گیمبلنگ ایپ اسکینڈل: ڈکی بھائی رہائی کے بعد سوشل میڈیا پر واپس آئیں گے؟ اہلیہ نے بتا دیا
اشاعت کی تاریخ: 30th, November 2025 GMT
گیمبلنگ ایپ کی تشہیر میں ملوث، حال ہی میں ضمانت پر رہا ہونے والے معروف یوٹیوبر سعد الرحمٰن المعروف ڈکی بھائی کی اہلیہ عروب جتوئی نے ان کی یوٹیوب سرگرمیوں سے متعلق اہم وضاحت جاری کر دی ہے۔
ڈکی بھائی کے ضمانت پر رہائی کے بعد عروب جتوئی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم انسٹاگرام پر پوسٹ جاری کی جس میں انہوں نے اپنے اور ڈکی بھائی کے ہاتھوں کی تصویر شیئر کی۔
بعدازاں انہوں نے ایک وضاحتی پیغام میں بتایا کہ مذکورہ تصویر نئی نہیں ہے بلکہ پرانی ہے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے مزید لکھا کہ سعد اس وقت سوشل میڈیا سے وقفہ لے رہے ہیں۔
انہوں نے انسٹا اسٹوری میں لکھا کہ فی الحال جو بھی ویڈیو یا تصویر آن لائن نظر آ رہی ہیں، وہ پرانی ہیں، رہائی کے بعد انہوں نے کوئی نئی ریکارڈنگ یا تصویر نہیں بنوائی ہے۔
24 سالہ عروب جتوئی نے مداحوں سے اپیل کی کہ وہ سوشل میڈیا پر زیر گردش افواہوں یا جھوٹی معلومات پر یقین کرکے غلط فہمی کا شکار نہ ہوں۔
انہوں نے یہ بھی لکھا کہ وہ واپس آئیں گے اور پہلے سے بھی زیادہ مضبوط ہو کر آئیں گے۔
واضح رہے کہ ڈکی بھائی کو اگست میں لاہور ایئرپورٹ سے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) نے جوئے کی ایپ کی مبینہ تشہیر کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔
انہیں پیر کے روز ہائی کورٹ نے 10 لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکوں کے عوض ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: سوشل میڈیا ڈکی بھائی انہوں نے
پڑھیں:
بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔
علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔
علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔