دسمبر کے پہلے سیشن میں اسٹاک مارکیٹ کا مضبوط آغاز، اہم سیکٹرز میں خریداری
اشاعت کی تاریخ: 1st, December 2025 GMT
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں پیر کی صبح ایکویٹیز نے ابتدائی مندی سے تیزی سے ریکوری کی، جس کے بعد سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوا اور دسمبر کے پہلے ٹریڈنگ سیشن میں کاروباری سرگرمیوں میں نمایاں بہتری دیکھی گئی۔
دوپہر 12 بج کر 20 منٹ تک بیںچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 760.58 پوائنٹس یعنی 0.46 فیصد اضافے سے 167,438.
یہ بھی پڑھیں:اسٹاک ایکسچینج میں ملا جلا رجحان، ابتدائی سیشن میں سست ٹریڈنگ
مارکیٹ میں آٹوموبائل اسمبلرز، سیمنٹ، کمرشل بینکس، فرٹیلائزر، آئل اینڈ گیس ایکسپلوریشن کمپنیز اور آئل مارکیٹنگ کمپنیزسمیت دیگر اہم شعبوں میں نمایاں خریداری دیکھنے میں آئی۔
Market is up at midday ????
⏳ KSE 100 is positive by +618.6 points (+0.37%) at midday trading. Index is at 167,296.3 and volume so far is 131.32 million shares (12:00 PM) pic.twitter.com/8Wy9g4WvrB
— Investify Pakistan (@investifypk) December 1, 2025
انڈیکس پر اثرانداز بڑے اسٹاکس، جن میں ماری پیٹرولیم، آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی، پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ، پاکستان اسٹیٹ آئل، وافی، مسلم کمرشل بینک، نیشنل بینک لمیٹڈ، ماری پیٹرولیم اور نیشنل بینک آف پاکستان سمیت دیگر ہیوی شیئرز مثبت زون میں ٹریڈ کررہے تھے۔
گزشتہ ہفتے بھی پاکستان اسٹاک ایکسچینج نے مضبوط کارکردگی کا مظاہرہ کیا تھا، جہاں کے ایس ای 100 انڈیکس 4,574.78 پوائنٹس یعنی 2.8 فیصد اضافے سے 166,677.70 پر بند ہوا۔
یہ اضافہ فرٹیلائزر، بینکس، ٹیکنالوجی و کمیونیکیشن، سیمنٹ اور ای اینڈ پی سیکٹرز میں وسیع پیمانے پر ریکوری کے باعث ممکن ہوا، جس سے مجموعی مارکیٹ سینٹیمنٹ بہتر رہا۔
عالمی سطح پر، ایشیائی اسٹاکس نے سال 2025 کے آخری مہینے کا آغاز قدرے مستحکم انداز میں کیا، کیونکہ امریکی شرحِ سود میں ممکنہ کمی کی توقعات نے رسک ایٹیٹ کو سہارا دیا۔
مزید پڑھیں: پاکستان اسٹاک مارکیٹ کی تاریخی بلندی کا ملک کی معیشت سے کتنا تعلق ہے؟
کرنسی مارکیٹ میں جاپانی ین کی مضبوطی نمایاں رہی، جو 155.64 روپے فی ڈالر تک بڑھی۔
اس دوران ایم ایس سی آئی ایشیا پیسیفک انڈیکس 703.19 پر مستحکم رہا اور رواں سال اب تک 23.5 فیصد اضافے کے ساتھ 2017 کے بعد اپنی بہترین سالانہ کارکردگی کی جانب گامزن ہے۔
جاپان کا نکی انڈیکس 1.3 فیصد گر گیا، جب کہ ہانگ کانگ کا ہینگ سینگ انڈیکس 1 فیصد سے زائد بڑھ گیا، جس نے خطے کی مجموعی مارکیٹ کو سہارا دیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آئل مارکیٹنگ آئل اینڈ گیس اسٹاک ایکسچینج انڈیکس ایشیا ایشیا پیسیفک انڈیکس پاکستان پاکستان اسٹیٹ آئل ٹیکنالوجی و کمیونیکیشن سیمنٹ شرح سود فرٹیلائزر ہانگ کانگ
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: آئل مارکیٹنگ ا ئل اینڈ گیس اسٹاک ایکسچینج انڈیکس ایشیا پاکستان پاکستان اسٹیٹ ا ئل ٹیکنالوجی و کمیونیکیشن فرٹیلائزر ہانگ کانگ اسٹاک ایکسچینج
پڑھیں:
امریکہ کا پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان
نیویارک(نیوز ڈیسک)امریکہ نے “جبری مشقت سے متعلق خدشات کے پیش نظر” پاکستان، بھارت، چین اور یورپی یونین سمیت 60 تجارتی شراکت دار ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریر کے مطابق ان برآمدی محصولات (ٹیرف) کی شرح 10 فیصد سے لے کر 12.5 فیصد تک ہوگی اور یہ جمعہ یعنی آج سے نافذ العمل ہوں گے۔
Today, Ambassador Greer is taking action, at President Trump’s direction, under Section 301 of the Trade Act of 1974 by imposing tariffs on 60 trading partners for their failure to adopt and effectively enforce a prohibition on the importation of goods produced with forced labor.…
— United States Trade Representative (@USTradeRep) July 23, 2026
انہوں نے کہا کہ امریکہ میں جبری مشقت کے خلاف قوانین طویل عرصے سے نافذ ہیں اور اب وقت آ گیا ہے کہ دیگر ممالک بھی اسی طرز کے اقدامات کریں۔
یہ نئے محصولات اس عالمی ڈیوٹی کی جگہ لیں گے جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے رواں سال کے آغاز میں عائد کی گئی تھی اور جس کی مدت اب ختم ہو رہی ہے۔ امریکی سپریم کورٹ کی جانب سے فروری میں بعض ٹیرف مسترد کیے جانے کے بعد ٹرمپ انتظامیہ نے متبادل قانونی راستوں کے ذریعے نئے اقدامات متعارف کروائے ہیں۔
امریکہ کے تجارتی نمائندوں کے دفتر کی جانب سے جاری کیے گئے اعلامیے کے مطابق پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، برطانیہ، کینیڈا اور ملائیشیا سمیت کئی ممالک پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیا جائے گا، جبکہ چین سمیت دیگر 38 ممالک پر 12.5 فیصد ڈیوٹی لاگو ہوگی۔
یورپی یونین، جاپان اور جنوبی کوریا جیسے ممالک کے لیے ٹیرف کی مجموعی شرح 10 سے 12.5 فیصد کے درمیان رکھی گئی ہے۔
دوسری جانب متاثرہ ممالک نے ان اقدامات پر شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔ جاپان اور آسٹریلیا نے ان ٹیرف کو غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ آزاد تجارتی معاہدوں کے منافی ہیں۔
امریکی حکام کے مطابق اسٹیل اور ایلومینیم جیسے شعبہ جاتی ٹیرف پہلے سے نافذ ہیں اور ان پر نئے اقدامات کا اطلاق نہیں ہوگا، جبکہ توانائی اور کھاد سمیت بعض اشیا کو استثنا دیا گیا ہے۔
اسلام آباد نے بھی جبری مشقت سے متعلق تحقیقات پر امریکی حکام کو تفصیلی جوابات جمع کرائے ہیں، بلکہ حالیہ تجارتی مذاکرات سے ایک روز قبل بھی مزید وضاحتیں فراہم کی تھیں۔
مزید پڑھیں۔ایران اور عراق کے درمیان دوطرفہ تعاون بڑھانے کے لیے 4 معاہدے