WE News:
2026-06-03@01:08:29 GMT

کینسر وارڈ

اشاعت کی تاریخ: 30th, November 2025 GMT

’کل آپ آرہی ہیں نا صنوبر… کیو بی ایس ہوم؟‘

’ہاں ضرور! میں وقت پر پہنچ جاؤں گی۔‘

’تھینک یُو یار،‘ اسما نے اپنائیت سے کہا اور کال بند ہوگئی۔

مگر جیسے ہی فون کی اسکرین بجھی، میرے ذہن کی کتاب کے پنّے خودبخود ماضی کی طرف پلٹنے لگے ـ

…………………….

بھرے پُرے گھر میں ایک انجانی سی اداسی کا بسیرا تھا۔ ڈرائنگ روم میں سب کے بولنے کے باوجود موت کا سا سناٹا پھیلا ہوا تھا… کسی بڑے سانحے کے بعد کا سناٹا۔

یہ بھی پڑھیں: اگلے جنم بھی موہے بٹیا ہی دیجیو: صنوبر ناظر

اس ماحول میں صرف اسما تھی جو اپنے برجستہ جملوں اور کھنکتی ہنسی سے بوجھل فضا کو کچھ لمحوں کے لیے ہلکا ضرور کر دیتی، مگر یاسیت کے بوجھ کو کم کرنے میں پوری طرح ناکام۔

تیکھے نین نقش اور سانولی سلونی رنگت والی اسما مجھے پہلی ہی ملاقات میں دل کو بھا گئی تھی۔

میں نے آہستہ سے کہا، ’اتنا خوبصورت گھر… لیکن ایسی ویرانی اور سناٹا؟‘

میرے شوہر کے جواب نے مجھے ساکت کر دیا۔

’جوان موت پر ایسی ہی ویرانی چھا جاتی ہے۔‘

…………………….

’آج شام کی فلائٹ سے ہم پنڈی جا رہے ہیں، قاسم کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔‘ ابو نے ہمیشہ کی طرح تحمل اور وقار سے ہمیں خبر دی۔

۱۹ دسمبر ۱۹۸۸ کو جب ہم سب سی ایم ایچ پنڈی میں بھائی جان کے کمرے میں داخل ہوئے تو انہوں نے ہم پر ایک نگاہ ڈالی… ہلکی سی… مگر سب کچھ سمجھ لینے والی، اور جیسے دل ہی دل میں اعتراف کر لیا کہ ’مجھے کسی بڑے مرض نے آلیا ہے۔‘

’قاسم بن سعادت‘ چار بہنوں کا اکلوتا بھائی، بڑی آپا سے چھوٹا اور ہم تینوں بہنوں کے بھائی جان ـ انیس برس کا خوبصورت، شوخ مزاج، باتوں میں ہنسی بکھیر دینے والا، بہترین کھلاڑی، زندہ دل نوجوان… قاسم۔

یہ بھی پڑھیں:  ’رودالی‘

میڈیکل کالج کا دوسرا سال چل رہا تھا۔ قاسم کو رفع حاجت میں کئی ماہ سے تکلیف تھی، مگر کم عمری کی جھجھک، شرم اور نوجوانی کی لاپرواہی نے اسے معاملے کو سنجیدگی سے لینے نہ دیا۔ جب تکلیف برداشت سے باہر ہوئی تو بالآخر اسپتال گیا۔

’تمھارے معقد میں کومن ایبسیس (common abscess) ہے، میں اسے ابھی ڈرین (drain) کر دوں گا،‘ ڈاکٹر نے پُراعتماد لہجے میں کہا۔

اگلے ہی روز بغیر کسی کلچر یا ٹیسٹ کے قاسم کا ایک معمولی سا آپریشن کر دیا گیا۔ مگر اس کے بعد تکلیف کم ہونے کے بجائے اور بڑھ گئی۔

’مزید ڈریننگ کی ضرورت ہے، ایک اور آپریشن کرنا پڑے گا،‘ ڈاکٹر نے دوبارہ وہی پُراعتماد جملہ دہرایا۔

دوسری بار پھر معقد کی چیر پھاڑ کی گئی، مگر اس بار بھی کوئی واضح زخم یا پھوڑا نظر نہ آیا۔ کاٹنے پیٹنے کے اس بےسمت عمل کے بعد ڈاکٹر کو یکایک خیال آیا کہ بائیوپسی بھی کروالی جائے۔

رپورٹ جو آئی، وہ کسی بم کی طرح ہم سب پر آگری ـ ایسی خبر جس نے ہمارے پاؤں تلے سے زمین کھینچ لی۔

بھائی جان کو (Rhabdomyo Sarcoma) معقد کے عضلات کا سرطان لاحق تھا، وہی مہلک مرض جو بےمحابا چیر پھاڑ اور غلط طریقے سے چھیڑنے پر اور تیزی سے پھیل جاتا ہے۔ یوں ناسمجھی، غفلت اور غلط علاج نے قاسم کی بیماری کو بھڑکا کر ہمیں ایک ایسے المیے کے سامنے لا کھڑا کیا جس کا تصور بھی ناقابلِ برداشت تھا۔

یہ بھی پڑھیں: دوزخ نامہ میں جنت کی سیر

ابو نے بغیر کسی تاخیر کے لندن کی فلائٹ بک کروالی، کیونکہ وہاں ہمارا ددھیال تھا اور آپا اپنے شوہر کے ساتھ وہیں مقیم تھیں۔

بائیس دسمبر کو جب ہم لندن پہنچے تو شہر دلہن کی مانند دمک رہا تھا، کرسمس کی چمک ہر سمت پھیلی ہوئی تھی۔ باہر رنگ و نور کا میلہ تھا اور ہم سب کے دل کے اندر ماتم برپا تھا۔

بھائی جان کو اگلے ہی روز رائل مارسیڈن کینسر اسپتال میں داخل کرا دیا گیا۔ معائنہ کرنے کے بعد ڈاکٹر نے گہری سنجیدگی سے کہا:

’قاسم کے زخم کو نہایت غیر پیشہ ورانہ اور غیر ذمہ دارانہ انداز میں چھیڑا گیا ہے، بالکل ایسے جیسے کسی اناڑی قصائی نے بےدھڑک چیر پھاڑ کر دی ہو۔‘

’قصائی بھی جب گوشت کی بوٹیاں بناتا ہے تو چربی، ہڈی اور ریشوں کو ایک ترتیب اور نفاست سے الگ کرتا ہے،‘ میں نے سوچا۔

بھائی جان کا علاج شروع ہوا اور پورا ایک سال چلتا رہا۔ کیموتھراپی، اسٹیروئیڈز اور دوسری دواؤں نے اُن کا جسم بدل کر رکھ دیا تھا ـ پیٹ پھول گیا تھا اور باقی وجود جیسے سکڑ کر رہ گیا ہو۔ پہلے والے وجیہ و حسین قاسم کی شکل و صورت میں کچھ بھی پہلے جیسا نہ بچا تھا، سوائے اُن کی ہنسی اور پھڑکتی ہوئی حسِ ظرافت کے۔

جب بھی میں بھائی جان کی عیادت کے لیے کینسر اسپتال جاتی تو وہاں اس مرض میں مبتلا مریضوں کو دیکھ کر وکرم سیٹھ کی نظم ’کینسر وارڈ‘ کے یہ اشعار ذہن میں گھومنے لگتے:

’یہ وہ مریض ہیں جن کی گفتگو میں مستقبل کا زمانہ نہیں ہوتا۔‘

یہ بھی پڑھیں: وی نیوز کا ایک سال

سن 1989 کے دسمبر میں جب بھائی جان کی طبیعت میں کچھ بہتری آئی تو ہم نے کراچی واپسی کی راہ لی۔ انہوں نے پھر سے اپنی پڑھائی اور فٹنس پر توجہ دینی شروع کی اور دوبارہ راولپنڈی میڈیکل کالج پہنچ گئے۔ پڑھائی ہو یا اسپورٹس، بھائی جان دونوں میں ہمیشہ بہترین رہے، مگر شاید آنے والے برے وقت کی آہٹ ان کی چھٹی حس پہلے ہی سن چکی تھی۔

دسمبر 1990 کی ایک سرد رات تھی۔ ہم کراچی سے پنڈی بھائی جان سے ملنے آئے ہوئے تھے۔

’قاسم، اس بار تمہاری ڈسٹنکشن آنی چاہیے،‘ ابو نے محبت اور امید بھرے لہجے میں کہا۔

بھائی جان ہلکے سے مسکرائے اور دھیمے لہجے میں بولے:

’شاید اس کی نوبت ہی نہ آئے۔‘

ہم سب جیسے ایک لمحے کو پتھر کے ہو گئے۔

پھر 8 مارچ 1991 وہی منحوس خبر لے کر آیا ـ بھائی جان کا کینسر بےرحمی سے لوٹ آیا تھا، پہلے سے بھی زیادہ شدت کے ساتھ۔ دوبارہ سامان باندھا گیا، اور ایک بار پھر لندن کا سفر شروع ہوا۔

معائنے کے دوران بھائی جان نے بےساختہ ڈاکٹر سے پوچھ لیا:

’ڈاکٹر، میرے پاس کتنا وقت ہے؟‘

ڈاکٹر نے فائل سے نظر اٹھائی، گہری سانس لی اور پختہ لہجے میں کہا:۔

یہ بھی پڑھیں: اک چادر میلی سی

’تقریباً دو مہینے۔‘

ہم پر بجلی سی گر گئی۔

کس بےدردی سے قدرت کی ستم ظریفی اور ہمارے ہی اسپتال کے عملے کی نااہلی نے اسے موت کے منہ میں دھکیل دیا۔

’ہائے، سعادت… اللہ نے ایک ہی بیٹا دیا تھا… اسے بھی اتنی جلدی اپنے پاس بلا رہا ہے۔ اب کون تمہاری نسل آگے بڑھائے گا؟‘

’یقین نہیں آتا، یہ وہی خوبصورت قاسم ہے… اللہ کسی والدین کو اولاد کا یہ دن نہ دکھائے۔‘

’بیٹیاں تو اپنے گھروں کی ہیں، ایک قاسم ہی تھا جس سے خاندان کا نام آگے چلتا… ہائے کیا ستم ظریفی ہے قدرت کی۔‘

مجھے سمجھ نہیں آتا تھا کہ یہ لوگ عیادت کے لیے آتے ہیں یا ہمارے زخموں پر نمک چھڑکنے۔ ہر جملہ ایک خنجر کی طرح لگتا تھا۔

ایک روز بھائی جان نے امی سے دبے لہجے میں کہا:۔

’امی، میں اب مزید رشتہ داروں کے گھر میں نہیں رہ سکتا۔ وہ مجھے ایسی نظروں سے دیکھتے ہیں جیسے میں کوئی بےچارگی کا تماشا ہوں۔ مجھے کسی کینسر کے ادارے میں داخل کروا دیں جہاں میں اپنے جیسے مریضوں کے درمیان اپنی باقی زندگی کچھ عزت سے گزار سکوں۔‘

چند ہی دنوں میں بھائی جان کی خواہش کے مطابق انہیں مائیکل سوبیل ہاؤس منتقل کردیا گیا۔ وہاں جاتے ہوئے یوں محسوس ہوتا تھا جیسے ہم اپنے پیارے کو آہستہ آہستہ زندگی کے آخری دروازے تک چھوڑنے جا رہے ہوں۔

پہاڑی پر واقع یہ ادارہ ایک پرسکون آسائش گاہ تھا، جہاں عملے کا ہر فرد صرف مریض ہی نہیں، بلکہ اُن کے چاہنے والوں کو بھی خلوص اور محبت سے سنبھالتا تھا۔

بھائی جان اب چلنے پھرنے سے معذور ہو چکے تھے اور روز سہ پہر اپنی ریموٹ کنٹرول پارکنسن چیئر پر بیٹھ کر لان کے آخری سرے تک جاتے اور بلوط کے گھنے درخت کی چھاؤں میں گھنٹوں خاموشی سے بیٹھے رہتے… جیسے وقت تھم سا گیا ہو۔

یہ بھی پڑھیں: ثناء یوسف کی آخری مسکراہٹ اور لال اسکوٹی چلاتی لڑکی

آج یکم جون 1991 تھی۔ بھائی جان ہمیشہ کی طرح درخت کے سائے تلے بیٹھے تھے اور امی اُن کے پاس خاموش کھڑی تھیں۔ اچانک بھائی جان نے تھکے ہوئے لہجے میں آہستہ سے کہا:

’امی… میں تیار ہوں۔‘

میں نہیں جانتی وہ لمحہ میری ماں پر کتنی صدیاں بن کر گزرا ہوگا۔

اگلے ہی روز، بڑی نرمی سے، بھائی جان کی روح اپنے جسم سے پرواز کر گئی۔

……………………………..

میں ’قاسم بنِ سعادت ہوم فار امیزنگ کِڈز‘ (QBS) میں اپنی دوست اسما کو بغور دیکھ رہی تھی ـ وہی اسما جس نے اپنے بھائی کی یاد میں صرف آنسو بہانے پر اکتفا نہیں کیا۔ اُس نے اپنے دکھ کو قوت بنایا اور اپنے بھائی کے نام پر ایسا فلاحی ادارہ قائم کردیا جو آج سینکڑوں نادار اور محروم بچوں کی زندگیوں میں امید اور روشن مستقبل کی کرن بن چکا ہے۔

قاسم بنِ سعادت کا نام… مر کر بھی زندہ ہے۔

آج اس فلاحی اسکول کے قیام کو پانچ سال مکمل ہو گئے ہیں۔ یہ اسکول بحریہ انکلیو اسلام آباد کے مضافاتی گاؤں میں واقع ہے جس کا نام ذخیرہ ہے ـ یہاں کی بیشتر آبادی غربت کا شکار ہے؛ ایسے گھرانے جن کے پاس نہ بچوں کو پڑھانے کی استطاعت ہے نہ ان کی مناسب تربیت کے لیے وقت۔

اسما اور ان کی ٹیم نے ان بچوں کی تعلیم، کردار سازی اور عملی تربیت کی ذمہ داری اپنے سر لے رکھی ہے، اور اسے نہایت محبت، دانائی اور خلوص سے نبھا رہی ہے۔

کون کہتا ہے کہ بیٹا نہ رہے تو نسل ختم ہوجاتی ہے؟ نیکی اور بھلائی کی نسل تو دلوں میں پروان چڑھتی ہے، اور وہ نسل کبھی ختم نہیں ہوتی۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

صنوبر ناظر

صنوبر ناظر ایک متحرک سیاسی و سماجی کارکن ہیں۔ تاریخ میں ماسٹرز کر رکھا ہے جبکہ خواتین کی فلاح اور مختلف تعلیمی پراجیکٹس پر کام کر چکی ہیں۔ کئی برس سے قومی و بین الاقوامی میڈیا اداروں کے لیے باقاعدگی سے لکھتی ہیں۔

we news اسما پاکستان رائل مارسیڈن کینسر اسپتال صنوبر ناظر کینسر کیو بی ایس ہوم میڈیکل کالج

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: پاکستان رائل مارسیڈن کینسر اسپتال کینسر کیو بی ایس ہوم میڈیکل کالج لہجے میں کہا یہ بھی پڑھیں بھائی جان کی ڈاکٹر نے کے بعد کی طرح سے کہا کے لیے

پڑھیں:

جنگ امن اور معیشت کی کہانی

پاکستان کو اگر ترقی کے تناظر میں آگے بڑھنا ہے تواسے معاشی ترقی کو بنیاد بنانا ہوگا۔سیاست بھی عام آدمی یا محروم طبقات کے مفادات یا ان کو معاشی طور پر مستحکم کرنے سے جڑی ہونی چاہیے۔یہ عمل اس وقت تک ممکن نہیں جب تک اول ہم داخلی ،علاقائی اور خارجی محاذ پر موجود تنازعات سے باہر نہیں نکلیں گے۔

دوئم ہمیں اپنے داخلی نظام میں شفافیت، جوابدہی،احتساب ،درست ترجیحات کا تعین ،وسائل کی منصفانہ تقسیم اور ادارہ جاتی عمل کو مضبوط کرنے اور ان کو آئین اور قانون کی حکمرانی کے تابع کرنے سے جوڑنا ہوگا۔امن ہماری بنیادی ضرورت ہے اور اہم بات یہ ہے کہ اس نظام میں وہ لوگ جو مختلف سیاسی ،سماجی اور معاشی یا قانونی انصاف کی محرومی کا شکار ہیں ان کونظرانداز کرکے ہم معاشی ترقی کے اہداف حاصل نہیں کرسکیں گے۔ لوگوںکے ذہن میں موجود سیاسی اور معاشی نظام نے اس کے مسائل کو اور زیادہ گھمبیر بنادیا ہے۔

علاقائی سیاست میں جو نئی تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں ہمیں اس کے لیے جہاں اپنی علاقائی سطح کی پالیسیوں پر نئی فکر اور سوچ کو اختیار کرنا ہے وہیں اسی کی بنیاد پر اپنی داخلی سیاست کے خدوخال یا دائرہ کار میں بھی بنیادی نوعیت کی تبدیلیوں کی ضرورت ہے ۔بالخصوص جب ہمیں ایک ہی وقت میں بھارت اور افغانستان سے جنگ یا کشیدگی کا سامنا ہے یا ان دونوں ممالک کی بنیاد پر پاکستان مخالف گٹھ جوڑ یا ان کی پاکستان مخالف پراکسی کی موجودگی میں ہم اپنی داخلی اور علاقائی سیاست کو کیسے مضبوط کرسکیں گے ،اہم سوال بنتا ہے ۔

کیونکہ اب جو ہم نئی تبدیلیاں علاقائی یا خلیجی ممالک کی سطح پر دیکھ رہے ہیں اور جس انداز سے یو اے ای سمیت دیگر خلیجی ممالک کی پالیسیوں میں تبدیلیاں پیدا ہورہی ہیں اس میں ہمیں بھی ایک نئے فریم ورک کی ضرورت ہے ۔اسی طرح چین،روس،امریکا کی سطح پر جو حالات بن رہے ہیں ان میں ہمارے تعلقات کی نوعیت یاسیاسی و معاشی روابط کی بنیاد کیا ہوگی ۔بنیادی سوال انسانی ترقی کا ہے ۔لیکن کیا انسانی ترقی کے اس ماڈل میں ہم صرف اسلحہ اور جنگوں پر وسائل خرچ کرکے یا اپنے دفاع کو مضبوط کرکے انسانی ترقی کو نئی جہت دے سکیں گے اس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ کسی بھی ریاست کا دفاع اس کی بنیادی ضرورت بنتا ہے اور بالخصوص موجودہ حالات میں دفاع کا مضبوط ہونا اہم ہے ۔لیکن اسی تناظر میں ایک متوازن پالیسی دفاع اور انسانی ترقی کی بنیاد پر قائم ہونی چاہیے اور یہ ہی تعلق بنیادی طور پر ریاست،حکومت اور شہریوں کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے اس کی ساکھ کو قائم کرنے میں مدد دے گا۔

بدقسمتی سے ہمیں علاقائی تعلقات کی بحالی میں جو تعاون بھارت اور افغانستان سے درکار ہے، اس میں کافی چیلنجز کا سامنا ہے اور ایسے لگتا ہے کہ ان دونوں ممالک کی ترجیحات میںپاکستان سے تعلقات کو بہتر بنانا ایجنڈے کا حصہ نہیں ۔اگرچہ پچھلے دنوں سے کچھ آوازیں ہمیں بھارت کی جانب سے سننے کو ملی ہیں جہاں کچھ بڑے انفرادی لوگوں نے مودی حکومت کو کہا ہے کہ وہ جنگ کے ماحول سے نکل کر پاکستان سے تعلقات کی بہتری میں بات چیت کے راستے کھولیں ۔لیکن کیا نریندر مودی کی حکومت اس معاملے میں کوئی بڑی پیش رفت دکھاتی ہے، اس پر کچھ کہنا قبل ازوقت ہوگا ۔لیکن ایک بات طے ہے کہ بھارت اور افغانستان سے پاکستان سے تعلقات کی بہتری محض ان ملکوں تک ہی محدود نہیں ہوگی بلکہ مجموعی طور پر علاقائی سیاست میں سیاسی اور معاشی استحکام دیکھنے کو ملے گا۔پا کستان،بھارت اور افغانستان کو تعلقات کی بہتری کے لیے موجودہ کشیدہ حالات کے خاتمہ میں غیر معمولی اقدامات اور اپنے قد سے اوپر اٹھ کر کچھ ایسا کرکے دکھانا ہوگا جو ان ممالک کو ایک دوسرے کے قریب لاسکے ۔لیکن یہ عمل کسی سیاسی تنہائی میں نہیں ہوگا اس میں بڑی طاقتوں جن میں امریکا،چین اور روس کو ایک موثر سطح کا کردار ثالثی کا ادا کرنا ہوگا ۔

کیونکہ پاکستان ،بھارت اور افغانستان کے درمیان جو بھی تعلقات کی بہتری کا فریم ورک بنے گا وہ ان بڑے ممالک کی حمایت اور نگرانی کے ممکن نہیں ہے۔بالخصوص دہشت گردی جو پاکستان، بھارت اور افغانستان کا مشترکہ مسئلہ ہے اس کے لیے عملی طور پر ان ممالک کے درمیان اس سے نمٹنے کے لیے مشترکہ میکنزئم درکار ہے اور یہ عمل عالمی حمایت کے بغیر ممکن نہیں ۔کیونکہ محض الزام تراشی کی بنیاد پر مسائل کا علاج تلاش نہیں کیا جاسکے گا اور نہ ہی ان مسائل کا حل مزید جنگ یا تنازعات کو آگے بڑھانے سے ممکن ہوسکے گا لیکن کیا ہم اپنی اس حکمت عملی نظرثانی کے لیے تیار ہیں اس کا جواب بھی تلاش کرنا ہوگا۔یہ بات طے ہے کہ پاکستان سمیت کوئی بھی ملک اسٹیٹس کو کی بنیاد پر علاقائی تعلقات کی بہتری میں کوئی بڑی مثبت تبدیلیاں پیدا نہیں کرسکے گا اور نہ ہی معاملات بہتری کی طرف جاسکیں گے۔

لیکن سوال یہ ہی بنتا ہے کہ بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے گا اور کون معاملات کی درستگی کو ممکن بنانے میں پہل کرے گا یا ایسا کیا قدم اٹھائے گا جوعملا دوسروں کو ترغیب دے کہ وہ بھی امن کا راستہ بات چیت کی مدد سے طے کرے ۔مگر یہ جو اعتماد سازی یا بداعتمادی کا بحران ہے اس نے مجموعی طور پر علاقائی سیاست کو ایک بڑے بحران کی طرف دکھیل دیا ہے اور ایسے لگتا ہے کہ ہم اپنی حقیقی منزل سے کافی دور ہیں۔ان دوریوں کو ختم کرنا علاقائی سیاست اور ان میںشامل ممالک کی مشترکہ حکمت عملی کا حصہ ہونا چاہیے۔

جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے تو ایک طرف اسے علاقائی سیاست کا چیلنج ہے تو دوسری طرف حالات کی بہتری کے لیے اسے اپنے داخلی سطح کے معاملات کو درست کرنے پر بھی توجہ دینی ہوگی کیونکہ یہ ممکن نہیں کہ ہم اپنے داخلی معاملات کو درست کیے بغیر علاقائی سیاست میں بہت کچھ حاصل کرسکیں گے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ موجودہ ایک برس میں ہم نے عالمی اور علاقائی سفارت کاری کی سطح پر اپنی صلاحیتوں کو خوب منوایا ہے اور اس کی ہر سطح پر پزیرائی بھی کی جارہی ہے۔لیکن اس کے باوجود ہم اپنے داخلی معاملات کی درستگی میں کچھ کمزوریوں کے پہلو ہم کو دیکھنے کو ملتے ہیں۔ہم جہاںعالمی ثالثی میں اپنا کردار ادار کررہے ہیں وہیںہماری داخلی سیاست کی تقسیم کے تناظر میں جو سیاسی کشیدگی اور سیاسی دشمنی یا سیاسی ڈیڈ لاک اسے بھی ختم کرنا ریاست اور حکمرانوں کی ذمے داری کے زمرے میں آتا ہے ۔یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ہماری سیاسی تقسیم نے ہمیں مجموعی طور پر نہ صرف تقسیم کردیا ہے بلکہ اس کے نتیجے میں کشیدگی بھی بڑھ رہی ہے ۔اسی طرح قومی سیکیورٹی یا دہشت گردی سے جڑے مسائل بھی اہم ہیں اور موجودہ دہشت گردی کے داخلی واقعات نے ہمارے لیے سنجیدہ سوالات اٹھائے ہیں ۔

بلوچستان اور خیبر پختونخواہ میں مسلسل دہشت گردی جاری رہنا یا وہاں تسلسل کے ساتھ دہشت گردی کے واقعات کا ہونا، ہماری داخلی کمزوریوں کی نشاندہی کرتا ہے ۔گورننس سے جڑے معاملا ت کا حل تلاش نہ کرنا بھی ہماری مسلسل ناکامی کی نشاندہی کرتا ہے ۔18ویں ترمیم کے باوجود وفاق اور صوبوں کے درمیان گورننس سے مسائل کا حل تلاش نہ کرنا اور اس کا عام فرد پر براہ راست اثر انداز ہونالوگوں میںنظام کے بارے میں ایک بڑے ردعمل کی سیاست پیدا کررہا ہے۔یہ جو ہمارے ملک میں سرمائے کی کمی یا سرمایہ کاری کے نہ ہونے کا داخلی اور خارجی بحران ہے اس کی چند بڑی وجوہات میں ایک وجہ گورننس یا ادارہ جاتی نظام کی ناکامی سے جڑا ہوا بھی پہلو ہے۔

اگر ہم نے داخلی معاملات کو درست نہ کرنے کی سیاسی روش کو برقرار رکھا اور پرانے خیالات کے ساتھ ہی نظام کو چلانا ہے تو یہ نظام جدید تقاضوں کے مطابق نہیں چل سکے گا۔اہم نقطہ یہ ہے کہ پاکستان کے پالیسی سازوں کی عملا ترجیحات میں ہمیں مسلسل کمزوری کے پہلو دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ان امور کی نشاندہی مسلسل عالمی مالیاتی ادارے اور تھنک ٹینک بھی پیش کررہے ہیں کہ ہم اپنی داخلی درستگی کے لیے وہ کچھ نہیں کررہے جو ہمیں کرنا چاہیے۔سوال یہ ہی ہے کہ کیا ہم اپنی ترجیحات کو تبدیل کرسکیں گے یا ان تبدیلیوں کے تناظر میں ملک کی سطح پر کوئی بڑے دباؤ کی سیاست کو پیدا کیا جاسکے گا۔کیونکہ بدقسمتی سے جہاں حکمرانی کا نظام کمزور ہوا ہے وہیں دباو ڈالنے والی سیاست اور اس سے جڑے فریق بھی کمزور ہوئے ہیں،یہ بڑا المیہ بھی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • ناتمام (آخری قسط)
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • رکشہ ڈرائیور نے چالان ہونے پر رکشے کو آگ لگا دی
  • وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا
  • صدر زرداری کی اٹلی کے صدر ور عوام کو یومِ جمہوریہ پر مبارکباد
  • باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
  • لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق