دو ریاستی حل ہی اسرائیل فلسطین تنازع کے خاتمے کا واحد حل ہے، پوپ لیو
اشاعت کی تاریخ: 1st, December 2025 GMT
عیسائیوں کے روحانی پیشوا پوپ لیو نے کہا ہے کہ دو ریاستی حل ہی اسرائیل فلسطین تنازع کے خاتمے کا واحد حل ہے۔
ترکیہ سے لبنان جاتے ہوئے طیارے میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے پوپ لیو نے کہا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ اس وقت اسرائیل اس حل کو قبول نہیں کرتا، لیکن ہم اسے ہی واحد حل سمجھتے ہیں۔
پوپ لیو نے مزید کہا کہ ویٹیکن کی اسرائیل کے ساتھ دوستی بھی ہے اور وہ دونوں فریقوں کے درمیان مُصالحانہ کردار ادا کرنے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ ایسا حل تلاش کیا جاسکے جس میں ہر ایک کے لیے انصاف شامل ہو۔
انہوں نے بتایا کہ ترکیہ کے صدر طیب اردوان سے ملاقات میں اسرائیل-فلسطین اور یوکرین-روس تنازعات پر تفصیلی بات چیت کی ہے۔
واضح رہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو شروعات سے ہی فلسطینی ریاست کے قیام کی مخالفت کرتے رہے ہیں، جبکہ اسرائیل کا حمایتی ملک امریکا بھی فلسطینی ریاست کی حمایت کا عندیہ دے چکا ہے۔
پوپ لیو نے یہ مختصر آٹھ منٹ کی پریس کانفرنس ترکیہ کے تین روزہ دورے کی تکمیل پر دی تھی، جو مئی میں روحانی پیشوا منتخب ہونے کے بعد اپنے پہلے دورے پر تھے۔
دوسری جانب اسرائیل کی فلسطین میں جنگ بندی معاہدے کے باوجود خلاف ورزیاں جاری ہیں۔
غزہ کی وزارتِ صحت نے بتایا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران غزہ کی پٹی میں جاری اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں تین فلسطینیی شہید جبکہ دو زخمی ہوگئے ہیں۔
ادھر اسرائیلی ملٹری نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے حماس کے چالیس جنگجوؤں کو شہید کردیا ہے۔
خبرایجنسی کے مطابق جنوبی غزہ کی سرنگوں میں درجنوں حماس جنگجو موجود ہیں، سرنگوں کے اوپر کے علاقے اسرائیلی فوج کے کنٹرول میں ہیں، جنوبی غزہ کے ٹنل نیٹ ورک میں موجود جنگجوؤں سے متعلق مذاکرات جاری ہیں۔
حماس نے جنگجوؤں کے محفوظ راستے کے لیے ثالث ممالک سے اسرائیل پر دباؤ ڈالنے کا مطالبہ کیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: پوپ لیو نے
پڑھیں:
سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔
ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔