’کل آپ آرہی ہیں نا صنوبر… کیو بی ایس ہوم؟‘
’ہاں ضرور! میں وقت پر پہنچ جاؤں گی۔‘
’تھینک یُو یار،‘ اسما نے اپنائیت سے کہا اور کال بند ہوگئی۔
مگر جیسے ہی فون کی اسکرین بجھی، میرے ذہن کی کتاب کے پنّے خودبخود ماضی کی طرف پلٹنے لگے ـ
…………………….
بھرے پُرے گھر میں ایک انجانی سی اداسی کا بسیرا تھا۔ ڈرائنگ روم میں سب کے بولنے کے باوجود موت کا سا سناٹا پھیلا ہوا تھا… کسی بڑے سانحے کے بعد کا سناٹا۔
یہ بھی پڑھیں: اگلے جنم بھی موہے بٹیا ہی دیجیو: صنوبر ناظر
اس ماحول میں صرف اسما تھی جو اپنے برجستہ جملوں اور کھنکتی ہنسی سے بوجھل فضا کو کچھ لمحوں کے لیے ہلکا ضرور کر دیتی، مگر یاسیت کے بوجھ کو کم کرنے میں پوری طرح ناکام۔
تیکھے نین نقش اور سانولی سلونی رنگت والی اسما مجھے پہلی ہی ملاقات میں دل کو بھا گئی تھی۔
میں نے آہستہ سے کہا، ’اتنا خوبصورت گھر… لیکن ایسی ویرانی اور سناٹا؟‘
میرے شوہر کے جواب نے مجھے ساکت کر دیا۔
’جوان موت پر ایسی ہی ویرانی چھا جاتی ہے۔‘
…………………….
’آج شام کی فلائٹ سے ہم پنڈی جا رہے ہیں، قاسم کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔‘ ابو نے ہمیشہ کی طرح تحمل اور وقار سے ہمیں خبر دی۔
۱۹ دسمبر ۱۹۸۸ کو جب ہم سب سی ایم ایچ پنڈی میں بھائی جان کے کمرے میں داخل ہوئے تو انہوں نے ہم پر ایک نگاہ ڈالی… ہلکی سی… مگر سب کچھ سمجھ لینے والی، اور جیسے دل ہی دل میں اعتراف کر لیا کہ ’مجھے کسی بڑے مرض نے آلیا ہے۔‘
’قاسم بن سعادت‘ چار بہنوں کا اکلوتا بھائی، بڑی آپا سے چھوٹا اور ہم تینوں بہنوں کے بھائی جان ـ انیس برس کا خوبصورت، شوخ مزاج، باتوں میں ہنسی بکھیر دینے والا، بہترین کھلاڑی، زندہ دل نوجوان… قاسم۔
یہ بھی پڑھیں: ’رودالی‘
میڈیکل کالج کا دوسرا سال چل رہا تھا۔ قاسم کو رفع حاجت میں کئی ماہ سے تکلیف تھی، مگر کم عمری کی جھجھک، شرم اور نوجوانی کی لاپرواہی نے اسے معاملے کو سنجیدگی سے لینے نہ دیا۔ جب تکلیف برداشت سے باہر ہوئی تو بالآخر اسپتال گیا۔
’تمھارے معقد میں کومن ایبسیس (common abscess) ہے، میں اسے ابھی ڈرین (drain) کر دوں گا،‘ ڈاکٹر نے پُراعتماد لہجے میں کہا۔
اگلے ہی روز بغیر کسی کلچر یا ٹیسٹ کے قاسم کا ایک معمولی سا آپریشن کر دیا گیا۔ مگر اس کے بعد تکلیف کم ہونے کے بجائے اور بڑھ گئی۔
’مزید ڈریننگ کی ضرورت ہے، ایک اور آپریشن کرنا پڑے گا،‘ ڈاکٹر نے دوبارہ وہی پُراعتماد جملہ دہرایا۔
دوسری بار پھر معقد کی چیر پھاڑ کی گئی، مگر اس بار بھی کوئی واضح زخم یا پھوڑا نظر نہ آیا۔ کاٹنے پیٹنے کے اس بےسمت عمل کے بعد ڈاکٹر کو یکایک خیال آیا کہ بائیوپسی بھی کروالی جائے۔
رپورٹ جو آئی، وہ کسی بم کی طرح ہم سب پر آگری ـ ایسی خبر جس نے ہمارے پاؤں تلے سے زمین کھینچ لی۔
بھائی جان کو (Rhabdomyo Sarcoma) معقد کے عضلات کا سرطان لاحق تھا، وہی مہلک مرض جو بےمحابا چیر پھاڑ اور غلط طریقے سے چھیڑنے پر اور تیزی سے پھیل جاتا ہے۔ یوں ناسمجھی، غفلت اور غلط علاج نے قاسم کی بیماری کو بھڑکا کر ہمیں ایک ایسے المیے کے سامنے لا کھڑا کیا جس کا تصور بھی ناقابلِ برداشت تھا۔
یہ بھی پڑھیں: دوزخ نامہ میں جنت کی سیر
ابو نے بغیر کسی تاخیر کے لندن کی فلائٹ بک کروالی، کیونکہ وہاں ہمارا ددھیال تھا اور آپا اپنے شوہر کے ساتھ وہیں مقیم تھیں۔
بائیس دسمبر کو جب ہم لندن پہنچے تو شہر دلہن کی مانند دمک رہا تھا، کرسمس کی چمک ہر سمت پھیلی ہوئی تھی۔ باہر رنگ و نور کا میلہ تھا اور ہم سب کے دل کے اندر ماتم برپا تھا۔
بھائی جان کو اگلے ہی روز رائل مارسیڈن کینسر اسپتال میں داخل کرا دیا گیا۔ معائنہ کرنے کے بعد ڈاکٹر نے گہری سنجیدگی سے کہا:
’قاسم کے زخم کو نہایت غیر پیشہ ورانہ اور غیر ذمہ دارانہ انداز میں چھیڑا گیا ہے، بالکل ایسے جیسے کسی اناڑی قصائی نے بےدھڑک چیر پھاڑ کر دی ہو۔‘
’قصائی بھی جب گوشت کی بوٹیاں بناتا ہے تو چربی، ہڈی اور ریشوں کو ایک ترتیب اور نفاست سے الگ کرتا ہے،‘ میں نے سوچا۔
بھائی جان کا علاج شروع ہوا اور پورا ایک سال چلتا رہا۔ کیموتھراپی، اسٹیروئیڈز اور دوسری دواؤں نے اُن کا جسم بدل کر رکھ دیا تھا ـ پیٹ پھول گیا تھا اور باقی وجود جیسے سکڑ کر رہ گیا ہو۔ پہلے والے وجیہ و حسین قاسم کی شکل و صورت میں کچھ بھی پہلے جیسا نہ بچا تھا، سوائے اُن کی ہنسی اور پھڑکتی ہوئی حسِ ظرافت کے۔
جب بھی میں بھائی جان کی عیادت کے لیے کینسر اسپتال جاتی تو وہاں اس مرض میں مبتلا مریضوں کو دیکھ کر وکرم سیٹھ کی نظم ’کینسر وارڈ‘ کے یہ اشعار ذہن میں گھومنے لگتے:
’یہ وہ مریض ہیں جن کی گفتگو میں مستقبل کا زمانہ نہیں ہوتا۔‘
یہ بھی پڑھیں: وی نیوز کا ایک سال
سن 1989 کے دسمبر میں جب بھائی جان کی طبیعت میں کچھ بہتری آئی تو ہم نے کراچی واپسی کی راہ لی۔ انہوں نے پھر سے اپنی پڑھائی اور فٹنس پر توجہ دینی شروع کی اور دوبارہ راولپنڈی میڈیکل کالج پہنچ گئے۔ پڑھائی ہو یا اسپورٹس، بھائی جان دونوں میں ہمیشہ بہترین رہے، مگر شاید آنے والے برے وقت کی آہٹ ان کی چھٹی حس پہلے ہی سن چکی تھی۔
دسمبر 1990 کی ایک سرد رات تھی۔ ہم کراچی سے پنڈی بھائی جان سے ملنے آئے ہوئے تھے۔
’قاسم، اس بار تمہاری ڈسٹنکشن آنی چاہیے،‘ ابو نے محبت اور امید بھرے لہجے میں کہا۔
بھائی جان ہلکے سے مسکرائے اور دھیمے لہجے میں بولے:
’شاید اس کی نوبت ہی نہ آئے۔‘
ہم سب جیسے ایک لمحے کو پتھر کے ہو گئے۔
پھر 8 مارچ 1991 وہی منحوس خبر لے کر آیا ـ بھائی جان کا کینسر بےرحمی سے لوٹ آیا تھا، پہلے سے بھی زیادہ شدت کے ساتھ۔ دوبارہ سامان باندھا گیا، اور ایک بار پھر لندن کا سفر شروع ہوا۔
معائنے کے دوران بھائی جان نے بےساختہ ڈاکٹر سے پوچھ لیا:
’ڈاکٹر، میرے پاس کتنا وقت ہے؟‘
ڈاکٹر نے فائل سے نظر اٹھائی، گہری سانس لی اور پختہ لہجے میں کہا:۔
یہ بھی پڑھیں: اک چادر میلی سی
’تقریباً دو مہینے۔‘
ہم پر بجلی سی گر گئی۔
کس بےدردی سے قدرت کی ستم ظریفی اور ہمارے ہی اسپتال کے عملے کی نااہلی نے اسے موت کے منہ میں دھکیل دیا۔
’ہائے، سعادت… اللہ نے ایک ہی بیٹا دیا تھا… اسے بھی اتنی جلدی اپنے پاس بلا رہا ہے۔ اب کون تمہاری نسل آگے بڑھائے گا؟‘
’یقین نہیں آتا، یہ وہی خوبصورت قاسم ہے… اللہ کسی والدین کو اولاد کا یہ دن نہ دکھائے۔‘
’بیٹیاں تو اپنے گھروں کی ہیں، ایک قاسم ہی تھا جس سے خاندان کا نام آگے چلتا… ہائے کیا ستم ظریفی ہے قدرت کی۔‘
مجھے سمجھ نہیں آتا تھا کہ یہ لوگ عیادت کے لیے آتے ہیں یا ہمارے زخموں پر نمک چھڑکنے۔ ہر جملہ ایک خنجر کی طرح لگتا تھا۔
ایک روز بھائی جان نے امی سے دبے لہجے میں کہا:۔
’امی، میں اب مزید رشتہ داروں کے گھر میں نہیں رہ سکتا۔ وہ مجھے ایسی نظروں سے دیکھتے ہیں جیسے میں کوئی بےچارگی کا تماشا ہوں۔ مجھے کسی کینسر کے ادارے میں داخل کروا دیں جہاں میں اپنے جیسے مریضوں کے درمیان اپنی باقی زندگی کچھ عزت سے گزار سکوں۔‘
چند ہی دنوں میں بھائی جان کی خواہش کے مطابق انہیں مائیکل سوبیل ہاؤس منتقل کردیا گیا۔ وہاں جاتے ہوئے یوں محسوس ہوتا تھا جیسے ہم اپنے پیارے کو آہستہ آہستہ زندگی کے آخری دروازے تک چھوڑنے جا رہے ہوں۔
پہاڑی پر واقع یہ ادارہ ایک پرسکون آسائش گاہ تھا، جہاں عملے کا ہر فرد صرف مریض ہی نہیں، بلکہ اُن کے چاہنے والوں کو بھی خلوص اور محبت سے سنبھالتا تھا۔
بھائی جان اب چلنے پھرنے سے معذور ہو چکے تھے اور روز سہ پہر اپنی ریموٹ کنٹرول پارکنسن چیئر پر بیٹھ کر لان کے آخری سرے تک جاتے اور بلوط کے گھنے درخت کی چھاؤں میں گھنٹوں خاموشی سے بیٹھے رہتے… جیسے وقت تھم سا گیا ہو۔
یہ بھی پڑھیں: ثناء یوسف کی آخری مسکراہٹ اور لال اسکوٹی چلاتی لڑکی
آج یکم جون 1991 تھی۔ بھائی جان ہمیشہ کی طرح درخت کے سائے تلے بیٹھے تھے اور امی اُن کے پاس خاموش کھڑی تھیں۔ اچانک بھائی جان نے تھکے ہوئے لہجے میں آہستہ سے کہا:
’امی… میں تیار ہوں۔‘
میں نہیں جانتی وہ لمحہ میری ماں پر کتنی صدیاں بن کر گزرا ہوگا۔
اگلے ہی روز، بڑی نرمی سے، بھائی جان کی روح اپنے جسم سے پرواز کر گئی۔
……………………………..
میں ’قاسم بنِ سعادت ہوم فار امیزنگ کِڈز‘ (QBS) میں اپنی دوست اسما کو بغور دیکھ رہی تھی ـ وہی اسما جس نے اپنے بھائی کی یاد میں صرف آنسو بہانے پر اکتفا نہیں کیا۔ اُس نے اپنے دکھ کو قوت بنایا اور اپنے بھائی کے نام پر ایسا فلاحی ادارہ قائم کردیا جو آج سینکڑوں نادار اور محروم بچوں کی زندگیوں میں امید اور روشن مستقبل کی کرن بن چکا ہے۔
قاسم بنِ سعادت کا نام… مر کر بھی زندہ ہے۔
آج اس فلاحی اسکول کے قیام کو پانچ سال مکمل ہو گئے ہیں۔ یہ اسکول بحریہ انکلیو اسلام آباد کے مضافاتی گاؤں میں واقع ہے جس کا نام ذخیرہ ہے ـ یہاں کی بیشتر آبادی غربت کا شکار ہے؛ ایسے گھرانے جن کے پاس نہ بچوں کو پڑھانے کی استطاعت ہے نہ ان کی مناسب تربیت کے لیے وقت۔
اسما اور ان کی ٹیم نے ان بچوں کی تعلیم، کردار سازی اور عملی تربیت کی ذمہ داری اپنے سر لے رکھی ہے، اور اسے نہایت محبت، دانائی اور خلوص سے نبھا رہی ہے۔
کون کہتا ہے کہ بیٹا نہ رہے تو نسل ختم ہوجاتی ہے؟ نیکی اور بھلائی کی نسل تو دلوں میں پروان چڑھتی ہے، اور وہ نسل کبھی ختم نہیں ہوتی۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
صنوبر ناظر ایک متحرک سیاسی و سماجی کارکن ہیں۔ تاریخ میں ماسٹرز کر رکھا ہے جبکہ خواتین کی فلاح اور مختلف تعلیمی پراجیکٹس پر کام کر چکی ہیں۔ کئی برس سے قومی و بین الاقوامی میڈیا اداروں کے لیے باقاعدگی سے لکھتی ہیں۔
we news اسما پاکستان رائل مارسیڈن کینسر اسپتال صنوبر ناظر کینسر کیو بی ایس ہوم میڈیکل کالج
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پاکستان رائل مارسیڈن کینسر اسپتال کینسر کیو بی ایس ہوم میڈیکل کالج لہجے میں کہا یہ بھی پڑھیں بھائی جان کی ڈاکٹر نے کے بعد کی طرح سے کہا کے لیے
پڑھیں:
ٹنڈولکر سمیت بھارتی کھلاڑی بھی مودی مخالف احتجاج کرنے والوں ہے حق میں سامنے آگئے
بھارت میں جاری طلبہ احتجاج کے دوران معروف کھلاڑی بھی طلبہ کے حق میں سامنے آ گئے ہیں۔ کرکٹ لیجنڈ سچن ٹنڈولکر، اولمپک گولڈ میڈلسٹ ابھینو بندرا، یوراج سنگھ، شیکھر دھون، محمد کیف، میرابائی چانو، ونیش پھوگاٹ اور منو بھاکر نے شفاف، منصفانہ اور میرٹ پر مبنی نظامِ تعلیم کا مطالبہ کرتے ہوئے حکومت اور متعلقہ اداروں سے مؤثر اصلاحات کی اپیل کی ہے۔
سچن ٹنڈولکر نے اپنے مرحوم والد جو پیشے کے اعتبار سے پروفیسر تھے کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ ’ناکامی قابلِ قبول ہے لیکن دھوکہ دہی نہیں۔ کبھی بھی شارٹ کٹ اختیار نہ کریں‘۔
یہ بھی پڑھیں: معرکہ حق میں بھارت کو کتنا نقصان پہنچا؟ احتجاج میں شامل بھارتی طلبہ نے بھی پاکستان کے مؤقف کی حمایت کردی
انہوں نے مزید کہا کہ بطور معاشرہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ایسی اقدار کو فروغ دیں جہاں محنت کو نتائج پر ترجیح دی جائے۔ انہوں نے لکھا اگر معاشرہ محنت کے بجائے صرف نتائج کو اہمیت دے گا تو لوگ میرٹ کے بجائے شارٹ کٹس تلاش کریں گے۔ آج اگر طلبہ کو یہ احساس ہو رہا ہے کہ ان کی محنت کا صلہ نہیں ملا تو یہ قابلِ فہم ہے۔ ہمیں مل کر ایسا نظام بنانا ہوگا جہاں انہیں دوبارہ ایسا محسوس نہ ہو۔
سچن نے کہا کہ بھارت کے نوجوان خوابوں اور توانائی سے بھرپور ہیں اور والدین، اساتذہ، تعلیمی اداروں، منتظمین اور پورے معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ ایسا ماحول قائم کیا جائے جہاں محنت کا صلہ ملے، دیانت داری کی حوصلہ افزائی ہو اور میرٹ کامیاب ہو۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت میں مودی حکومت کے خلاف بڑھتا احتجاج، سلمان خان بھی شامل ہوگئے
اولمپک گولڈ میڈلسٹ ابھینو بندرا نے بھی اسی مؤقف کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ تعلیم کو سیاست سے بالاتر ہونا چاہیے۔
انہوں نے لکھا کہ ’میں نے خود کو کبھی سیاسی شخصیت نہیں سمجھا لیکن میرا یقین ہے کہ کچھ معاملات ہم سب کے ہیں، چاہے ہمارے نظریات کچھ بھی ہوں۔ تعلیم انہی میں سے ایک ہے‘۔
انہوں نے کہا کہ کسی قوم کی اصل طاقت صرف اس کی معیشت یا کامیابیوں میں نہیں بلکہ اس بات میں ہوتی ہے کہ وہ اپنے نوجوانوں کو کتنے بہتر مواقع فراہم کرتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان نے ہاتھ کھڑے کردیے، ایران کو الٹی میٹم، کاکروچ جنتا پارٹی احتجاج سے مودی پریشان، نواز شریف کی انوکھی خواہش
ان کے مطابق ایسا نظامِ تعلیم جو اعتماد پیدا کرے، میرٹ کو فروغ دے اور تجسس کی حوصلہ افزائی کرے کسی بھی قوم کی سب سے بڑی طاقت ہوتا ہے۔ ہمیں مل کر اپنے تعلیمی نظام کو مزید مضبوط بنانا چاہیے تاکہ یہ آنے والی نسلوں کے لیے امید، مواقع اور جدت کا ذریعہ بن سکے۔
اولمپک سلور میڈلسٹ میرابائی چانو نے بھی مظاہرین کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں بہت سی اچھی چیزیں بھی ہو رہی ہیں لیکن کچھ افسوسناک واقعات بھی سامنے آ رہے ہیں۔ جب ہم ایسے واقعات دیکھتے یا سنتے ہیں تو دکھ ہوتا ہے اور سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایسا کیوں ہو رہا ہے۔ میں نے دہلی میں طلبہ کے احتجاج کے بارے میں سنا ہے میرا خیال ہے کہ وہ درست کام کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: بھارتی فوج میں تقسیم، اہلکار مودی حکومت کے خلاف احتجاج کا حصہ بن گئے
سابق بھارتی آل راؤنڈر یوراج سنگھ نے اپنے پیغام میں کہا ہر بچے، ہر طالب علم، ہر عورت اور ہر مرد کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ پُرامن ماحول میں تعلیم حاصل کرے، محفوظ رہے اور اپنے خواب پورے کرے۔ آپ کی فلاح و بہبود ہی روشن بھارت کی بنیاد ہے۔ بات چیت کے ذریعے ہم بھارت کے مستقبل کے لیے قابلِ قبول حل تلاش کر سکتے ہیں۔
سابق اوپنر شکھر دھون نے بھی طلبہ کے جذبات کو سمجھنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ان کے خوابوں کو سمجھنا ضروری ہے، لیکن مشکل وقت میں صبر اور ملک کے اداروں اور حکومت پر اعتماد برقرار رکھنا بھی اتنا ہی اہم ہے۔ میرا یقین ہے کہ ہر مسئلے کا حل صبر سے نکلتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت میں طلبا احتجاج نہیں، ہندتوا فاشسٹ سوچ کے خلاف بغاوت ہوئی ہے، سابق سینیٹر مشاہد حسین سید
سابق کرکٹر محمد کیف نے کہا کہ ایک باپ ہونے کے ناطے مجھے یہ دیکھ کر تکلیف ہوتی ہے کہ تعلیم کے نظام میں خامیوں کے خلاف احتجاج کرنے والے طلبہ پر پولیس طاقت استعمال کر رہی ہے۔ دہلی کی سڑکوں پر طلبہ پر لاٹھیاں برسنا بند ہونا چاہیے۔ مجھے امید ہے کہ اس مسئلے کا جلد حل نکلے گا۔
ریسلر ونیش پھوگاٹ نے احتجاجی مقام پر تشدد کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ جنتر منتر کی تصاویر نے انہیں شدید صدمہ پہنچایا۔ انہوں نے کہا جب ملک کے طلبہ اپنے مستقبل، اپنے حقوق اور اپنے خوابوں کے لیے سڑکوں پر نکلے تو انہیں عزت کے بجائے خوف اور تشدد کا سامنا کرنا پڑا۔
یہ بھی پڑھیں: مودی سرکار ’ستلج ‘ کے بعد’دی انڈیا اسٹوری‘ سے بھی ڈرنے لگی، سبب کیا نکلا؟
انہوں نے مظاہرین پر زور دیا کہ وہ ہر حال میں پرامن رہیں اور کہا آپ کی سب سے بڑی طاقت آپ کا صبر، نظم و ضبط اور پُرامن جدوجہد ہے۔ پیچھے مت ہٹیں، تاریخ ایک بار پھر کروٹ لے رہی ہے۔
سب سے پہلے آواز بلند کرنے والے کھلاڑیوں میں اولمپک شوٹر منو بھاکر بھی شامل تھیں جنہوں نے کہا کہ یہ معاملہ سیاست سے بالاتر ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ صرف سیاست کا معاملہ نہیں بلکہ ہمارے ملک کے مستقبل کا سوال ہے۔ میں خود ایک طالبہ رہی ہوں اور ہم سب کبھی نہ کبھی طالب علم رہے ہیں۔ ہر بچے کو تعلیم، تحفظ اور زندگی میں مساوی مواقع ملنے چاہییں۔ یہ کوئی رعایت نہیں بلکہ بنیادی حقوق ہیں۔ جن طلبہ اور بچوں نے اپنی جانیں گنوائیں، وہی اس ملک کا مستقبل تھے۔ ان کے خواب، ان کی صلاحیتیں اور ان کا مستقبل محفوظ ہونا چاہیے تھا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
انڈیا انڈیا احتجاج بھارتی کرکٹر سچن ٹنڈولکر کاکروچ جنتا پارٹی مودی