فلسطین فاؤنڈیشن پاکستان کا عالمی یوم یکجہتی فلسطین پر احتجاج، ویڈیو
اشاعت کی تاریخ: 1st, December 2025 GMT
اسلام ٹائمز: مظاہرین نے امریکا اور اسرائیل کے خلاف نعرے لگائے اور عالمی برادری کی بے حسی اور دوغلے کردار پر شدید غم و غصہ کا اظہار کیا۔ متعلقہ فائیلیںخصوصی رپورٹ
فلسطین فلسطینیوں کا وطن ہے اور اسرائیل ایک ناجائز ریاست ہے، فلسطینی عوام کی مزاحمت عالمی قوانین کے مطابق ان کا قانونی حق ہے، فلسطین میں امن اور منصفانہ حل اسی وقت ہو سکتا ہے جب فلسطین فلسطینیوں کو دیا جائے اور صیہونی آبادکاروں کو ان کے ممالک واپس لوٹا دیا جائے، ان خیالات کا اظہار سیاسی و مذہبی جماعتوں کے رہنماؤں بشمول جماعت اسلامی کے رہنما اسد اللہ بھٹو، متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما میجر (ر) قمر عباس، جمعیت علمائے پاکستان کے رہنما علامہ قاضی احمد نورانی، اہلحدیث رہنما مفتی مرتضٰی رحمانی، متحدہ علماء محاذ کے علامہ امین انصاری، ہیومن رائٹس کونسل کے راجہ اظہر، وحید یونس، ایم ڈبلیو ایم کے رہنما ناصر الحسینی، مرکزی مسلم لیگ کے رہنما فیصل بلوچ، عدیل، مسلم لیگ (ق) کے رہنما صادق شیخ، سید عبدلرافع، معروف عالم دین مرزا طاہر علی، اسلم فاروقی، وکیل راشد رضی اور فلسطین فاؤنڈیشن پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل ڈاکٹر صابر ابو مریم نے یوم یکجہتی فلسطین کے موقع پر کراچی پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
ملک بھر میں 29 نومبر کو فلسطین فاؤنڈیشن پاکستان کی اپیل پر یکجہتی فلسطین مظاہرے کئے گئے، جبکہ مرکزی مظاہرہ کراچی پریس کلب کے باہر کیا گیا، جہاں عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی اور فلسطین پر صیہونی غاصبانہ تسلط اور فلسطینیوں کی نسل کشی کے خلاف سخت احتجاج کیا۔ مظاہرین نے امریکا اور اسرائیل کے خلاف نعرے بازی کی اور عالمی برادری کی بے حسی اور دوغلے کردار پر شدید غم و غصہ کا اظہار کیا۔ مظاہرین نے ہاتھوں میں بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے، جن پر امریکا مردہ باد، اسرائیل نامنظور، ہم فلسطین کے ساتھ ہیں اور فلسطینیوں کی نسل کشی بند کرو جیسے نعرے درج تھے۔ یکجہتی فلسطین مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے مقررین کا کہنا تھا کہ فلسطینی عوام اپنے حقوق کیلئے جدوجہد کر رہے ہیں اور پاکستان کے عوام فلسطینی عوام کی مزاحمت اور جدوجہد کی بھرپور حمایت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ غزہ میں جاری نسل کشی کے ذمہ داروں کو سزا دی جائے، فلسطین کی قسمت کا فیصلہ فلسطینیوں کو کرنے دیا جائے، امریکا اور کسی بھی دوسری حکومت کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ فلسطین کے بارے میں فیصلہ کریں۔
مقررین نے گزہ جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزیوں پر عالمی برادری کی خاموشی کو سنگین جرم قرار دیا اور کہا کہ غاصب اسرائیل صرف فلسطین تک محدود نہیں ہے بلکہ شام، لبنان، ایران و قطر سمیت یمن اور دیگر ممالک پر بھی جارحیت انجام دے رہا ہے، اس جارحیت کا مقابلہ کرنے کیلئے مسلمان ممالک کی حکومتوں کو مشترکہ حکمت عملی بنانی چایئیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ غزہ جنگ بندی معاہدے کے بعد امریکی صدر کی فرمائش پر غزہ میں مسلمان ممالک کی افواج کو بھیجے جانے کا منصوبہ دراصل فلسطینی عوام سے دشمنی کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان سمیت کسی بھی مسلمان ملک کی فوج کو غزہ جا کر امریکی منصوبوں کی تکمیل انجام نہیں دینی چاہئیے، امریکا پاکستان سمیت کسی بھی مسلمان ملک کا خیر خواہ نہیں ہو سکتا۔
مقررین نے کہا کہ پاکستان کے عوام فلسطین کاز کے خلاف ہونے والی سازشوں کا مقابلہ کریں گے اور پاکستان کی نظریاتی سرحدوں کا بھرپور فاع کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومتی صفوں میں موجود چند وزراء اسرائیل کیلئے نرم زبان استعمال کرتے ہیں، جو نہ صرف فلسطین کاز کیلئے نقصاندہ ہے، بلکہ نظریہ پاکستان سے روگردانی کے مترداف ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان قائداعظم محمد علی جناحؒ کے نظریات کے مطابق اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتا اور کبھی نہیں کرے گا، تاہم اگر کسی کو اسرائیل سے زیادہ محبت ہے تو وہ پاکستانی شہریت سے دستبردار ہو کر اسرائیل چلا جائے۔ اس موقع پر فلسطینی عوام سے یکجہتی کیلئے بھرپور مہم جاری رکھنے کا عزم کیا گیا اور فلسطینی عوام کے حق میں نعرے لگائے گئے۔ قارئین و ناظرین محترم آپ اس ویڈیو سمیت بہت سی دیگر اہم ویڈیوز کو اسلام ٹائمز کے یوٹیوب چینل کے درج ذیل لنک پر بھی دیکھ اور سن سکتے ہیں۔ (ادارہ)
https://www.
youtube.com/@ITNEWSUrduOfficial
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: یکجہتی فلسطین فلسطینی عوام پاکستان کے اور فلسطین نے کہا کہ کے رہنما انہوں نے
پڑھیں:
سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔
ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔