے باوجود 11 فیصد شرح سود برقرار رکھنا درست نہیں۔

انھوں نے مصنوعی طور پر ڈالر کی قیمت کو قابو میں رکھنے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو ایک حقیقت پسندانہ، مارکیٹ بیسڈ اور مسابقتی ایکسچینج ریٹ اپنانا ہوگا۔

انھوں نے کہا کہ پاکستان کی معیشت وقتی طور پر مستحکم ہوئی ہے مگر اصل مسئلہ یہ ہے کہ ترقی کا کوئی واضح منصوبہ موجود نہیں۔

پاکستان کا موجودہ ماڈل صارفیت (Consumption) اور قرضوں پر مبنی ہے، جس سے بار بار ملک کو مالی بحرانوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

پاکستان کو اب ایک برآمدات پر مبنی معاشی ماڈل اپنانا ہوگا کیونکہ درآمدی متبادل نظام مسلسل ناکام ہو رہا ہے۔جنرل سرفراز نے پاکستانی تاجروں کی جانب سے بیرون ملک سرمایہ منتقل کرنے پر بھی تنقید کی۔

انھوں نے کہا کہ پاکستان میں کمائی گئی دولت کا بڑا حصہ یو اے ای، لندن، سنگاپور اور نیویارک منتقل ہو جاتا ہے اور ملک میں دوبارہ سرمایہ کاری نہیں ہوتی۔

پاکستان میں غیر ملکی براہ راست سرمایہ کاری (FDI) محض 1.

2 ارب ڈالر کے لگ بھگ ہے جو بہت کم ہے۔ان کا کہنا تھا کہ جب تک مقامی کاروباری طبقہ خود پاکستان میں سرمایہ کاری نہیں کرے گا، غیر ملکی سرمایہ کار بھی نہیں آئیں گے۔

انھوں نے بتایا کہ ایس آئی ایف سی سعودی عرب سمیت دیگر ممالک سے سرمایہ کاری کے لیے ایک سنگل ونڈو پلیٹ فارم کے طور پر قائم کیا گیا تھا تاکہ منصوبوں کی منظوری کا عمل تیز کیا جا سکے۔

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: سرمایہ کاری پاکستان میں نے کہا کہ انھوں نے

پڑھیں:

سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان

 اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ  سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔

 ’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔

اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم

مزید :

متعلقہ مضامین

  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
  • پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل