شدید دھند ، موٹروے ایم ون کو ہرقسم کی ٹریفک کیلئے بند کردیا گیا
اشاعت کی تاریخ: 25th, November 2025 GMT
ویب ڈیسک:موٹروے ایم ون پر شدید دھند کے باعث حدِ نگاہ انتہائی کم ہو گئی، جس کے نتیجے میں پشاور ٹال پلازہ سے صوابی تک موٹروے کو ہر قسم کی ٹریفک کیلئے بند کردیا گیا۔
نیشنل ہائی ویزاینڈ موٹروے پولیس کے مطابق دھند کی شدت کے سبب گاڑیوں کا بروقت نظر نہ آنا حادثات کے خطرے کو کئی گنا بڑھا دیتا ہے، جس کے پیشِ نظر یہ فیصلہ شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کیلئے ناگزیر تھا۔
موٹروے پولیس کا کہنا ہے کہ دھند کے دوران ڈرائیونگ انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتی ہے، خاص طور پر جب حدِ نگاہ چند میٹر تک محدود ہو جائے،اس لیے ٹریفک کی عارضی بندش ایک حفاظتی اقدام کے طور پراختیار کی گئی ہے۔
راکھ کا بادل پاکستان آ گیا، پروازوں کو خطرہ لاحق، سرکاری الرٹ آگیا
ترجمان کے مطابق جیسے ہی دھند کی شدت کم ہوگی اور حدِ نگاہ بہتر ہونے لگے گی، ٹریفک کو کنٹرولڈ انداز میں بحال کردیا جائے گا۔
شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ دھند کے اوقات میں غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور اگر سفر ناگزیر ہو تو فوگ لائٹس کا استعمال کریں اور رفتار انتہائی کم رکھیں۔
موٹروے پولیس نے مزید کہا کہ شہری اپڈیٹس کیلئے ہیلپ لائن 130 پر رابطہ کریں اور ٹریفک ایڈوائزری پر مکمل عمل کریں۔
گلگت بلتستان اسمبلی تحلیل
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم
ممبر گلگت بلتستان اسمبلی نے ایک بیان میں کہا کہ صوبائی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں مشکل کی اس گھڑی میں عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں اور متاثرین سیلاب کو ریلیف دینے اور بحالی کے لیے جامع منصوبہ بندی کے ساتھ اقدامات اٹھائیں۔ اسلام ٹائمز۔ سابق اپوزیشن لیڈر و ممبر گلگت بلتستان اسمبلی کاظم میثم نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ پورے گلگت بلتستان میں طوفانی سیلاب اور دریائی کٹاو سے عوام شدید مشکلات کے شکار ہیں، وفاقی اور صوبائی حکومت کو فوری اقدامات اٹھاتے ہوئے ریلیف اور بحالی کے لیے کام تیز کرنے کی ضرورت ہے۔ سکردو میں دریائی کٹاو کے سبب سترانگلونگما کواردو اور حوطو رنگاہ کے عوام شدید مشکلات کے شکار ہیں۔ زرعی اراضی اور درخت دریا برد ہو رہے ہیں لیکن تاحال کوئی ہنگامی بنیادوں پر بحالی کے لیے کوئی کام نہیں ہوا ہے۔ ضلعی انتظامیہ اور جی بی ڈی ایم اے کو کواردو حوطو رنگاہ اور رزسنا رنگاہ کے دریائی کٹاو روکنے کے لیے فوری اقدامات اٹھانا چاہیے۔ گزشتہ مہینے آنے والے شگریخورد میں سیلاب متاثرین کی بحالی کے بھی تاحال اقدامات نہیں اٹھائے گئے ہیں۔ جس کے سبب عوام میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ کاظم میثم نے مزید کہا کہ طوفانی سیلاب کے سبب تقریبا تمام اضلاع میں تباہ کاریاں ہوئی ہیں اور شاہراہوں کی بندش کے سبب بھی مشکلات کے شکار ہیں۔ صوبائی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں مشکل کی اس گھڑی میں عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں اور متاثرین سیلاب کو ریلیف دینے اور بحالی کے لیے جامع منصوبہ بندی کے ساتھ اقدامات اٹھائیں۔