عارف علوی کے بیٹے کا نام پی این آئی ایل میں شامل کرنے پر وفاق کو نوٹس
اشاعت کی تاریخ: 29th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251129-08-7
کراچی (اسٹاف رپورٹر) سابق صدر مملکت عارف علوی کے بیٹے کا نام پی این آئی ایل میں شامل کرنے پر وفاقی حکومت کو نوٹس جاری کردیا گیا۔سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ نے سابق صدر عارف علوی کے بیٹے اواب علوی اور آفتاب جہانگیر کا نام پی این آئی ایل میں شامل کرنے کے خلاف دائر درخواست پر وفاقی حکومت اور دیگر فریقین کو نوٹس جاری کردیے۔ عدالت کے روبرو دونوں شخصیات کی جانب سے پی این آئی ایل میں نام شامل کرنے کے فیصلے کو چیلنج کیا گیا، جس کی سماعت آئینی بینچ نے کی۔سماعت کے دوران بیرسٹر علی طاہر نے مؤقف اختیار کیا کہ عدالت نے قبل ازیں دونوں کے نام پی این آئی ایل سے خارج کرنے کا حکم دیا تھا، جس پر عمل بھی کیا گیا تاہم عدالتی حکم پر نام نکالنے کے صرف 2 گھنٹے بعد دوبارہ دونوں کے نام اسی فہرست میں شامل کردیے گئے۔درخواست گزاروں نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ اقدام عدالتی حکم کی خلاف ورزی کے مترادف ہے۔بعد ازاں عدالت نے دلائل سننے کے بعد وفاقی حکومت سمیت تمام متعلقہ فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 10 دسمبر تک جواب طلب کر لیا، آئینی بنچ نے ہدایت کی کہ اگلی سماعت پر فریقین وضاحت پیش کریں کہ عدالتی حکم کے باوجود درخواست گزاروں کے نام دوبارہ فہرست میں کیوں شامل کیے گئے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: پی این ا ئی ایل میں نام پی این ا ئی ایل کو نوٹس
پڑھیں:
بیرون ملک سفری پابندیوں کے کیس میں اسلام آباد ہائیکورٹ کا بڑا فیصلہ
بیرون ملک سفری پابندیوں سے متعلق اسلام آباد ہائیکورٹ کا بڑا فیصلہ سامنے آگیا۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ صرف اوور اسٹے پر دوسرے ملک سے ڈی پورٹ ہونا سفری پابندی کا جواز نہیں، جسٹس محمد آصف نے چار صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کیا۔
عدالت نے دوسرے ملک سے اوور اسٹے پر ڈی پورٹ ہونے پر پی سی ایل میں نام ڈالنے کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے شہری کا نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ سے نکالنے کا حکم دے دیا۔
فیصلے میں کہا گیا کہ سفری پابندی کے لیے کسی جرم ، سیکیورٹی خدشے یا ناقابل تردید ثبوت کا وجود ضروری ہے، بغیر جرم شہری کے بیرونِ ملک سفر اور روزگار کے آئینی حق پر پابندی لگانے کا جواز نہیں۔
عدالت نے کہا کہ سفری پابندی کا اقدام آئین کے آرٹیکل 4، 9، 10-A، 15، 18 اور 25 کی خلاف ورزی ہے۔ شہری کا نام اس طرح سفری پابندی لسٹ میں رکھنا آئین کے بنیادی حقوق اور قانونی تقاضوں کی خلاف ورزی ہے۔
عدالت کے مطابق وفاقی حکومت نے بتایا کہ خلیجی ملک میں اوور اسٹے کی وجہ سے شہری ڈی پورٹ ہوا، وفاقی حکومت کا موقف ہے پالیسی کی تحت شہری کا نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالا گیا، وفاقی حکومت کے مطابق دوسرے شہریوں کے ویزوں کے تحفظ اور ملک کے وقار کے لیے یہ قدم اٹھایا گیا۔