خلیل الرحمان قمر ویڈیو اسکینڈل: ملزم حسن شاہ کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی درخواست دائر
اشاعت کی تاریخ: 1st, December 2025 GMT
ڈرامہ نگار خلیل الرحمان قمر نے اپنے وکیل مدثر چوہدری کے ذریعے ملزم حسن شاہ کے خلاف اندراجِ مقدمہ کی درخواست دائر کر دی۔
ایڈیشنل سیشن جج محمد کاشف نے کیس کی سماعت کرتے ہوئے پولیس سے آئندہ تاریخ پر رپورٹ طلب کرلی اور کارروائی 16 دسمبر تک ملتوی کر دی۔
درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ این سی سی آئی اے کے مقدمے میں حسن شاہ کی ضمانت منظور ہوئی، تاہم اُس نے عدالت میں جعلی ضمانتی مچلکے جمع کرائے۔
خلیل الرحمان قمر نے بتایا کہ انہوں نے تھانہ اسلام پورہ میں ملزم کے خلاف درخواست دی لیکن پولیس نے مقدمہ درج نہیں کیا۔
درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی کہ ملزم کے خلاف فوری مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا جائے۔ ملزم پر الزام ہے کہ اُس نے خلیل الرحمان قمر کی نامناسب ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر وائرل کی تھی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: خلیل الرحمان قمر کے خلاف
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔