اقوام متحدہ: ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کی پاکستان میں آئینی ترامیم پر تنقید
اشاعت کی تاریخ: 29th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق والکر ترک نے پاکستان میں آئینی ترامیم پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جلد بازی میں کی گئی آئینی ترامیم سے عدالیہ کی آزادی کمزور ہوئی۔
عالمی میڈیا رپورٹ کے مطابق جنیوا سے جاری اپنے بیان میں اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق والکر ترک نے کہا کہ آئین میں کی گئی موجودہ 27ویں اور ترمیم بھی گزشتہ سال کی گئی 26ویں ترمیم کی مانند قانونی حلقوں اور سول سوسائٹی سے مشاورت اور بحث کے بغیر کی گئی۔
ان کا کہنا ہے کہ پاکستان میں جلد بازی میں کی گئی آئینی ترامیم سے عدالیہ کی آزادی کمزور ہوئی ہے اور فوج کے نظام احتساب اور قانون کی حکمرانی پر گہرے تحفظات پیدا ہوگئے ہیں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ یہ ترامیم اس طاقت کی تقسیم کے خلاف ہیں جو قانون کی حکمرانی کی بنیاد ہے اور پاکستان میں انسانی حقوق کا تحفظ کرتی ہے۔
والکر ترک کا کہنا تھا کہ آئینی ترامیم کے تحت سپریم کورٹ کے بجائے نئی وفاقی آئینی عدالت کو آئینی مقدمات سننے کے اختیارات دیئے گئے ہیں جب کہ سپریم کورٹ اب صرف سول اور کریمنل کیسز سنے گی۔
انہوں نے کہا کہ ججز کی تقرریوں، ترقیوں اور تبادلوں کے طریقہ کار میں تبدیلی نے بھی پاکستان عدلیہ کی آزادی کے ڈھانچے کو کمزور کرنے سے متعلق گہرے خدشات کو جنم دیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹس اور ججز بھی صدر کی جانب سے تجویز کردہ ہیں جنھیں وزیراعظم کی ایڈوائس پر مقرر کیا گیا، ان تبدیلیوں سے عدلیہ میں سیاسی مداخلت اور ایگزیکٹوز کے کنٹرول کے خدشات پیدا ہوگئے ہیں۔
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: پاکستان میں کی گئی
پڑھیں:
انسانی حقوق کے تحفظ میں صحافت کا کردار اہم ہے، خرم نواز گنڈاپور
پاکستان عوامی تحریک کے سیکرٹری جنرل کا کہنا ہے کہ سانحہ ماڈل ٹائون میں صحافیوں کی بہادری تاریخ کا روشن باب ہے، انسانی حقوق کی خلاف ورزی جہاں کہیں ہو صحافی مظلوموں کی آواز بن کر سامنے آتے ہیں، آزاد میڈیا معاشرے کو زندہ اور باشعور رکھتا ہے، صحافت کو دبانا دراصل معاشرے کو اندھا اور گونگا کرنا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سیکرٹری جنرل پاکستان عوامی تحریک خرم نواز گنڈاپور نے نیشنل یونین آف جرنلسٹس کے کنونشن اور ایوارڈ تقسیم کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ صحافی معاشرے میں انسانی حقوق کے تحفظ کیلئے کردار ادا کرتے ہیں، ظلم اور جبر کے مقابلے میں سب سے پہلے صحافی ہی سچ کی آواز بن کر سامنے آتے ہیں، سانحہ ماڈل ٹائون میں میڈیا نے غیر معمولی جرات، پیشہ وارانہ دیانت اور سچائی کا ثبوت دیا۔ انہوں نے کہا کہ صحافیوں نے خوف کی فضا کے باوجود حقائق چھپنے نہیں دیئے، سانحہ ماڈل ٹائون میں صحافیوں کی بہادری تاریخ کا روشن باب ہے۔ انہوں نے کہا کہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی جہاں کہیں ہو صحافی مظلوموں کی آواز بن کر سامنے آتے ہیں، آزاد میڈیا معاشرے کو زندہ اور باشعور رکھتا ہے، صحافت کو دبانا دراصل معاشرے کو اندھا اور گونگا کرنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ نیشنل یونین آف جرنلسٹس کے کنونشن اور ایوارڈ تقسیم کی تقریب میں شریک ہو کر مجھے بے حد خوشی ہوئی ہے، یہ تقریب نہ صرف صحافیوں کی محنت، قربانی اور پیشہ وارانہ خدمات کا اعتراف ہے بلکہ آزاد صحافت کے اس مقدس مشن کی تجدید بھی ہے جس کا امین ہر سچا صحافی ہے۔ انہوں نے کہاکہ میں ایک بار پھران تمام صحافیوں کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں جنہوں نے سانحہ ماڈل ٹائون جیسے اندوہناک واقعے میں بے مثال جرات اور سچائی کا مظاہرہ کیا، ان کے کیمرے، قلم اور آواز نے سچ کو زندہ رکھا، یہ کردار تاریخ کے صفحات پر ہمیشہ روشن رہے گا۔ انہوں نے نیشنل یونین آف جرنلسٹس کو بھی خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہاکہ آپ سب لوگ صحافی برادری کے حقوق، تحفظ اور پیشہ وارانہ تربیت کیلئے مسلسل کوشاں ہیں، جن صحافیوں کو ایوارڈز ملے ہیں وہ دراصل اس بات کا ثبوت ہیں کہ محنت، سچائی اور پیشہ وارانہ معیار ہمیشہ اپنا مقام بناتے ہیں۔