عوام کے مسائل حل نہ کرنا جمہوری و آئینی اور اخلاقی قدروں کے منافی عمل ہے، شاداب نقشبندی
اشاعت کی تاریخ: 29th, November 2025 GMT
ایک بیان میں سربراہ پاکستان سنی تحریک نے کہا کہ غریب عوام کے مسائل کو ہنگامی بنیادوں پر حل نہ کیا گیا تو ان میں احساس محرومی جنم لے گا جو کسی طور بھی ملک و جمہوریت کے مفاد میں نہیں ہے، پاکستان کے عظیم مفاد میں اختلافات کو بالائے طاق رکھ کرتعمیری سوچ استوار کرنی ہوگی۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان سنی تحریک کے سربراہ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا ہے کہ عوام کے مسائل حکمران جانتے ہیں اقدار کو طول دینے کیلئے الجھاکر رکھنا چاہتے ہیں، عوام کے مسائل حل نہ کرنا جمہوری و آئینی اور اخلاقی قدروں کے منافی عمل ہے، حکمران اپنے اقتدار کو طول دینے کیلئے آئین سے متصادم ترمیم کیلئے آگے بڑھ کر کام کرتے ہیں، عوام کے مسائل کے حل مہنگائی و بیروزگاری کی روک تھام اور عوام کو ریلیف دینے کیلئے کوئی ترمیم نہیں کررہے، پاکستان کو مستحکم بنانا ہے تو پھر نیتوں کو اچھا اور بے لوث خدمت کو شعار بنانا ہوگا، حکمران طبقہ آمرانہ طرز پالیسیوں کو مستر کرکے جمہوری پالیسیاں مرتب کرے تاکہ عوام کو ہر ممکن طور پر یلیف فراہم کیا جاسکے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے مرکز اہلسنت سے جاری ایک بیان میں کیا۔
شاداب نقشبندی نے کہا کہ عوام اور تاجروں کے مسائل کے حل کیلئے آواز بلند کرتے رہیں گے، عوام کو کسی صورت تنہا نہیں چھوڑیں گے، ان کے مسائل کے حل کیلئے ہر فورم پر آواز بلند کرتے رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو ریلیف، صحت اور سستا انصاف فراہم کرنا حکمرانوں کی ذمہ داری ہے، قرضوں کی بجائے نئے معیشت کو بہتر بنانے کیلئے نئی راہیں تلاش کرنا ہونگی، مہنگائی بے روزگاری کا خاتمہ اور عوامی مسائل کے حل کیلئے تمام جماعتوں کو یکجا ہوکر جدوجہد کرنا ہوگی، مظلوم غریب عوام مسائل کے حل کیلئے حکومت اور سیاسی ومذہبی جماعتوں سے آس لگائے ہوئے ہیں، غریب عوام کے مسائل کو ہنگامی بنیادوں پر حل نہ کیا گیا تو ان میں احساس محرومی جنم لے گا جو کسی طور بھی ملک و جمہوریت کے مفاد میں نہیں ہے، پاکستان کے عظیم مفاد میں اختلافات کو بالائے طاق رکھ کرتعمیری سوچ استوار کرنی ہوگی۔
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: مسائل کے حل کیلئے عوام کے مسائل مفاد میں عوام کو کہ عوام نے کہا
پڑھیں:
کشمیری تنازعہ کشمیر کا اپنی خواہشات کے منافی حل ہرگز قبول نہیں کریں گے، ڈاکٹر فائی
ڈاکٹر فائی نے کہا کہ جموں و کشمیر کے لوگ پہلے ہی بھارت، پاکستان اور عالمی برادری کو بتا چکے ہیں کہ ان کی خواہشات کے خلاف مسلط کیا گیا کوئی حل کبھی بھی قابل قبول نہیں ہو گا۔ اسلام ٹائمز۔ ورلڈ فورم فار پیس اینڈ جسٹس کے چیئرمین ڈاکٹر غلام نبی فائی نے کہا ہے کہ عالمی طاقتیں تنازعہ کشمیر کا کوئی حل مسلط کرنے کا کوئی اختیار نہیں رکھتیں بلکہ ان کا فرض ہے کہ وہ اس مسئلے کے کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق منصفانہ حل میں مدد فراہم کریں۔ ذرائع کے مطابق ڈاکٹر غلام نبی فائی نے ان خیالات کا ا ظہار جماعت اسلامی پاکستان کے زیراہتمام لاہور کے ایک مقامی ہوٹل میں منعقدہ ایک کانفرنس سے خطاب کے دوران کیا۔ کانفرنس میں 42 ممالک سے 160 سے زائد مندوبین نے شرکت کی۔ ڈاکٹر فائی نے کہا کہ جموں و کشمیر کے لوگ پہلے ہی بھارت، پاکستان اور عالمی برادری کو بتا چکے ہیں کہ ان کی خواہشات کے خلاف مسلط کیا گیا کوئی حل کبھی بھی قابل قبول نہیں ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ حتمی تصفیہ کا تعین حق خودارادیت کے استعمال کے ذریعے کیا جانا چاہیے جیسا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے تحت ضمانت دی گئی ہے۔ ڈاکٹر فائی نے کہا کہ اگرچہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادیں کئی دہائیوں قبل منظور کی گئی تھیں، لیکن ان کی اہمیت و افادیت کم نہیں ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک بامعنی حل کی طرف بڑھنے کے لیے اعتماد سازی کے اقدامات ضروری ہیں جس میں مسرت عالم بٹ، شبیر احمد شاہ، محمد یاسین ملک، آسیہ اندرابی اور دیگر رہنماﺅں کی فوری رہائی وغیرہ شامل ہیں۔
جماعت اسلامی پاکستان کے امیر حافظ نعیم الرحمن نے اپنے افتتاحی خطاب میں کہا کہ دنیا کشمیر پر بھارت کے فوجی قبضے سے لاتعلق بنی ہوئی ہے جو افسوسناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ 10 لاکھ سے زائد بھارتی فورسز اہلکار کشمیریوں کے بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں جاری رکھے ہوئے ہے لیکن عالمی برادری خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔کانفرنس میں منظور کیے گئے اعلامیے میں کہا گیا کہ کشمیر کا تنازعہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے ذریعے بین الاقوامی قانون میں موجود ہے۔ سات دہائیوں سے زیادہ عرصے سے کشمیریوں اور فلسطینیوں کے حق خودارادیت سے انکار نے جنوبی ایشیاء اور مشرق وسطیٰ کو ممکنہ جوہری تصادم کے دہانے پر دھکیل دیا ہے، دونوں تنازعات کا پرامن حل عالمی استحکام کے لیے ضروری ہے۔