کراچی: ایف آئی اے نے حوالہ ہنڈی میں ملوث 2 ملزمان کو گرفتار کر لیا
اشاعت کی تاریخ: 29th, November 2025 GMT
---فائل فوٹو
وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) نے کراچی کے مختلف علاقوں میں کارروائی کرتے ہوئے حوالہ ہنڈی میں ملوث دو ملزمان کو گرفتار کر لیا۔
ترجمان ایف آئی اے کے مطابق کارپوریٹ کرائم سرکل کی جانب سے ہنڈی حوالہ کے ڈیلروں کے خلاف کریک ڈاؤن جاری ہے۔
ایف آئی اے نے انچولی اور سمن آباد میں کارروائی کرتے ہوئے دو ملزمان کو گرفتار کیا ہے۔ ملزمان مدثر اور سجاد علی ہنڈی، حوالہ اور غیر ملکی کرنسی کے غیر قانونی کاروبار میں ملوث ہیں۔
وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) نے طارق روڈ کی جیولرز شاپ پر چھاپے کے دوران حوالہ ہنڈی کے الزام میں ایک شخص کو گرفتار کر لیا۔
ایف آئی اے کے مطابق ملزمان سے 28 لاکھ 35 ہزار پاکستانی روپے اور 10 ہزار امریکی ڈالر برآمد کیے گئے ہیں۔ ملزم مدثر کی نشاندہی پر اس کی رہائش گاہ پر چھاپہ مارا گیا جہاں سے مزید 35 لاکھ پاکستانی روپے، 18 ہزار سعودی ریال اور 5 ہزار برطانوی پاؤنڈز برآمد کیے گئے۔
ترجمان ایف آئی اے کے مطابق ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر کے قانونی کارروائی کی جا رہی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: حوالہ ہنڈی ایف ا ئی اے کو گرفتار
پڑھیں:
بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
اسلام آباد، نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کم از کم ماہانہ اجرت یا تنخواہ (minimum wages monthly)کے تعین کے حوالے سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے اہم سفارشات پیش کر دی ہیں۔
پائیڈ نے مالی سال 2026-27 کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے، جو موجودہ کم از کم اجرت کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافے کے برابر ہے۔
ادارے نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شفاف اور سائنسی بنیادوں پر مبنی نظام تجویز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجرت کا تعلق غربت، مہنگائی اور عوام کی قوتِ خرید سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔
سفارشات کے مطابق سندھ میں کم از کم ماہانہ اجرت 46 ہزار روپے، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 45 ہزار روپے جبکہ بلوچستان میں 45 ہزار 500 روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پائیڈ نے کم از کم اجرت کے نفاذ کو مرحلہ وار یقینی بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ٹھیکوں اور آؤٹ سورس خدمات میں کم از کم اجرت پر عملدرآمد کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔
ادارے کے مطابق پاکستان میں 80 فیصد سے زائد روزگار غیر رسمی شعبے میں ہونے کے باعث کم از کم اجرت کے قانون پر عملدرآمد ایک بڑا چیلنج ہے۔
پائیڈ نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ تمام صوبے سالانہ کم از کم اجرت پر عملدرآمد کی رپورٹ جاری کریں تاکہ نظام کی نگرانی اور مؤثر جائزہ ممکن ہو سکے۔رپورٹ کے مطابق مجوزہ فریم ورک پلاننگ کمیشن کو غور کیلئے بھجوا دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں:سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
پائیڈ کا کہنا ہے کہ کم از کم اجرت کا نظام محض سالانہ اعلان تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے مؤثر طرزِ حکمرانی، نگرانی اور عملدرآمد کے نظام سے جوڑا جانا ضروری ہے۔