ملک کے مختلف علاقوں میں زلزلے کے شدید جھٹکے
اشاعت کی تاریخ: 29th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ملک کے مختلف حصوں میں جمعے کی صبح زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے جنہوں نے شہریوں میں تشویش کی لہر دوڑا دی۔
محکمہ موسمیات کے مطابق ہلکے سے درمیانی شدت کے یہ جھٹکے بلوچستان کے سرحدی شہر چمن، اس کے گردونواح اور لورالائی کے مختلف علاقوں میں ریکارڈ کیے گئے۔
زلزلہ پیما مرکز کے مطابق لورالائی میں زلزلے کی شدت 3.
میڈیا رپورٹس کے مطابق زلزلے کے اچانک جھٹکوں کے بعد لوگوں میں خوف و ہراس پھیل گیا اور شہری گھروں سے کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے باہر نکل آئے،علاقے میں کئی سیکنڈ تک زمین ہلتی رہی۔
رپورٹ کے مطابق تاحال کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی، تاہم مقامی انتظامیہ نے متعلقہ اداروں کو ہدایت دی ہے کہ متاثرہ علاقوں میں صورتحال کا جائزہ لیں اور کسی بھی ہنگامی صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے تیار رہیں۔
ریسکیو اداروں کا کہنا ہے کہ صورتِ حال پر نظر رکھی جا رہی ہے اور اب تک کسی ایمرجنسی کی ضرورت پیش نہیں آئی۔
حکام نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ افواہوں سے گریز کریں اور آفیشل ذرائع سے فراہم کی جانے والی معلومات پر ہی انحصار کریں
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کے مطابق
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔