لاہور میں پریس کانفرنس میں وفاقی وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ افغان مہاجرین کی ایک بڑی تعداد کو واپس بھیجنے میں کامیاب ہو گئے ہیں، اب تک 11 لاکھ افغان مہاجرین کو واپس بھجوایا جا چکا ہے، اگلے ہفتے سے ایس ایچ اوز سطح پر ڈیوٹی لگا رہے ہیں کہ افغان باشندوں کو تلاش کریں، خیبرپختونخوا میں افغان باشندوں کیساتھ تعاون کیا جا رہا ہے، خیبرپختونخوا سب سے پہلے اپنے ملک کا سوچے۔ اسلام ٹائمز۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ سوشل میڈیا پر جعلی خبریں چلانے والوں کیخلاف سخت کارروائی کی جا رہی ہے، سوشل میڈیا پر 90 فیصد خبریں جعلی چلائی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی کوجعلی خبریں چلانے کی اجازت نہیں دیں گے، ہاں آپ کے پاس ثبوت ہے تو بلاجھجھک خبریں چلا سکتے ہیں۔ محسن نقوی نے کہا کہ جعلی خبریں چلانے والے صحافی نہیں ہیں، صحافی کو خبریت کا علم ہوتا ہے، وہ خبر کے لوازمات کو ملحوظ رکھ کر خبر چلاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قومی سلامتی کے معاملے پر کسی کو رعایت نہیں دیں گے نہ کوئی سمجھوتہ کیا جائے گا۔

محسن نقوی نے کہا کہ ایف سی ہیڈکوارٹر حملے میں افغان شہری ملوث نکلے ہیں، جبکہ شمالی وزیر، ڈی جی خان سمیت جہاں جہاں دہشت گردوں کے ٹھکانے ہیں، ان کیخلاف آپریشن جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ خودکش حملے کسی صورت قبول نہیں، جو افغانستان سے پاکستان آئے گا، اسے گرفتار کرلیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ افغان مہاجرین کی ایک بڑی تعداد کو واپس بھیجنے میں کامیاب ہو گئے ہیں، اب تک 11 لاکھ افغان مہاجرین کو واپس بھجوایا جا چکا ہے، اگلے ہفتے سے ایس ایچ اوز سطح پر ڈیوٹی لگا رہے ہیں کہ افغان باشندوں کو تلاش کریں، خیبرپختونخوا میں افغان باشندوں کیساتھ تعاون کیا جا رہا ہے، خیبرپختونخوا سب سے پہلے اپنے ملک کا سوچے۔ محسن نقوی نے کہا کہ وارننگ دے رہے ہیں کہ یہاں رہ جانے والے افغان باشندے خود واپس چلے جائیں۔

محسن نقوی نے کہا کہ ہم اپنے پاسپورٹ کی رینکنگ بہتر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جو صحیح نوکری پر بیرون ملک جا رہا ہے وہ بالکل جائے، اس کو نہیں روکا جائے گا۔ ایک مثال دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایک شخص ڈرائیونگ کے شعبے میں سعودی عرب جا رہا تھا، جس کے پاس ڈرائیونگ لائسنس ہی نہیں تھا اور اسے گاڑی چلانا بھی نہیں آتی تھی۔ ہمیں اپنے سسٹم کو بھی درست کرنا ہوگا۔
 

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: محسن نقوی نے کہا کہ انہوں نے کہا کہ افغان مہاجرین افغان باشندوں کہ افغان رہے ہیں کو واپس جا رہا

پڑھیں:

حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)وزیراعظم کے اپنا گھر پروگرام کے تحت اپنا ذاتی گھر حاصل کرنے کے خواہشمند شہریوں کے لیے بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ حکومت نے اعلان کیا ہے کہ پروگرام کے تحت کمرشل بینک اب تک 160 ارب روپے مالیت کے ہاؤسنگ قرضے منظور کر چکے ہیں جبکہ کامیاب درخواست گزاروں کو قرضوں کی فراہمی کا عمل بھی تیزی سے جاری ہے۔

یہ بات وزیر خزانہ کے مشیر عدنان پاشا نے کراچی میں منعقدہ فرسٹ انٹرنیشنل انشورنس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتائی۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کا اپنا گھر پروگرام ملک میں تقریباً ایک کروڑ (10 ملین) گھروں کی کمی کو پورا کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے اور اس کے ذریعے کم آمدنی والے خاندانوں کو رعایتی شرائط پر اپنے گھر کا مالک بننے کا موقع فراہم کیا جا رہا ہے۔

عدنان پاشا نے بتایا کہ اس اسکیم کے تحت شہریوں کو صرف 5 فیصد رعایتی مارک اپ پر ہاؤسنگ قرض فراہم کیا جا رہا ہے جبکہ وزارت خزانہ اس منصوبے میں شامل بینکوں کے ممکنہ قرض نقصان کا 10 فیصد تک بوجھ خود برداشت کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ حکومت پہلے 10 سال تک مارک اپ سبسڈی بھی فراہم کر رہی ہے تاکہ ہاؤسنگ فنانس زیادہ سے زیادہ سستا اور عوام کی پہنچ میں رہ سکے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ زیادہ سے زیادہ مستحق خاندان اس سہولت سے فائدہ اٹھائیں، جس سے نہ صرف رہائشی مسائل میں کمی آئے گی بلکہ تعمیراتی شعبے، سیمنٹ، اسٹیل، ٹائلز، الیکٹریکل مصنوعات اور دیگر متعلقہ صنعتوں میں بھی معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔

اس موقع پر عدنان پاشا نے حکومت کے الیکٹرک موٹرسائیکل پروگرام پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت آئندہ برسوں میں 20 لاکھ الیکٹرک موٹرسائیکلیں متعارف کرانے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ ان کے مطابق پاکستان میں تقریباً 30 لاکھ رجسٹرڈ موٹرسائیکلیں ہر سال قریب 8 ارب ڈالر مالیت کا درآمدی پٹرول استعمال کرتی ہیں، جس سے نہ صرف قیمتی زرمبادلہ خرچ ہوتا ہے بلکہ ماحولیاتی آلودگی میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت شہریوں کو الیکٹرک بائیکس کی خریداری پر سبسڈی اور بلاسود فنانسنگ فراہم کر رہی ہے تاکہ ایندھن پر انحصار کم کیا جا سکے، تاہم ملک میں الیکٹرک بائیکس کی پیداوار اور سپلائی کے مسائل اب بھی موجود ہیں، جنہیں دور کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

عدنان پاشا نے زرعی شعبے کے حوالے سے بتایا کہ حکومت نے حال ہی میں زرخیزی اسکیم بھی متعارف کرائی ہے جس کے تحت 21 بینکوں پاکستان بینکس ایسوسی ایشن اور سپارکو کے تعاون سے کسانوں کو ڈیجیٹل زرعی قرضے فراہم کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے میں سیٹلائٹ مانیٹرنگ اور ریئل ٹائم ڈیٹا کے ذریعے قرضوں کے استعمال کی نگرانی کی جائے گی تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے اور زرعی پیداوار میں اضافہ ہو۔

حکومتی حکام کے مطابق اپنا گھر پروگرام اور دیگر مالیاتی اسکیموں کا مقصد کم آمدنی والے طبقات کو سہولت فراہم کرنے معیشت کو متحرک کرنے، تعمیراتی سرگرمیوں کو فروغ دینے اور ملک میں پائیدار ترقی کی راہ ہموار کرنا ہے۔

مزید پڑھیں۔سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کے بعد پنشن میں بھی اضافہ

متعلقہ مضامین

  • حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان
  • جرمنی کا بڑا فیصلہ، یکم اگست سے توسیع شدہ افغان پاسپورٹ تسلیم نہیں کیے جائیں گے
  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • افغانوں کو شناختی کارڈ اجراء، دہشتگردوں سے مبینہ روابط، ملزموں کا ریمانڈ 
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • محسن نقوی کی مستونگ کے قریب  سیشن جج اور جوڈیشل مجسٹریٹ پر فائرنگ کی پرزور مذمت
  • ایرانی وزیر داخلہ سکندر مومنی کی لاہور آمد: وفاقی وزیر داخلہ اور گورنرپنجاب کے ہمراہ مزار اقبال اور دربار بی بی پاکدامن حاضری
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو وارننگ، کویت میں امریکی الیکٹرانک وارفیئر کا یونٹ تباہ