بھارتی وزیر دفاع کی ہرزہ سرائی
اشاعت کی تاریخ: 2nd, December 2025 GMT
بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی سے لے کر بھارتی حکومت کے وزیروں اور مشیروں کے درمیان پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی کا ایک مقابلہ لگا رہتا ہے۔ سب ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کے لیے پاکستان کے خلاف بڑھکیں مارتے رہتے ہیں۔
بھارت کے خلاف حالیہ جنگ میں پاکستان کی شاندار فتح نے مودی حکومت کو عالمی سطح پر جس بدنامی اور رسوائی سے دوچارکیا ہے اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ مختلف عالمی فورمز پر پاکستان کی فتح، 7 بھارتی طیارے گرانے اور فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیرکی پیشہ وارانہ فوجی و جنگی مہارت کو خراج تحسین پیش کرتے رہتے ہیں۔ اس نے مودی حکومت کو مزید خجالت و شرمندگی سے دوچار کر رکھا ہے۔
ان کے پاس اپنی ناکامی، شکست اور رسوائیوں پر پردہ ڈالنے کے لیے منطق و دلیل سے بات کرنے کے لیے کچھ بچا ہی نہیں۔ مودی حکومت کے پاس اب دو ہی راستے رہ گئے ہیں، اول وہ ہر مقابلے سے راہ فرار اختیار کریں یا پھر شکست کا ذائقہ چکھنے کے لیے تیار رہیں۔ جیساکہ آکسفورڈ یونیورسٹی میں پاکستانی و بھارتی طلبا کے درمیان ہونے والے مقابلے میں پاکستان کے ذہین و ہونہار طلبا نے زمینی حقائق اور مضبوط دلائل سے بھارتی طلبا سے مقابلہ جیت کر ثابت کر دیا کہ پاکستان ہر مقابلے میں بھارت کو شکست دینے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔
اس مقابلے میں بھارت کے سیاسی پینل نے ’’ ٹاکرہ‘‘ کرنے راہ فرار اختیار کر کے اپنی شکست تسلیم کر لی۔ بھارت کی مودی حکومت کے پاس اپنی خفت مٹانے کا دوسرا راستہ یہ رہ گیا ہے کہ وہ پاکستان کے خلاف بے بنیاد الزامات لگائیں، جھوٹے پروپیگنڈے کریں اور بے سرو پا بیانات دے کر اپنی جھوٹی انا کی تسکین کریں۔ جیساکہ بھارت کے وزیر دفاع راج ناتھ نے اپنے ایک حالیہ اشتعال انگیز بیان میں کہا تھا کہ’’ آج شاید سندھ کی سرزمین انڈیا کا حصہ نہیں، لیکن تہذیبی طور پر سندھ ہمیشہ انڈیا کا حصہ رہے گا اور جہاں تک زمین کی بات ہے تو سرحدیں بدل بھی سکتی ہیں۔ کیا پتا کل پھر سندھ انڈیا میں واپس آ جائے۔‘‘
بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ کے اس بیان پر پاکستان میں سیاسی، سفارتی اور عوامی سطح پر سخت ردعمل ظاہرکیا جا رہا ہے۔ پاکستان کی قومی اور سندھ اسمبلی میں بھارتی وزیر دفاع کے متذکرہ اشتعال انگیز بیان کے خلاف جمعرات کو مذمتی قراردادیں منظور کی گئی ہیں۔ قراردادوں میں کہا گیا ہے کہ ’’ صوبہ سندھ پاکستان کا حصہ ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ بھارتی وزیر دفاع کا بیان پاکستان کی خود مختاری پر حملہ ہے۔‘‘ سندھ اسمبلی میں منظور کی گئی قرارداد کے حوالے سے اراکین نے حکومت پاکستان پر زور دیا ہے کہ وہ اس قرارداد کو دنیا بھر میں بھیجے اور بتایا جائے کہ بھارت سندھو دریا پر قبضہ کرنا چاہتا ہے۔
پاکستان میں ہندو کونسل کے سرپرست اعلیٰ اور ممبر قومی اسمبلی ڈاکٹر رمیش کمار وانکوانی کی ہدایت پر ملک بھر کی محب وطن ہندو کمیونٹی نے بھارتی وزیر دفاع کو اپنا بیان واپس لینے کے لیے تین دن کا الٹی میٹم دیا ہے۔
بصورت دیگر بھارتی ہائی کمیشن کے سامنے دھرنا دیا جائے گا۔ پاکستان ہندو کونسل کے صدر پرشوتم رمانی کی قیادت میں کراچی پریس کلب پر احتجاجی مظاہرہ بھی کیا گیا جس میں سول سوسائٹی، طلبا اور میڈیا سمیت مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کرکے ثابت کیا کہ بھارت کے خلاف نہ صرف پاک فوج اور حکومت بلکہ پاکستان کے محب وطن عوام بھی کندھے سے کندھا ملا کر متحد و منظم کھڑے ہیں اور بھارت کے ہر منفی ہتھکنڈے کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔ جیساکہ فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر نے دو ٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ ملکی سیکیورٹی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا، ہماری سب سے بڑی طاقت قومی یکجہتی ہے اور ہم سب مل کر دشمن کے ناپاک عزائم کو ناکام بنائیں گے۔
بھارت کی مودی سرکار کو یاد رکھنا چاہیے کہ اگر اس نے پاکستان کے خلاف کوئی بھی اشتعال انگیزی کی کوشش کی، تو اسے منہ توڑ اور 10 مئی 2025 سے زیادہ مہلک اور خوفناک جواب کا سامنا کرنا پڑے گا۔ آزاد کشمیر اور سندھ پر قبضے کا خواب دیکھنے والی مودی حکومت کو مقبوضہ کشمیر سے بھی ہاتھ دھونا پڑیں گے۔کشمیریوں پر بھارتی فوج کے مظالم ایک دن 10 مئی جیسے عبرت ناک انجام سے دوچار ہوں گے۔
کشمیریوں کی جدوجہد آزادی ایک دن رنگ لائے گی اور مقبوضہ کشمیر آزاد ہو کر پاکستان کا حصہ بنے گا۔ پاکستان اپنی شہ رگ کے حق سے کبھی دستبردار نہیں ہو سکتا۔ مودی سرکار کے وزیروں اور مشیروں کو اپنے داخلی انتشار پر توجہ دینی چاہیے۔ پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی اور اشتعال انگیزی خود بھارت کے لیے نقصان دہ ہوگی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: بھارتی وزیر دفاع پاکستان کے خلاف پاکستان کی مودی حکومت بھارت کے کے وزیر کا حصہ کے لیے
پڑھیں:
سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔
’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
مزید :