کراچی:

گلشن اقبال میں بچے کے گٹر میں گرنے کے واقعے کیخلاف  بلدیہ عظمیٰ کراچی کے اجلاس میں اپوزیشن نے شدید احتجاج کیا۔ اپوزیشن نے مرتضیٰ وہاب کے استعفیٰ اور واقعے کا مقدمہ ایم ڈی واٹر بورڈ، ایکسیئن اور میئر کراچی کیخلاف درج کرنے کا مطالبہ کردیا۔

اجلاس کے دوران جماعت اسلامی کے ارکان نے ایوان میں شدید نعرے بازی کرتے ہوئے میئر مرتضی وہاب کیخلاف قاتل قاتل کے نعرے لگائے جس کے باعث ایوان مچھلی بازار کا منظر پیش کرنے لگا۔

اس موقع پر پیپلز پارٹی کے پارلیمانی لیڈر کرم اللہ وقاصی نے اپوزیشن پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پورے کراچی میں 80 ہزار سے زائد گٹر کے ڈھکن یوسی چیئرمینز کو ایک سال میں دیے گئے، ہم اس واقعے کے ذمہ داروں کو کٹہرے میں لائیں گے، ہر یوسی کے چیئرمین کو دیے گئے گٹر کے ڈھکن بھی گنوا دینگے۔

پیپلز پارٹی کے ڈپٹی پارلیمانی لیڈر دل محمد کا کہنا تھا کہ کراچی کو نا اہل جماعت اسلامی کے حوالے نہیں کرینگے، جماعت اسلامی ہمیشہ منافقت کرتی ہے۔

چیف وہپ پیپلز پارٹی مسرت خان نے کہا کہ  آپ میئر کراچی کو اس طرح بلیک میل نہیں کر سکتے، جس ماں کی گود اجڑی ہے اس کے ساتھ موجود ہوں، آپ کی سیاست پر لعنت بھیجتی ہوں۔ میئر کراچی کام کر رہا ہے آپ کو تکلیف ہو رہی ہے، آپ ہمارے کل کے جلسے سے خوفزدہ ہیں۔

اجلاس کے دوران مختلف قراردادیں منظور کرلی گئیں، بولٹن مارکیٹ کی تیسری منزل اولڈ سٹی ایریا پر چارجڈ پارکنگ کے لیے مشترکہ منصوبہ بندی کی قرارداد منظور کرلی گئی، بس ٹرمینل گلشن غازی بلدیہ ٹاؤن پارکنگ مقاصد پر کرائے پر دینے کی قرارداد بھی منظور کرلی گئی، کاروباری علاقوں کے ارد گرد فٹ پاتھوں کے بہتری و دیگر تزئین و آرائش کے کاموں کی قرارداد بھی ایوان نے منظور کرلی۔

بعد ازاں اپوزیشن کے احتجاج اور شدید نعرے بازی کے باعث اجلاس غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کردیا گیا۔

دریں اثنا جماعت اسلامی کے پارلیمانی لیڈر سیف الدین ایڈووکیٹ نے اجلاس ملتوی ہونے کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ آج کا ایجنڈا کھانے پینے اور کرپشن کا سلسلہ جاری رکھنے کا تھا، ہم نے بچے کی ہلاکت کے بارے میں بات کرنے کی کوشش کی لیکن پوائنٹ آف آرڈر پر بولنے نہیں دیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ بچے گٹروں میں گر کر ہلاک ہورہے ہیں، بچوں کی ہلاکت کے متعدد واقعات ہوچکے ہیں، بجائے واٹر بورڈ کی مذمت کریں میئر اس کا دفاع کررہے ہیں، شہر میں پیپلز پارٹی کی حکومت اور میئر ہے اگر ڈھکنے چوری ہورہے ہیں تو حکومت اور میئر کیا کررہے ہیں۔

سیف الدین ایڈووکیٹ نے کہا کہ جس جگہ واقعہ ہوا وہ کے ایم سی کی سڑک ہے، واٹر بورڈ اس کا ذمہ دار ہے، ڈھکن لگانا کسی یوسی یا ٹائون کا کام نہیں تھا، اجلاس کے دوران بجائے اس واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ایشو سے توجہ ہٹانے کی کوشش کی گئی۔ اس واقعے کا مقدمہ واٹر بورڈ کے ایم ڈی، مرتضیٰ وہاب اور ایکسین کی خلاف درج ہونا چاہئے۔ اخلاقی جرات ہے تو مرتضیٰ وہاب کو استعفی دیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم اس جدوجہد کو آگے بڑھائیں گے اور مظلوموں کے ساتھ کھڑے ہوں گے، جہاں گٹر میں گرنے کے واقعات ہوں یا لائنوں میں گندا پانی آرہا ہو عوام ایم ڈی اور مرتضیٰ وہاب کے خلاف مقدمات درج کرائیں۔

سیف الدین ایڈووکیٹ نے کہا کہ یونین کونسلز کو گٹر کے ڈھکن دینے کا میئر کا دعویٰ غلط ہے، کل کے واقع پر پورا کراچی غمزدہ ہے، میئر کراچی لائو لشکر کے ساتھ ایک سویمنگ پول کا افتتاح کرنے گئے ہیں۔ ورلڈ بینک سے بھاری قرضہ لیا گیا وہ کہاں جارہا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: جماعت اسلامی پیپلز پارٹی میئر کراچی منظور کرلی واٹر بورڈ نے کہا کہ

پڑھیں:

میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت

لندن کے میئر سر صادق خان(sadiq khan) نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو آن لائن دنیا میں درپیش خطرات اور نقصانات سے بچانے کے لیے یہ ایک ضروری اقدام ہے۔

منگل کو لندن میں انجینئرز، کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں سے خطاب کے دوران صادق خان نے کہا کہ جس طرح خوراک اور ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کی حفاظت ثابت کرنا پڑتی ہے، اسی طرح سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی اپنے پلیٹ فارمز کے بچوں کے لیے محفوظ ہونے کا ثبوت دینا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ جب تک سوشل میڈیا کمپنیاں اپنے پلیٹ فارمز کی حفاظت ثابت نہیں کرتیں، اس وقت تک کم عمر بچوں کے لیے ان پر پابندی عائد کرنا ہی نقصانات کو روکنے کا مؤثر طریقہ ہے۔

میئر نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ آن لائن مینوسفیئر نامی رجحان نوجوان لڑکوں اور مردوں پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے، جس سے ایک کھوئی ہوئی نسل پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔

یہ مؤقف برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر کے مؤقف سے زیادہ سخت سمجھا جا رہا ہے، اگرچہ وزیر اعظم نے بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے اہم اقدامات کا وعدہ کیا ہے، تاہم انہوں نے ابھی تک سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی حمایت نہیں کی۔

برطانوی حکومت نے حال ہی میں بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق ایک مشاورتی عمل مکمل کیا ہے، جس میں سوشل میڈیا کے لیے کم از کم عمر مقرر کرنے، ایپس کے استعمال کے اوقات محدود کرنے، لا محدود اسکرولنگ اور آٹو پلے جیسی عادت ساز خصوصیات پر پابندی لگانے اور عمر کی تصدیق کے سخت نظام متعارف کرانے جیسے اقدامات پر رائے طلب کی گئی تھی۔

مزید پڑھیں:نیشنل ہیلتھ سروسز کیلئے 22 ارب روپے کا بجٹ مختص، اہم تفصیلات سامنے آگئیں

مشاورت کے نتائج کی بنیاد پر حکومت بچوں کے تحفظ کے لیے آئندہ پالیسی اور قانون سازی کے حوالے سے فیصلے کرے گی۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہوسکا، شہری رُل گئے
  • گلشن اقبال میں تیز رفتار ڈمپر الٹ گیا، شہری معجزانہ طور پر محفوظ، مشتعل افراد کا کلینر پر تشدد
  • مردان: گھر سے خاتون سمیت 3 افراد کی لاشیں برآمد
  • ہمارا ایک مطالبہ ہے بانی کو شفا انٹرنیشنل منتقل کیا جائے، سہیل آفریدی
  • سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
  • کراچی: ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا
  • امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
  • وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
  • کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہو سکا