data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

251129-01-19
کراچی(اسٹاف رپورٹر) امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان نے نائب امیر کراچی و اپوزیشن لیڈر کے ایم سی سیف الدین ایڈووکیٹ کے ہمراہ گلشن اقبال میں قبضہ مافیا کی جانب سے ایک شہری کے گھر پر قبضے کی کوشش کے حوالے سے متاثرہ اشخاص والد محمد یامین،صاحبزادے محمد طاہر کے گھر B60بلاک 13D1 پرہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ سندھ، وزیر داخلہ، ڈی آئی جی اور ایس ایس پی سے مطالبہ کیا کہ گزشتہ رات B60بلاک 13D1میں مکان پر قبضہ کرنے کے واقعے کی فوری اور شفاف تحقیقات کرائی جائیں،گھر پر مسلح ہو کے حملہ کرنے والے تمام افراد کو گرفتار کیا جائے،قبضہ کرنے والوں اور ان کے سرپرستوں کو قانون کی گرفت میں لایا جائے،پولیس اہلکاروں کی غفلت پر بھی سخت کارروائی لازم ہے،وکالت کا شعبہ عزت اور انصاف کا مقام رکھتا ہے، مگر چند عناصر کالے کوٹ پہن کر دہشت گردی میں ملوث ہیں۔ ہمارا کراچی بار اور سندھ بار سے بھی مطالبہ ہے کہ قبضے کے اس واقعے میں ملوث وکلاکے لائسنس منسوخ اور ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ گلشن اقبال جیسے علاقے میں اس طرح قبضے کی کوششیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ کراچی اس وقت مکمل طور پر قبضہ مافیا اور جرائم پیشہ عناصر کے رحم و کرم پر ہے۔منعم ظفر خان نے کہا کہ اس طرح کی شکایات اور علاقوں سے بھی موصول ہوئی ہیں، ہم قبضہ مافیا کی جانب سے شہری جائدادوں کو ہتھیانے کے خلاف اور متاثرین کے ساتھ ہیں۔ جماعت اسلامی نے ادارہ نورِ حق میں ایکشن کمیٹی قائم کردی ہے جبکہ کراچی بھر میں عوامی کمیٹیاں پہلے ہی فعال ہیں۔ اس نوعیت کے واقعات کہیں بھی پیش آئیں تو عوام جماعت اسلامی سے رجوع کریں۔ جماعت اسلامی ہر گلی، ہر محلے، ہر بستی میں ظلم کے خلاف عوام کا ساتھ دے گی۔منعم ظفر خان نے کہاکہ گزشتہ رات 50 سے 60 افراد نے پولیس کی سرپرستی میں ایک گھر پر دھاوا بولا، فائرنگ کی اور گھر کا سامان باہر پھینک کر قبضے کی کوشش کی جو حکومتی پشت پناہی میں کی جانے والی دہشت گردی اور غنڈہ گردی ہے۔انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کی مقامی ٹیم اور اہل محلہ کے تعاون سے متاثرہ اشخاص والد محمد یامین،صاحبزادے محمد طاہرکے گھر پر قبضہ ناکام بنایا گیا، لیکن یہ واقعہ اس بات کی سنگین علامت ہے کہ شہر کی زمینوں اور مکانات پر جعلی کاغذات اور فائلوں کے ذریعے قبضے کیے جارہے ہیں۔B-60 کی جعلی فائل اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ کلفٹن، شاہ لطیف، نارتھ ناظم آباد اور شہر کے دیگر علاقوں میں جگہ جگہ پارکوں، سرکاری زمینوں اور رہائشی پلاٹوں پر قبضہ مافیا پوری حکومتی سرپرستی میں سرگرم ہے اور زمینوں پر قبضے کا سارا نظام ایک منظم سازش کے تحت چل رہا ہے۔اسکیم 33 سمیت دیگر علاقوں میں جعلی فائلیں، جعلی انتخابات، غیر قانونی الاٹمنٹ کیے جارہے ہیں اور کوآپریٹو سوسائٹیز کا کردار بھی سوالیہ نشان ہے۔کلفٹن، بن قاسم پارک، عمر شریف پارک اور بیچ ویو سمیت متعدد مقامات پر پارکوں کی دیواریں توڑ کر قبضے کرائے گئے، یہ سب قابض میئر مرتضیٰ وہاب، سندھ حکومت اور متعلقہ اداروں کی براہِ راست سرپرستی میں ہورہا ہے۔4 ستمبر کے ہائی کورٹ آرڈر کے باوجود پارکوں پر تجارتی کام اور تعمیرات کا سلسلہ جاری ہے، جو عدالتی فیصلوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔انہوں نے کہا کہ کراچی کو مہاجر، سندھی، پختون یا پنجابی کے نام پر تقسیم کرنے والے عناصر بھی اسی مافیا کا حصہ ہیں۔جماعت اسلامی اس شہر کو تقسیم کرکے لوٹنے کی ہر کوشش ناکام بنائے گی۔جماعت اسلامی کل بھی مظلوموں کے ساتھ کھڑی تھی، آج بھی کھڑی ہے، اور شہر کراچی کا مقدمہ ہر فورم پر لڑتی رہے گی۔پریس کانفرنس میں امیر جماعت اسلامی ضلع شرقی نعیم اختر، ٹاؤن چیئرمین گلشن اقبال ڈاکٹر فواد، وائس چیئرمین ابراہیم صدیقی،پبلک ایڈ کمیٹی کے مقامی رہنما سید قطب احمد، وکلارہنما آصف آزاد ایڈووکیٹ،مجیب ایڈووکیٹ، سیکرٹری اطلاعات زاہد عسکری، سینئر ڈپٹی سیکرٹری اطلاعات صہیب احمد سمیت دیگر ذمے داران بھی موجود تھے۔

امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان ،اپوزیشن لیڈر بلدیہ عظمیٰ سیف الدین ایڈووکیٹ چیئرمین ٹائون گلشن اقبال ڈاکٹر فواد احمدکے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کررہے ہیں

سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: جماعت اسلامی گلشن اقبال قبضہ مافیا قبضے کی گھر پر

پڑھیں:

کراچی، رینجرز اور ایس آئی یولیس کے ساتھ مقابلے میں 3 بھتہ خور ہلاک، ایک زخمی گرفتار

کراچی:

ملیر 15 کے علاقے میں سندھ رینجرز اور اسپیشل انویسٹی گیشن یونٹ (ایس آئی یو) پولیس کے مشترکہ آپریشن کے دوران مبینہ مقابلے میں تین ملزمان ہلاک جبکہ ایک زخمی حالت میں گرفتار کر لیا گیا۔

چھیپا حکام کے مطابق قانون نافذ کرنے والے اداروں اور مبینہ بھتہ خوروں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ تقریباً آدھے گھنٹے تک جاری رہا جس کے بعد تین ملزمان مارے گئے جبکہ ایک زخمی حالت میں گرفتار ہوا۔

فائرنگ ختم ہونے کے بعد ہلاک اور زخمی ملزمان کو ریسکیو کی ایمبولینسوں کے ذریعے جناح اسپتال منتقل کیا گیا۔

حکام کے مطابق ہلاک ہونے والے ملزمان کی شناخت شاہ رخ، راحب اور علی حمزہ کے ناموں سے ہوئی ہے جبکہ زخمی حالت میں گرفتار ملزم کی شناخت محمد وسیم کے نام سے کی گئی ہے۔

ابتدائی معلومات کے مطابق ہلاک اور گرفتار ملزمان بھتہ خوری سمیت دیگر سنگین جرائم میں ملوث تھے۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے واقعے کی مزید تفتیش کر رہے ہیں اور ملزمان کے ممکنہ ساتھیوں کی تلاش بھی جاری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • مسجد اقصیٰ کی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش مسترد، 8 اسلامی ممالک کا اسرائیل کو فوری انتباہ
  • صدر مملکت سے بلوچستان کے وزراء کی ملاقات، مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
  • صدر مملکت سے بلوچستان کے صوبائی وزراء کی ملاقات، مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • کراچی، رینجرز اور ایس آئی یولیس کے ساتھ مقابلے میں 3 بھتہ خور ہلاک، ایک زخمی گرفتار
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم انتقال کرگئے
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
  • کراچی: 6 سالہ بچی سے مبینہ زیادتی کرنے والا ملزم پولیس مقابلے میں مارا گیا