خصوصی گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ ہم 50 ہزار کمانے والے سے ٹیکس لیتے ہیں اور ہزار ایکڑ زمین والے سے نہیں لیتے، پاکستانی صنعت کا رکو ایکسپورٹ کے قابل بنانے کے لیے ٹیکس ریٹ کے ساتھ ساتھ بجلی اور گیس کی قیمتیں بھی کم کرنا ہوں گی۔ اسلام ٹائمز۔ سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے  کہا ہے کہ لمحہ فکریہ ہے دنیا میں عزت بڑھنے کے باوجود ہم ایک پیسے کی سرمایہ کاری نہیں لا پارہے۔ خصوصی کرتے ہوئے سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا کہ بیروزگاری کی شرح میں اضافہ متوقع تھا کیونکہ معاشی گروتھ نہیں ہورہی۔ انہوں نے کہا کہ لمحہ فکریہ ہے کہ دنیا میں عزت بڑھنے کے باوجود ہم ایک پیسے کی سرمایہ کاری نہیں لا پارہے۔ سابق وزیر خزانہ نے کہا کہ ادارہ جاتی اصلاحات کیے بغیر 6 فیصد کی گروتھ کے دور دور تک آثار نظر نہیں آر ہے، ہم 50 ہزار کمانے والے سے ٹیکس لیتے ہیں اور ہزار ایکڑ زمین والے سے نہیں لیتے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستانی صنعت کا رکو ایکسپورٹ کے قابل بنانے کے لیے ٹیکس ریٹ کے ساتھ ساتھ بجلی اور گیس کی قیمتیں بھی کم کرنا ہوں گی۔

.

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: والے سے کہا کہ

پڑھیں:

وزیرِ خزانہ کا ڈھانچہ جاتی اصلاحات جاری رکھنے کا عزم

وزیرِ خزانہ و محصولات محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ پاکستان معاشی استحکام سے پائیدار ترقی کی جانب بڑھنے کے لیے ڈھانچہ جاتی اصلاحات کے عمل کو مسلسل جاری رکھنے کے لیے پُرعزم ہے۔

وہ دوحہ فورم کے تیئیس ویں ایڈیشن میں منعقدہ سیشن ’’گلوبل ٹریڈ ٹینشنز: اکنامک امپیکٹ اینڈ پالیسی ریسپانسز اِن مینا‘‘ سے خطاب کر رہے تھے۔ اپنے خطاب میں انہوں نے ٹیکس اصلاحات، توانائی کے شعبے، سرکاری اداروں کی بہتری اور نجی شعبے کی ترقی کے لیے مستقل اور مضبوط اصلاحات کی ضرورت پر زور دیا۔

قطر کے وزیرِ خزانہ علی بن احمد الکواری نے اس موقع پر پاکستان اور قطر کے درمیان مضبوط اور فروغ پاتی شراکت داری کا ذکر کیا، خصوصاً ایل این جی کی فراہمی اور پاکستان سے زرعی و ٹیکسٹائل مصنوعات کی درآمدات کے حوالے سے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ قطر پاکستان کے ساتھ مصنوعی ذہانت کی حکمتِ عملی اور صلاحیت سازی کے شعبے میں تعاون کا خواہاں ہے۔

آئی ایم ایف کے ڈپٹی منیجنگ ڈائریکٹر بو لی نے پاکستان کی اصلاحاتی پیش رفت اور لچک پیدا کرنے کی کوششوں کو سراہتے ہوئے اسے درست سمت میں آگے بڑھنے کی بہترین مثال قرار دیا۔ انہوں نے بتایا کہ سات ارب ڈالر کے استحکام پروگرام کے علاوہ آئی ایم ایف پاکستان کو مزاحمت اور پائیداری کے لیے ایک ارب تیس کروڑ ڈالر بھی فراہم کر رہا ہے، جس کا مقصد مالیاتی، معاشی اور ماحولیاتی لچک کو مضبوط بنانا ہے۔ ان کے مطابق یہ پروگرام پاکستان کو گرین بجٹنگ، مالیاتی ضابطہ کاری میں موسمیاتی خطرات کے تجزیے کے انضمام، موسمیاتی ڈیٹا کے بہتر انکشاف اور پائیدار انفراسٹرکچر کی منصوبہ بندی میں مدد دے گا۔

مباحثے کے دوران پاکستان کے امریکہ اور چین کے ساتھ بدلتے ہوئے تعلقات پر بھی گفتگو ہوئی۔ محمد اورنگزیب نے کہا کہ پاکستان کا مؤقف حقیقت پسندانہ اور قومی مفاد پر مبنی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان چین اور امریکہ دونوں کے ساتھ اپنے تعلقات کو تکمیلی سمجھتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ چین کے ساتھ سی پیک فیز ٹو کا آغاز ہو چکا ہے، جو اب حکومت سے حکومت کی سطح کے بجائے کاروبار سے کاروبار کے تعاون پر مبنی ہوگا، جبکہ امریکہ کے ساتھ معدنیات، مائننگ اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون بڑھ رہا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • قائمہ کمیٹی خزانہ کی انکم ٹیکس آرڈیننس تیسرے ترمیمی بل 2025ء کی منظوری
  • قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی خزانہ سے انکم ٹیکس آرڈیننس تیسرا ترمیمی بل منظور
  • وزیر خزانہ کا ملکی معیشت مضبوط بنانے کا عزم
  • ملکی معیشت مضبوط بنانے، سرمایہ کاری کو فروغ دینے کیلئے پرعزم ہیں: وزیر خزانہ
  • حکومت معاشی استحکام، سرمایہ کاری کے فروغ کیلئے پرعزم ہے، وزیر خزانہ
  • شعبہ صحت میں سرمایہ کاری سے متعلق رکاوٹیں دور کی جائیں، وزیراعظم کی ہدایت
  • لندن میں پی ایس ایل کا روڈ شو، سرمایہ کاروں کو نئی سرمایہ کاری کی دعوت
  • سندھ کلچرل ڈے؛ دنیا کی متاثر کن تہذیبوں میں سے ایک کا جشن منا رہے ہیں، وزیراعظم شہباز شریف
  • وزیرِ خزانہ کا ڈھانچہ جاتی اصلاحات جاری رکھنے کا عزم
  •  قطر نے پاکستان کے ساتھ نئی تجارتی شراکت داری قائم کی ہے، وزیر خزانہ