کوئٹہ، گیس پریشر کی کمی برقرار، کمپریسر کے استعمال و فرخت کیخلاف کارروائی
اشاعت کی تاریخ: 29th, November 2025 GMT
گیس پریشر کی کمی سے متعلق اجلاس میں ڈپٹی کمشنر نے ہدایت کی کہ کمپریسر بیچنے، لگانے اور استعمال کرنے والوں کیخلاف فوری اور بھرپور کارروائی کی جائے۔ اسلام ٹائمز۔ ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی کی زیر صدارت شہر میں گیس پریشر میں مسلسل کمی کے مسئلے کے حل کے حوالے سے اجلاس منعقد ہوا۔ جس میں تمام اسسٹنٹ کمشنرز اور سوئی سدرن گیس کمپنی کے نمائندوں نے شرکت کی۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ شہر میں کم پریشر کی بڑی وجہ گھروں اور مارکیٹوں میں کمپریسرز کا بڑھتا ہوا استعمال ہے۔ ڈپٹی کمشنر نے ہدایت کی کہ کمپریسر بیچنے، لگانے اور استعمال کرنے والوں کے خلاف فوری اور بھرپور کارروائی کی جائے۔ تمام اسسٹنٹ کمشنرز کو اپنے علاقوں میں خصوصی ٹیمیں بنا کر مسلسل کریک ڈاون جاری رکھنے کی ہدایت کی گئی۔ جبکہ ایس ایس جی سی کو فیلڈ ٹیمیں فعال کرتے ہوئے مشترکہ آپریشنز کا طریقہ کار مرتب کرنے کا کہا گیا۔ ڈپٹی کمشنر نے واضح کیا کہ گیس کی منصفانہ فراہمی حکومت کی ترجیح ہے اور کمپریسر مافیا کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر سختی سے عمل کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ کوئٹہ کے شہریوں کو سردیوں میں گیس پریشر کے حوالے سے مشکلات درپیش ہیں۔ خصوصاً کھانے پکانے کے اوقات میں گیس پریشر سے گھریلو امور متاثر ہو رہے ہیں۔ لہٰذا اس مسئلہ کے حل کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں۔
.ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ڈپٹی کمشنر گیس پریشر
پڑھیں:
انٹرنیشنل کیمیکل سینٹر کی قانونی حیثیت برقرار رکھی جائے، پاکستان اکیڈمی آف سائنسز
پاکستان اکیڈمی آف سائنسز نے انٹرنیشنل سینٹر فار کیمیکل اینڈ بائیولوجیکل سائنسز (آئی سی سی بی ایس) کو نجی افراد کے حوالے کرنے کے ممکنہ حکومتی فیصلے پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے اور وزیرِاعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ سے مطالبہ کیا ہے کہ ادارے کی قانونی حیثیت برقرار رکھی جائے۔
اکیڈمی کے صدر ممتاز قومی سائنسدان پروفیسر ڈاکٹر کوثر عبداللّٰہ ملک نے وزیرِاعلیٰ سندھ کو ارسال کردہ خط میں کہا ہے کہ اطلاعات کے مطابق آئی سی سی بی ایس کو بغیر کسی مضبوط جواز اور مناسب قانونی تقاضوں کے نجی افراد کے حوالے کرنے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں جو قومی سائنسی ڈھانچے کے لیے نقصان دہ ہو سکتی ہیں۔
انہوں نے لکھا کہ آئی سی سی بی ایس پاکستان کے بہترین سائنسی اداروں میں شمار ہوتا ہے اور اس کے محققین کو اعلیٰ قومی اعزازات سے نوازا جا چکا ہے۔
خط میں اس امر کا بھی ذکر ہے کہ ادارے سے تربیت یافتہ ماہرین ملک کی مختلف جامعات اور تحقیقاتی مراکز میں اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں، جس سے آئی سی سی بی ایس کی قومی سطح پر اہمیت ثابت ہوتی ہے۔
ڈاکٹر کوثر نے خبردار کیا ہے کہ ادارے کو جامعہ کراچی سے الگ کرنے کی کسی بھی کوشش سے ناصرف اس کے معیار پر منفی اثر پڑے گا بلکہ بدعنوانی کے خدشات بھی بڑھ سکتے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ نجی شعبے کے پاس ایسے غیر منافع بخش اعلیٰ تحقیقی اداروں کو چلانے کا تجربہ نہ ہونے کے برابر ہے۔
ڈاکٹر کوثر نے وزیرِاعلیٰ سندھ کو مشورہ دیا ہے کہ ادارہ اپنی موجودہ حیثیت میں جامعہ کراچی کا حصہ ہی رہے، جب کہ اگر انتظامی امور سے متعلق کوئی مسائل موجود ہیں تو انہیں اصلاحات کے ذریعے حل کیا جا سکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان اکیڈمی آف سائنسز نے اس سلسلے میں ہر ممکن تعاون کی پیشکش بھی کی ہے۔