سمندری طوفان دتوا بھارت سے ٹکرانے کو تیار، سری لنکا میں 153 ہلاکتوں کے بعد خطرے کی گھنٹی
اشاعت کی تاریخ: 30th, November 2025 GMT
سری لنکا میں بڑے پیمانے پر تباہی مچانے کے بعد سمندری طوفان دتوا بھارت کی سمت بڑھ رہا ہے۔
بھارتی محکمۂ موسمیات کے مطابق طوفان آج تامل ناڈو اور اطراف کے ساحلی علاقوں سے ٹکرانے کا امکان ہے، جس کے باعث حفاظتی اقدامات مزید سخت کر دیے گئے ہیں۔
بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ طوفان کے اثرات کے سبب تامل ناڈو کے نشیبی علاقے زیرِ آب آگئے ہیں جبکہ 50 سے زائد پروازیں منسوخ کر دی گئی ہیں۔ مقامی انتظامیہ نے شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے اور ساحلی پٹی سے دور رہنے کی ہدایت کی ہے۔
اس سے قبل طوفان دتوا نے سری لنکا میں شدید تباہی مچائی، جہاں بارشوں، سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ سے 153 افراد ہلاک ہوئے۔
رائٹرز کے مطابق سب سے زیادہ اموات لینڈ سلائیڈنگ کے باعث ہوئیں، جب کہ شمالی اور مشرقی علاقوں میں 300 ملی میٹر تک بارش ریکارڈ کی گئی، جس سے درجنوں گاؤں متاثر ہوئے۔
سری لنکا میں ایمرجنسی نافذ ہے اور امدادی ٹیمیں متاثرہ علاقوں میں ریسکیو آپریشن میں مصروف ہیں۔ بھارتی حکام بھی طوفان کے ممکنہ اثرات سے نمٹنے کے لیے ہائی الرٹ پر ہیں۔
.ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: سری لنکا میں
پڑھیں:
سری لنکا میں بارشوں اور سیلاب سے تباہی، اموات کی تعداد 123 ہوگئیں
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
سری لنکا میں شدید بارشوں اور سیلاب نے تباہی مچادی ہے اور ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 123 تک پہنچ گئی ہے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق کولمبو سمیت سری لنکا کے مختلف علاقوں میں مسلسل ایک ہفتے کے ہونے والی بارشوں کے بعد سیلابی صورتحال کا سامنا ہے سمندری طوفان دتوا کے باعث تباہ کن بارشوں اور سیلاب نے وسیع پیمانے پر تباہی مچا دی ہے، ملک بھر میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 123 ہو گئی ہے، جب کہ 130 افراد تاحال لاپتا ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ بیشتر اموات لینڈ سلائیڈنگ کے باعث ہوئیں، شمالی اور مشرقی اضلاع میں 300 ملی میٹر تک بارش ریکارڈ کی گئی جس نے کئی پہاڑی علاقوں میں مٹی کے تودے گرنے کی صورتحال کو جنم دیا۔
ڈیزاسٹر مینجمنٹ سینٹر کے مطابق طوفانی موسم اور سیلابی ریلوں نے مجموعی طور پر 44 ہزار سے زائد افراد کو متاثر کیا ہے۔ کئی علاقوں سے نقل مکانی کرنے والے متاثرین کو اسکولوں اور سرکاری عمارتوں میں قائم عارضی کیمپوں میں منتقل کیا جا رہا ہے۔
سری لنکن محکمہ آبپاشی نے خبردار کیا ہے کہ مشرقی اور جنوبی حصوں میں—جو پہلے ہی شدید بارشوں سے جھیل بن چکے ہیں—مزید سیلاب کے امکانات موجود ہیں، جب کہ دارالحکومت کولمبو کے نشیبی علاقوں میں بھی خطرہ برقرار ہے۔
حکام کے مطابق کئی متاثرہ افراد سیلاب بڑھنے کے باعث گھروں کی چھتوں پر محصور ہو گئے تھے، جنہیں ہیلی کاپٹرز کے ذریعے ریسکیو کارروائیوں میں نکالا گیا۔ ایمرجنسی ٹیمیں اب بھی متعدد متاثرہ اضلاع میں امدادی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔