دنیا میں عزت بڑھنے کے باوجود ہم ایک پیسے کی سرمایہ کاری نہیں لا پارہے، مفتاح اسماعیل
اشاعت کی تاریخ: 27th, November 2025 GMT
خصوصی گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ ہم 50 ہزار کمانے والے سے ٹیکس لیتے ہیں اور ہزار ایکڑ زمین والے سے نہیں لیتے، پاکستانی صنعت کا رکو ایکسپورٹ کے قابل بنانے کے لیے ٹیکس ریٹ کے ساتھ ساتھ بجلی اور گیس کی قیمتیں بھی کم کرنا ہوں گی۔ اسلام ٹائمز۔ سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا ہے کہ لمحہ فکریہ ہے دنیا میں عزت بڑھنے کے باوجود ہم ایک پیسے کی سرمایہ کاری نہیں لا پارہے۔ خصوصی کرتے ہوئے سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا کہ بیروزگاری کی شرح میں اضافہ متوقع تھا کیونکہ معاشی گروتھ نہیں ہورہی۔ انہوں نے کہا کہ لمحہ فکریہ ہے کہ دنیا میں عزت بڑھنے کے باوجود ہم ایک پیسے کی سرمایہ کاری نہیں لا پارہے۔ سابق وزیر خزانہ نے کہا کہ ادارہ جاتی اصلاحات کیے بغیر 6 فیصد کی گروتھ کے دور دور تک آثار نظر نہیں آر ہے، ہم 50 ہزار کمانے والے سے ٹیکس لیتے ہیں اور ہزار ایکڑ زمین والے سے نہیں لیتے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستانی صنعت کا رکو ایکسپورٹ کے قابل بنانے کے لیے ٹیکس ریٹ کے ساتھ ساتھ بجلی اور گیس کی قیمتیں بھی کم کرنا ہوں گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔