ویب ڈیسک: پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ عالمی برادری فلسطین کے دو ریاستی حل کے لیے فیصلہ کن اقدامات کرے۔

 فلسطینی عوام سے یکجہتی کے عالمی دن کے موقع پر بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ اب عالمی برادری کے لیے یہ ناگزیر ہو چکا ہے کہ وہ دو ریاستی حل کے نفاذ کے لیے فیصلہ کن اقدامات کرے۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ فلسطین کو درپیش مصائب انسانیت کے اجتماعی ضمیر پر گہرا زخم ہیں، فلسطین پر جاری قبضے کے دوران ہر معصوم جان کا ضیاع اور ہر گھر کا برباد ہونا دنیا کے لیے ایک کال ہے کہ وہ اخلاقی جراَت، انصاف اور ہمدردی کے ساتھ اپنا کردار ادا کرے۔

پاکستان نے افغانستان سے تاجکستان سرحد پر چینی شہریوں پرحملہ بزدلانہ فعل قرار دیدیا  

انہوں نے کہا کہ پی پی پی ہمیشہ فلسطینی عوام کے ساتھ مضبوطی سے کھڑی رہی ہے، پیپلز پارٹی فلسطینی عوام کے دیرینہ نامکمل خوابِ آزادی کے پورا ہونے تک ان کے ساتھ کھڑی رہے گی، عالمی برادری ین الاقوامی قوانین کی پاسداری کو یقینی بنائے۔

پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ فلسطین سے یکجہتی صرف جذبات تک محدود نہیں ہونی چاہئے ، بلکہ یہ انصاف اور دیرپا امن میں تبدیل ہونی چاہئے۔

.

ذریعہ: City 42

کلیدی لفظ: عالمی برادری بلاول بھٹو نے کہا کہ کے لیے

پڑھیں:

غزہ اور عالمی طبی برادری کی بے حسی

عالمی ادارہِ صحت نے سات اکتوبر دو ہزار تئیس کے بعد سے اکتیس اکتوبر دو ہزار پچیس تک سات ہزار چھ سو مریضوں اور زخمیوں کو غزہ سے نکالا ہے۔ان میں پچھتر فیصد بچے ہیں ( ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق غزہ کی مختصر پٹی میں معذور بچوں کی تعداد رقبے کے اعتبار سے دنیا میں سب سے زیادہ ہے )۔

لیکن اب بھی غزہ میں ایسے زخمیوں اور بیماروں کی تعداد سولہ ہزار سے اوپر ہے جن کا علاج صرف بیرونِ ملک ہی ممکن ہے کیونکہ غزہ میں تو زخموں پر لپیٹنے کی پٹی تک میسر نہیں۔امید تھی کہ دس اکتوبر کی جنگ بندی کے بعد ایمرجنسی انخلا میں تیزی آئے گی یا کم ازکم طبی رسد بلارکاوٹ پہنچ سکے گی۔مگر غزہ میں آمدورفت کے تمام راستے اسرائیلی فوجی کنٹرول میں ہیں۔ اسرائیل ہی فیصلہ کرتا ہے کہ کون سا زخمی باہر جا سکتا ہے اور کون نہیں۔اس پالیسی کے سبب جنگ بندی کے بعد کے چار ہفتوں میں صرف اکتالیس خوش نصیب مریضوں کو باہر جانے کی اجازت مل سکی۔

اس بارے میں محض اسرائیل ہی قصور وار نہیں۔جن ممالک کو ان مریضوں کو بغرض علاج داخلے کی اجازت دینی چاہیے وہ بھی مجرمانہ ہچکچاہٹ میں مبتلا ہیں۔چنانچہ مریضوں کو غزہ سے باہر جانے کی اجازت مل بھی جائے تو وہ کہاں جائیں ، جب تک کے انھیں کوئی لینے والا یا اسپانسر نہ ہو۔

متبادل طریقہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ہزاروں مریضوں کی باہر منتقلی کے انتظار کے بجائے غزہ میں عارضی خیمہ اسپتال قائم کرنے کی اجازت دی جائے۔جہاں بیرونی ڈاکٹروں کی رضاکار ٹیمیں ان مریضوں کی فوری دیکھ بھال کر سکیں۔مگر یہ کہنا آسان ہے کیونکہ اسرائیل نے غزہ میں طبی سازو سامان سمیت ایسی تمام اشیا اور مٹیریل لانے پر دو ہزار آٹھ سے پابندی عائد کر رکھی ہے جس کے دوہرے استعمال ( سویلین و فوجی ) کا احتمال ہو۔
 ٹینٹ نصب کرنے کے بانس ، آرتھو پیڈک آلات ( ڈرل مشین ، اسکرو ، دھاتی پلیٹیں وغیرہ ) ، آکسیجن سلنڈرز ، اوگزی میٹر ، حلق میں ڈالنے والی اور چیسٹ ٹیوبز ، الٹرا ساؤنڈ یونٹس، ڈائلسس مشینوں کی بیٹریاں ، سرنجیں ، مارفین اور کیٹامائن جیسے طاقت ور پین کلرز ، پانی صاف کرنے کا میٹریل ، فی ڈاکٹر ایک سے زائد موبائل فون اور لیپ ٹاپ نہ لانے سمیت ایک طویل ممنوعہ فہرست ہے۔ان میں سے بہت سا سامان غزہ میں لانے کے لیے خصوصی اجازت نامہ درکار ہے اور اس اجازت نامے کے لیے درخواست عالمی ادارہِ صحت کے توسط سے ہی دی جا سکتی ہے۔اب اسرائیل کی صوابدید ہے کہ وہ اس درخواست کو کب کلی یا جزوی مانتا ہے یا پھر ردی کی ٹوکری میں ڈال دیتا ہے۔

اب آپ پوچھ سکتے ہیں کہ جو اشیا میں نے گنوائی ہیں ان میں سے کون کون سے طبی آلات یا مواد سے بم بھی بنایا جا سکتا ہے ؟ یہ سوال تب بھی اٹھا تھا جب امریکا نے انیس سو نوے کی دہائی میں اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل پر سواری گانٹھتے ہوئے عراق کے خلاف جو تادیبی پابندیاں لگائی تھیں ان کے تحت دوہرے استعمال کی اشیا کی فہرست میں سکے والی پنسل ، پین میں استعمال ہونے والی روشنائی اور بچوں کا خشک دودھ بھی شامل تھا۔
 ڈاکٹروں کی ایسی بہت سی موثر عالمی تنظیمیں ہیں جن کی آواز سے شاید کچھ بہتری ممکن ہے۔

مگر ان دو برسوں میں ان تنظیموں کی خاموشی نے سفاکی کی مزید حوصلہ افزائی کی۔
مثلاً بل اینڈ ملنڈا گیٹس فاؤنڈیشن ، امریکن میڈیکل ایسوسی ایشن اور امریکن سائیکاٹرسٹس ایسوسی ایشن نے یوکرین پر روسی حملے میں ہونے والی انسانی تباہی اور سات اکتوبر دو ہزار تئیس کو جنوبی اسرائیل پر حماس کی یلغار پر تو تشویش ظاہر کی تاہم غزہ کے طبی شعبے کی اسرائیل کے ہاتھوں مکمل تباہی پر ایک لفظ بھی منہ سے نہیں نکالا۔
برطانیہ میں ڈاکٹروں نے غزہ کی طبی تباہی کے خلاف صرف ایک بار سینٹ تھامس اسپتال لندن کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا۔اس کا اہتمام ہیلتھ کیر ورکرز واچ اور ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کیا تھا۔

سرکردہ فرانسیسی تنظیم ایم ایس ایف ( ڈاکٹرز ودآؤٹ بارڈرز ) اگرچہ انیس سو پچاس کی دہائی میں الجزائر کی خانہ جنگی کے دوران بالکل خاموش رہی مگر نوے کی دہائی میں روانڈا کے قتلِ عام کے موقع پر ایم ایس ایف نے پہلی بار محسوس کیا کہ غیر جانبداری اور خاموشی میں فرق ہے۔چنانچہ ایم ایس ایف نے متعدد بار غزہ میں ’’ طبی قتلِ عام ‘‘ پر تشویش کا اظہار کیا۔آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کی محض ایک چوتھائی میڈیکل ایسوسی ایشنز نے گول مول انداز میں غزہ میں ہونے والی تباہی کو ’’ افسوس ناک ‘‘ قرار دیا۔

موقر طبی جریدوں میں برٹش میڈیکل جنرل واحد رسالہ ہے جس نے اس عرصے میں فلسطینیوں کی صحت کے بارے میں کچھ تحقیقی مضامین شایع کیا اور خود پر اسرائیل مخالف ہونے کے الزام کا ٹھپا بھی لگوایا۔

طبی دنیا کا سب سے پرانا اور موقر امریکی جریدہ نیو انگلینڈ جرنل آف میڈیسن اٹھارہ سو بارہ سے شایع ہو رہا ہے۔اس جرنل میں کسی مقالے کا شایع ہونا اعزاز سے کم نہیں۔مگر یہ جریدہ بھی انٹلکچوئل بددیانتی کے دھبے سے نہ بچ سکا جب یہ ثابت ہو گیا کہ یہ جرنل انیس سو تیس اور چالیس کے عشرے میں جرمن نازیوں کی ہیلتھ پالیسی اور امتیازی سلوک کے بارے میں نہ صرف خاموش رہا بلکہ اس میں شایع ہونے والے ایک مضمون میں نازی جرمنی کی صحتِ عامہ پالیسی کو سراہا بھی گیا۔

اس تنقید کو نہ صرف نیو انگلینڈ جرنل نے قبول کیا بلکہ دسمبر دو ہزار تئیس میں یہ اعترافی نوٹ بھی شایع کیا کہ میڈیکل جرنل اور بہت سی طبی ایسوسی ایشنز تاریخی طور پر رنگ ، نسل ، عقیدے کی بنیاد پر ہونے والی زیادتیوں کا یا تو دفاع کرتے رہے ہیں یا پھر خاموش رہے ہیں۔
اس معذرت کے باوجود غزہ میں طبی شعبے کی مکمل تباہی ، طبی عملے کی ہلاکتوں ، ٹارچر اور اغوا کی کبھی مذمت نہیں ہوئی۔بس ایک مضمون کی ایک سطر میں یہ لکھا گیا کہ ’’ غزہ کے طبی مراکز پر حملے افسوس ناک ہیں اور بدقسمتی سے جنگ کا زیلی نتیجہ ہیں ‘‘۔
غزہ پر نیوانگلینڈ جرنل میں گزشتہ مارچ میں صرف ایک مضمون شایع ہوا ’’ غزہ اور اعتماد کی بحالی کی راہ ‘‘۔اس مضمون کے خالق جانے کس دنیا میں رہ رہے تھے جب انھوں نے لکھا کہ غزہ اور اسرائیل کے طبی شعبے میں باہمی اعتماد بحال کرنے کی ضرورت ہے تاکہ فلسطینی ڈاکٹر جدید اسرائیلی طبی ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھا کر مریضوں کا بہتر علاج کر سکیں۔یہ ’’ تحقیقی مقالہ ‘‘ چار ماہرین نے مشترکہ طور پر لکھا۔ان میں سے ایک نوم ایلون تین برس تک اسرائیلی فوج کے اسپیشل انٹیلی جینس یونٹ سے منسلک رہا اور اس کا پبلک ہیلتھ کے شعبے میں کام کا کوئی تجربہ نہیں۔

شہرہِ آفاق فرنچ فلاسفر اور ماہرِ نفسیات فرانز فینن کے بقول طبی پیشے کی روح اگرچہ انسانیت نوازی ہے مگر ہم دیکھتے ہیں کہ یہ پیشہ بھی نوآبادیاتی تسلط اور استحصالی پرزے کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔
 

متعلقہ مضامین

  • صدر اور وزیراعظم پاکستان کا عالمی یومِ یکجہتیِ فلسطین پر مشترکہ اظہارِ حمایت
  • یوم یکجہتی فلسطین: صدر مملکت اور وزیراعظم نے فلسطینی عوام کی حمایت جاری رکھنےکا عزم دہرادیا
  • یوم یکجہتی فلسطین، صدر مملکت اور وزیراعظم نے فلسطینی عوام کی حمایت جاری رکھنےکا عزم دہرادیا
  • فلسطینیوں سے اظہار یکجتی کا عالمی  دن آج منایا جائیگا ، غزہ  امن معاہدے میں تعمیری کرادار کیا : صفر وزیراعظم 
  • غزہ اور عالمی طبی برادری کی بے حسی
  • 29 نومبر یومِ یکجہتیِ فلسطین یا خیات کا عالمی دن
  • پی ٹی آئی ملک دشمن بیانیہ ترک، ریاستی و عوامی مفاد مقدم رکھے: عطاء تارڑ
  • پاکستان غیر قانونی ہجرت کے خاتمے کیلئے عالمی برادری کیساتھ ہے: طلال چوہدری
  • عالمی برادری کو غزہ میں دیرپا جنگ بندی کو یقینی بنانے کے لیے فعال اقدامات کرنے چاہئیں، چینی صدر