’گھر میں آنے والے الیکٹریشن اور پلمبر سے بھی پردہ کرتی ہوں‘، ڈاکٹر نبیہہ علی خان کی ویڈیو وائرل
اشاعت کی تاریخ: 27th, November 2025 GMT
معروف سوشل میڈیا اسٹار ڈاکٹر نبیہہ علی خان کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے جس پر انہیں صارفین کی جانب سے شدید تنقید کا سامنا ہے۔
ویڈیو میں انہوں نے کہا کہ وہ اپنے گھر کام کرنے والے الیکٹریشن اور پلمبر سے بھی پردہ رکھتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جب میں میڈیا پر آتی ہوں تو میرے سامنے صرف کیمرہ یا میزبان ہوتا ہے۔ میرے گھر میں صرف میرا خاندان مجھے دیکھ سکتا ہے اور باہر کے کسی فرد کو آنے کی اجازت نہیں، حتیٰ کہ اپنے بہنوئی کے سامنے بھی نہیں جاتی۔
میں اپنے گھر میں آنے والے الیکٹریشن پلمبر اور بہن بھائیوں سے بھی پردہ کرتی ہوں ۔۔۔۔۔۔
ڈاکٹر نبیہہ ???? pic.
— Fatima PTI (@FatimaPTI_IK) November 27, 2025
ان کے اس بیان کے وائرل ہونے کے بعد سوشل میڈیا صارفین نے انہیں تنقید کا نشانہ بنایا۔ ایک صارف نے کہا کہ محترمہ کیمرے کے سامنے سج سنور کر اور بغیر پردہ کے پورے معاشرے کو بتا رہی ہیں کہ وہ بہت بڑی پردے دار خاتون ہیں۔ صارفین کا موقف ہے کہ گھر میں پردہ رکھنے اور میڈیا پر ظاہر ہونے کے رویے میں تضاد ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ڈاکٹر نبیہہ علی خان ویڈیو وائرل
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ڈاکٹر نبیہہ علی خان ویڈیو وائرل ڈاکٹر نبیہہ گھر میں
پڑھیں:
لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں مبینہ زیادتی کا شکار ہونے والی 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جان کی بازی ہار گئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق لاہور کے علاقہ ماڈل ٹاؤن کے ایک گھر میں ملازمہ کے طور پر کام کرنے والی 18 سالہ لڑکی مبینہ طور پر گینگ ریپ اور بعد ازاں غیر قانونی طبی طریقہ کار کے باعث زندگی کی بازی ہار گئی ہے، متوفیہ نے ہسپتال میں دم توڑنے سے قبل اپنے بیانات ریکارڈ کرادیئے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ لڑکی کا حمل ضائع کرنے کے لیے اسے پہلے رائے ونڈ کے ایک نجی کلینک لے جایا گیا، جہاں حالت بگڑنے پر اسے سروسز ہسپتال منتقل کیا گیا، وہ دو روز تک سروسز ہسپتال میں زیرِ علاج رہنے کے بعد دم توڑ گئی، متاثرہ لڑکی نے اپنے تحریری اور ویڈیو بیانات میں مکان مالک کے بیٹے اور ڈرائیور پر اجتماعی زیادتی کا سنگین الزام عائد کیا تھا، بعد میں مبینہ دباؤ کے تحت لڑکی نے اپنے بیان میں تبدیلی کی اور اپنے آخری بیان میں صرف ڈرائیور کو ہی نامزد کیا۔(جاری ہے)
پولیس نے بتایا کہ لڑکی کے ابتدائی بیانات کی روشنی میں گینگ ریپ کا مقدمہ درج کیا گیا تھا، تاہم اس کی موت کے بعد مقدمے میں باقاعدہ طور پر قتل کی دفعات بھی شامل کر دی گئی ہیں، ایک نامزد ملزم ڈرائیور کو گرفتار کرکے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا ہے، قتل کی دفعات شامل ہونے کے بعد کیس کی تفتیش جینڈر سیل سے تبدیل کرکے انویسٹی گیشن ونگ کے سپرد کر دی گئی ہے، پولیس نے گھر کے مالکان سمیت ان تمام افراد کو دوبارہ شاملِ تفتیش کرنے کے لیے نوٹسز جاری کر دیئے ہیں جنہیں پہلے کلیئر کر دیا گیا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت ریکارڈ کیے گئے بیانات کا دوبارہ باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا، متوفیہ کا پوسٹ مارٹم مکمل کر لیا گیا ہے اور موت کی اصل وجہ رپورٹ آنے کے بعد واضح ہوگی، اگر رائے ونڈ کے نجی کلینک کی جانب سے غفلت یا غیر قانونی طریقہ کار کے شواہد ملے تو اس کے خلاف بھی سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔