جماعت اسلامی کا بی آر ٹی پروجیکٹ بند کرنے اور پرانا یونیورسٹی روڈ بحال کرنے کا مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 1st, December 2025 GMT
امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے کراچی کے علاقے نیپا کے قریب نالے میں بچے کے گرنے کے واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا بی آر ٹی کے نام پر شہریوں کی تذلیل کی جا رہی ہے، بی آر ٹی کو فوری طور پر بند کیا جائے۔کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا سندھ حکومت کرپشن کا سب سے بڑا اڈا بن گیا ہے، کراچی کی صورتحال انتہائی خراب ہو چکی ہے، کراچی کی تعمیر کے 3360 ارب روپے 15 سال میں سندھ حکومت کھا گئی ہے۔ان کا کہنا تھا میئر صاحب نے سارے ادارے اپنے قبضہ میں کر رکھے ہیں، بی آر ٹی کے نام پر شہریوں کی تذلیل کی جا رہی ہے، مطالبہ ہے ریڈ لائن پروجیکٹ ختم کیا جائے اور پرانا یونیورسٹی روڈ بحال کیا جائے یہ کراچی کے عوام کے ساتھ بہت بڑی بہتری ہوگی۔حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا گلشن اقبال میں شہری کے گھر قبضہ جماعت اسلامی کے کارکنوں نے ناکام بنایا، لگتا ہے یہاں کوئی حکومت موجود ہی نہیں، شہری غیر محفوظ ہو گئے ہیں، کرمنالوجی میں سندھ حکومت نے کئی پی ایچ ڈی کر رکھی ہے۔انہوں نے کہا کہ کراچی کی زمینوں پر قبضے کے خلاف جماعت اسلامی نے سیل بنا دیا ہے، زمینوں پر قبضے کے خلاف مزاحمت کی جائے گی، عوام کی شمولیت سے قبضہ گیروں کے خلاف بھرپور مزاحمت کریں گے، کراچی کے شہریوں کو لاوارث نہیں چھوڑیں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: جماعت اسلامی بی آر ٹی
پڑھیں:
سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
مزمل حسین ہالیپوٹو کی نااہلی کے باعث کراچی کا بنیادی ڈھانچہ شدید دباؤ کا شکار
پی ای سی ایچ ایس بلاک 2میں رہائشی پلاٹ پر کمرشل یونٹس تعمیر، آصف شیخ ملوث
شہر قائد میں رہائشی علاقوں میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے ، جس کے باعث شہر کا بنیادی ڈھانچہ شدید متاثر ہو رہا ہے ۔ شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل مزمل حسین ہالیپوٹو کی ناقص نگرانی اور انتظامی کمزوریوں کے سبب رہائشی پلاٹوں پر کمرشل پورشن اور یونٹس کی تعمیرات میں مسلسل دن بہ دن اضافہ ہو رہا ہے ۔تازہ معاملہ پی ای سی ایچ ایس بلاک 2کے پلاٹ نمبر 40-K/40Mکا سامنے آیا ہے ، جہاں مقامی ذرائع کے مطابق رہائشی حیثیت رکھنے والی اراضی پر کمرشل سرگرمیوں اور یونٹس کے قیام کے ذریعے مبینہ طور پر قبضے کیے گئے ہیں۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ یہ تمام سرگرمیاں آصف شیخ کی سربراہی میں انجام دی جا رہی ہیں، جبکہ متعلقہ ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔شہریوں اور سماجی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ غیر قانونی تعمیرات اور کمرشلائزیشن کے خلاف فوری کارروائی کی جائے ، ذمہ دار افسران کا احتساب کیا جائے اور کراچی کے متاثرہ انفراسٹرکچر کو مزید نقصان سے بچانے کے لیے مؤثر اقدامات اٹھائے جائیں۔