مالی مسائل؛فن لینڈ پاکستان میں سفارت خانہ بند کرنےپرمجبور
اشاعت کی تاریخ: 29th, November 2025 GMT
سٹی42: مالی مسائل اور بچت کی قومی ترجیحات نے فن لینڈ کو پاکستان میں سفارت خانہ بند کرنےپرمجبورکر دیا۔
فن لینڈ نے آپریشنل اور سٹریٹیجک وجوہات پر پاکستان میں اپنا سفارت خانہ بند کرنےکا اعلان کر دیا۔
فن لینڈ کی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہےکہ فن لینڈ نے پاکستان، افغانستان اور میانمار میں سفارت خانے بند کرنےکا فیصلہ کیا ہے۔
طیاروں کے سافٹ ویئر میں سنگین خرابی، عالمی پروازیں معطل
فن لینڈ کی وزارت خارجہ کے مطابق اسلام آباد،کابل اور ینگون میں فن لینڈ کے سفارت خانے 2026 میں بند کر دیے جائیں گے۔
بیان میں کہا گیا ہےکہ فن لینڈکے ساتھ محدود تجارتی و اقتصادی تعلقات کی وجہ سے سفارت خانے بندکرنےکا فیصلہ کیا ہے۔ سفارت خانوں کی بندش کی وجوہات میں ان ممالک کی سیاسی صورتحال میں تبدیلیاں بھی شامل ہیں۔
فن لینڈ نے بجٹ میں کمی کے باعث 2012 میں بھی پاکستان میں اپنی سفارتی سرگرمیاں روک دی تھیں۔ پاکستان میں فن لینڈ سفارتی مشن کو دوبارہ 2022 میں کھولا گیا تھا۔
اقرار الحسن وزیرِ اعظم بننا چاہتے ہیں؟ شاید میں سیکنڈ لیڈی بن جاؤں: فراح اقرار
Waseem Azmet.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: پاکستان میں فن لینڈ
پڑھیں:
توشہ خانہ ریکارڈ، وزیراعظم اور اسحاق ڈار کے تحائف کی تفصیلات سامنے آگئیں
اسلام آباد(رضوان عباسی ): توشہ خانہ ریکارڈ میں وزیراعظم شہباز شریف اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو اپریل سے جون 2026 کے دوران مختلف غیر ملکی شخصیات اور وفود کی جانب سے ملنے والے سرکاری تحائف کی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں۔
کابینہ ڈویژن کی دستاویزات کے مطابق اس عرصے میں موصول ہونے والے تمام سرکاری تحائف توشہ خانہ قواعد کے تحت کابینہ ڈویژن میں جمع کرا دیے گئے ہیں، جبکہ ان کی مالیت کے تعین (ویلیوایشن) کا عمل تاحال جاری ہے۔
دستاویزات کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کو مختلف ممالک کے سربراہان، اعلیٰ حکام اور سرکاری وفود کی جانب سے متعدد یادگاری تحائف پیش کیے گئے۔ ان میں شوگر باؤل، گاڑی کا فریم شدہ ماڈل، شیلڈز، قیمتی قلم، کف لنکس، ٹائی، کافی کپ اور واٹر گلاس سیٹ، چائے کے کپ اور ساسرز، آرائشی واز، ایرانی فیروزہ اِنلے دستکاری پر مشتمل پانچ پیس سیٹ، روایتی چینی اسکرول پینٹنگ، چائنا اسپیس اسٹیشن کا ماڈل اور دیگر سووینئرز شامل ہیں۔
اسی طرح نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو بھی مختلف ممالک کی جانب سے متعدد سرکاری تحائف دیے گئے، جن میں مصری طرز کا مجسمہ، مسجد نبوی ﷺ کا ماڈل، کف لنکس اور دیگر یادگاری اشیا شامل ہیں۔
دستاویزات میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ڈپٹی چیف آف پروٹوکول محمد ارسلان میر کو ایک قیمتی ڈائمنڈ کلیکشن رسٹ واچ بطور سرکاری تحفہ موصول ہوئی، جس کی مالیت کا تعین بھی جاری ہے۔
کابینہ ڈویژن کے مطابق توشہ خانہ ریکارڈ میں شامل تمام تحائف متعلقہ قوانین اور قواعد کے مطابق وصول کیے گئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ویلیوایشن مکمل ہونے کے بعد توشہ خانہ رولز کے مطابق آئندہ کارروائی کی جائے گی۔
سرکاری ذرائع کے مطابق تحائف کی مالیت کا تعین مکمل ہونے کے بعد قواعد کے مطابق یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ متعلقہ حکام ان تحائف کو اپنے پاس رکھ سکتے ہیں یا انہیں سرکاری تحویل میں برقرار رکھا جائے گا۔