فن لینڈ نے آپریشنل اور اسٹریٹجک وجوہات کی بنا پر پاکستان میں سفارتخانہ بند کرنے کا فیصلہ کیا
اشاعت کی تاریخ: 29th, November 2025 GMT
فن لینڈ نے آپریشنل اور اسٹریٹجک وجوہات کی بنیاد پر پاکستان، افغانستان اور میانمار میں اپنے سفارتخانوں کو بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔ فن لینڈ کی وزارتِ خارجہ نے جمعہ (28 نومبر) کو بتایا کہ اسلام آباد، کابل اور یانگون میں فن لینڈ کے سفارتخانے 2026 تک بند کیے جائیں گے۔
وزارتِ خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ یہ فیصلہ متعلقہ ممالک کی سیاسی صورتحال میں تبدیلیوں اور فن لینڈ کے محدود تجارتی و اقتصادی تعلقات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔ تینوں ممالک میں سفارتخانوں کی بندش کی تیاری پہلے ہی شروع ہو چکی ہے اور یہ مشن 2026 میں مکمل طور پر بند کر دیے جائیں گے۔
بیان کے مطابق، یہ اقدام فن لینڈ کے سفارتی مشنز کے نیٹ ورک کے اسٹریٹجک جائزے کا حصہ ہے، جس میں ملک کی خارجہ و سلامتی پالیسی اور برآمدات کے فروغ کی ضروریات کو سامنے رکھا گیا ہے، تاکہ وسائل ان ممالک پر مرکوز کیے جائیں جو فن لینڈ کے لیے تزویراتی طور پر زیادہ اہم ہیں۔
فن لینڈ کی وزیرِ خارجہ ایلینا والٹونن نے کہا کہ ہم مستقبل کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے بیرونِ ملک اپنے مشنز کے نیٹ ورک کو منظم اور مؤثر بنائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا آپریشنل ماحول تیزی سے بدل رہا ہے اور یہ فیصلہ فن لینڈ کو مضبوط اور زیادہ مسابقتی بنانے میں مدد دے گا، اور بیرونی تعلقات کو ہماری ترجیحات کے مطابق بہتر طریقے سے چلانے میں معاون ہوگا۔
یاد رہے کہ فن لینڈ نے 2012 میں مالی وجوہات کی بنا پر پاکستان میں اپنا سفارتخانہ بند کر دیا تھا، تاہم 2022 میں یہ دوبارہ کھول دیا گیا تھا۔ 2023 میں سویڈن نے بھی سیکورٹی صورتحال کے باعث اسلام آباد میں اپنا سفارتخانہ غیر معینہ مدت کے لیے بند کیا تھا۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: فن لینڈ کے
پڑھیں:
امریکہ کا پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان
نیویارک(نیوز ڈیسک)امریکہ نے “جبری مشقت سے متعلق خدشات کے پیش نظر” پاکستان، بھارت، چین اور یورپی یونین سمیت 60 تجارتی شراکت دار ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریر کے مطابق ان برآمدی محصولات (ٹیرف) کی شرح 10 فیصد سے لے کر 12.5 فیصد تک ہوگی اور یہ جمعہ یعنی آج سے نافذ العمل ہوں گے۔
Today, Ambassador Greer is taking action, at President Trump’s direction, under Section 301 of the Trade Act of 1974 by imposing tariffs on 60 trading partners for their failure to adopt and effectively enforce a prohibition on the importation of goods produced with forced labor.…
— United States Trade Representative (@USTradeRep) July 23, 2026
انہوں نے کہا کہ امریکہ میں جبری مشقت کے خلاف قوانین طویل عرصے سے نافذ ہیں اور اب وقت آ گیا ہے کہ دیگر ممالک بھی اسی طرز کے اقدامات کریں۔
یہ نئے محصولات اس عالمی ڈیوٹی کی جگہ لیں گے جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے رواں سال کے آغاز میں عائد کی گئی تھی اور جس کی مدت اب ختم ہو رہی ہے۔ امریکی سپریم کورٹ کی جانب سے فروری میں بعض ٹیرف مسترد کیے جانے کے بعد ٹرمپ انتظامیہ نے متبادل قانونی راستوں کے ذریعے نئے اقدامات متعارف کروائے ہیں۔
امریکہ کے تجارتی نمائندوں کے دفتر کی جانب سے جاری کیے گئے اعلامیے کے مطابق پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، برطانیہ، کینیڈا اور ملائیشیا سمیت کئی ممالک پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیا جائے گا، جبکہ چین سمیت دیگر 38 ممالک پر 12.5 فیصد ڈیوٹی لاگو ہوگی۔
یورپی یونین، جاپان اور جنوبی کوریا جیسے ممالک کے لیے ٹیرف کی مجموعی شرح 10 سے 12.5 فیصد کے درمیان رکھی گئی ہے۔
دوسری جانب متاثرہ ممالک نے ان اقدامات پر شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔ جاپان اور آسٹریلیا نے ان ٹیرف کو غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ آزاد تجارتی معاہدوں کے منافی ہیں۔
امریکی حکام کے مطابق اسٹیل اور ایلومینیم جیسے شعبہ جاتی ٹیرف پہلے سے نافذ ہیں اور ان پر نئے اقدامات کا اطلاق نہیں ہوگا، جبکہ توانائی اور کھاد سمیت بعض اشیا کو استثنا دیا گیا ہے۔
اسلام آباد نے بھی جبری مشقت سے متعلق تحقیقات پر امریکی حکام کو تفصیلی جوابات جمع کرائے ہیں، بلکہ حالیہ تجارتی مذاکرات سے ایک روز قبل بھی مزید وضاحتیں فراہم کی تھیں۔
مزید پڑھیں۔ایران اور عراق کے درمیان دوطرفہ تعاون بڑھانے کے لیے 4 معاہدے