فن لینڈ کا پاکستا ن میں اپنا سفارتخانہ بند کرنے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 29th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد؛ فن لینڈ نے پاکستان سمیت افغانستان اور میانمار میں اپنے سفارتخانےبند کرنے کافیصلہ کیا ہے ۔
فن لینڈ کی وزارتِ خارجہ نے اپنے جاری ایک بیان میں کہا کہ وزارتِ خارجہ نے اسلام آباد، کابل اور یانگون میں فن لینڈ کے سفارتخانوں کو 2026 میں بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ سفارتخانے آپریشنل اور اسٹریٹجک وجوہات کی بنا پر بند کیے جا رہے ہیں، جو متعلقہ ممالک کی سیاسی صورتحال میں تبدیلیوں اور فن لینڈ کے ساتھ محدود تجارتی و اقتصادی تعلقات سے جڑی ہوئی ہیں۔ تینوں ممالک میں سفارتخانوں کی بندش کی تیاری پہلے ہی شروع کر دی گئی تھی، یہ مشن 2026 کے دوران بند کر دیے جائیں گے۔
اس سے قبل 2012 میں بھی فن لینڈ نے مالی مسائل کے باعث پاکستان میں اپنا سفارتخانہ بند کر دیا تھا، تاہم 2022 میں مشن دوبارہ کھول دیا گیا تھا۔
2023 میں سویڈن نے بھی سیکورٹی صورتحال کے باعث اسلام آباد میں اپنا سفارتخانہ غیر معینہ مدت کے لیے بند کر دیا تھا۔
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: فن لینڈ
پڑھیں:
وزیراعظم کی ہدایت پر تنخواہ دار طبقے کیلئے ٹیکس میں کمی کی تیاری، سپر ٹیکس مرحلہ وار ختم کرنے کا فیصلہ
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد: فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) کے چیئرمین راشد محمود لنگڑیال نے بتایا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس بوجھ کم کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے، جس کے بعد اس حوالے سے تکنیکی اور پالیسی سطح پر باضابطہ کام شروع کر دیا گیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق پاکستان بزنس کونسل کے سیمینار سے خطاب میں چیئرمین ایف بی آر نے کہا کہ کم آمدنی والے اور درمیانی تنخواہوں والے افراد کو ریلیف دینے کیلئے ٹیکس ریٹس میں تبدیلیوں پر سنجیدگی سے غور کیا جارہا ہے، وزیراعظم نے بڑی کمپنیوں پر عائد سپر ٹیکس میں بھی کمی کی ہدایت دی ہے، جسے بتدریج کم کرکے مکمل طور پر ختم کرنے کی منصوبہ بندی کی جارہی ہے، تاکہ سرمایہ کاری بڑھائی جائے اور کاروباری سرگرمیوں کو فروغ ملے۔
راشد محمود لنگڑیال نے کہا کہ سپر ٹیکس کے خاتمے کے معاملے پر آئی ایم ایف سے بھی بات چیت کی جائے گی، جبکہ ٹیکس ریٹس میں مجموعی کمی کا انحصار ٹیکس دہندگان کی تعداد بڑھانے اور کمپلائنس بہتر ہونے پر ہوگا، جتنا زیادہ افراد ٹیکس نیٹ میں شامل ہوں گے، اتنا ہی آسان ہوگا کہ حکومت ٹیکس شرحوں میں کمی لاسکے۔
سیمینار سے خطاب میں سابق نگران وزیر گوہر اعجاز نے کہا کہ پاکستان نے مشکل حالات کا سامنا کیا مگر عسکری اور سیاسی قیادت کی مشترکہ کوششوں کے باعث صورتحال بہتر ہونا شروع ہوئی ہے، بڑے پیمانے پر صنعتوں کی بندش کے باوجود کاروباری برادری نے یکجہتی دکھائی اور اب ملکی معیشت کو درست سمت میں لے جانے کیلئے تمام چیمبرز اور تاجر تنظیمیں مل کر کام کر رہی ہیں۔
گوہر اعجاز کے مطابق 70 ارب ڈالر کی درآمدات اور 15 ارب ڈالر کی پیٹرولیم درآمدات ملکی معیشت کیلئے بڑا چیلنج ہیں، اور مسائل تب ہی حل ہوں گے جب پالیسی سازی میں حقیقی کاروباری نمائندوں کو شامل کیا جائے۔