Express News:
2026-06-02@23:20:42 GMT

بھارتی وزیر دفاع کی ہرزہ سرائی

اشاعت کی تاریخ: 2nd, December 2025 GMT

بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی سے لے کر بھارتی حکومت کے وزیروں اور مشیروں کے درمیان پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی کا ایک مقابلہ لگا رہتا ہے۔ سب ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کے لیے پاکستان کے خلاف بڑھکیں مارتے رہتے ہیں۔

بھارت کے خلاف حالیہ جنگ میں پاکستان کی شاندار فتح نے مودی حکومت کو عالمی سطح پر جس بدنامی اور رسوائی سے دوچارکیا ہے اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ مختلف عالمی فورمز پر پاکستان کی فتح، 7 بھارتی طیارے گرانے اور فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیرکی پیشہ وارانہ فوجی و جنگی مہارت کو خراج تحسین پیش کرتے رہتے ہیں۔ اس نے مودی حکومت کو مزید خجالت و شرمندگی سے دوچار کر رکھا ہے۔

ان کے پاس اپنی ناکامی، شکست اور رسوائیوں پر پردہ ڈالنے کے لیے منطق و دلیل سے بات کرنے کے لیے کچھ بچا ہی نہیں۔ مودی حکومت کے پاس اب دو ہی راستے رہ گئے ہیں، اول وہ ہر مقابلے سے راہ فرار اختیار کریں یا پھر شکست کا ذائقہ چکھنے کے لیے تیار رہیں۔ جیساکہ آکسفورڈ یونیورسٹی میں پاکستانی و بھارتی طلبا کے درمیان ہونے والے مقابلے میں پاکستان کے ذہین و ہونہار طلبا نے زمینی حقائق اور مضبوط دلائل سے بھارتی طلبا سے مقابلہ جیت کر ثابت کر دیا کہ پاکستان ہر مقابلے میں بھارت کو شکست دینے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔

اس مقابلے میں بھارت کے سیاسی پینل نے ’’ ٹاکرہ‘‘ کرنے راہ فرار اختیار کر کے اپنی شکست تسلیم کر لی۔ بھارت کی مودی حکومت کے پاس اپنی خفت مٹانے کا دوسرا راستہ یہ رہ گیا ہے کہ وہ پاکستان کے خلاف بے بنیاد الزامات لگائیں، جھوٹے پروپیگنڈے کریں اور بے سرو پا بیانات دے کر اپنی جھوٹی انا کی تسکین کریں۔ جیساکہ بھارت کے وزیر دفاع راج ناتھ نے اپنے ایک حالیہ اشتعال انگیز بیان میں کہا تھا کہ’’ آج شاید سندھ کی سرزمین انڈیا کا حصہ نہیں، لیکن تہذیبی طور پر سندھ ہمیشہ انڈیا کا حصہ رہے گا اور جہاں تک زمین کی بات ہے تو سرحدیں بدل بھی سکتی ہیں۔ کیا پتا کل پھر سندھ انڈیا میں واپس آ جائے۔‘‘

بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ کے اس بیان پر پاکستان میں سیاسی، سفارتی اور عوامی سطح پر سخت ردعمل ظاہرکیا جا رہا ہے۔ پاکستان کی قومی اور سندھ اسمبلی میں بھارتی وزیر دفاع کے متذکرہ اشتعال انگیز بیان کے خلاف جمعرات کو مذمتی قراردادیں منظور کی گئی ہیں۔ قراردادوں میں کہا گیا ہے کہ ’’ صوبہ سندھ پاکستان کا حصہ ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ بھارتی وزیر دفاع کا بیان پاکستان کی خود مختاری پر حملہ ہے۔‘‘ سندھ اسمبلی میں منظور کی گئی قرارداد کے حوالے سے اراکین نے حکومت پاکستان پر زور دیا ہے کہ وہ اس قرارداد کو دنیا بھر میں بھیجے اور بتایا جائے کہ بھارت سندھو دریا پر قبضہ کرنا چاہتا ہے۔

پاکستان میں ہندو کونسل کے سرپرست اعلیٰ اور ممبر قومی اسمبلی ڈاکٹر رمیش کمار وانکوانی کی ہدایت پر ملک بھر کی محب وطن ہندو کمیونٹی نے بھارتی وزیر دفاع کو اپنا بیان واپس لینے کے لیے تین دن کا الٹی میٹم دیا ہے۔

بصورت دیگر بھارتی ہائی کمیشن کے سامنے دھرنا دیا جائے گا۔ پاکستان ہندو کونسل کے صدر پرشوتم رمانی کی قیادت میں کراچی پریس کلب پر احتجاجی مظاہرہ بھی کیا گیا جس میں سول سوسائٹی، طلبا اور میڈیا سمیت مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کرکے ثابت کیا کہ بھارت کے خلاف نہ صرف پاک فوج اور حکومت بلکہ پاکستان کے محب وطن عوام بھی کندھے سے کندھا ملا کر متحد و منظم کھڑے ہیں اور بھارت کے ہر منفی ہتھکنڈے کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔ جیساکہ فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر نے دو ٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ ملکی سیکیورٹی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا، ہماری سب سے بڑی طاقت قومی یکجہتی ہے اور ہم سب مل کر دشمن کے ناپاک عزائم کو ناکام بنائیں گے۔

 بھارت کی مودی سرکار کو یاد رکھنا چاہیے کہ اگر اس نے پاکستان کے خلاف کوئی بھی اشتعال انگیزی کی کوشش کی، تو اسے منہ توڑ اور 10 مئی 2025 سے زیادہ مہلک اور خوفناک جواب کا سامنا کرنا پڑے گا۔ آزاد کشمیر اور سندھ پر قبضے کا خواب دیکھنے والی مودی حکومت کو مقبوضہ کشمیر سے بھی ہاتھ دھونا پڑیں گے۔کشمیریوں پر بھارتی فوج کے مظالم ایک دن 10 مئی جیسے عبرت ناک انجام سے دوچار ہوں گے۔

کشمیریوں کی جدوجہد آزادی ایک دن رنگ لائے گی اور مقبوضہ کشمیر آزاد ہو کر پاکستان کا حصہ بنے گا۔ پاکستان اپنی شہ رگ کے حق سے کبھی دستبردار نہیں ہو سکتا۔ مودی سرکار کے وزیروں اور مشیروں کو اپنے داخلی انتشار پر توجہ دینی چاہیے۔ پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی اور اشتعال انگیزی خود بھارت کے لیے نقصان دہ ہوگی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: بھارتی وزیر دفاع پاکستان کے خلاف پاکستان کی مودی حکومت بھارت کے کے وزیر کا حصہ کے لیے

پڑھیں:

جانتی ہوں، عثمان ہادی کو کس نے قتل کروایا؟، ممتا بنر جی کے مودی سرکار سے متعلق سنسی خیز انکشافات

بھارتی ریاست مغربی بنگال کی سابق وزیراعلیٰ اور ترنمول کانگریس کی سربراہ ‘ممتا بنرجی’ نے بنگلہ دیش کی انقلابی تحریک کے مرکزی رہنما عثمان ہادی کے قتل کے حوالے سے انتہائی چونکا دینے والے انکشافات کیے ہیں۔

منگل کو ممتا بنر جی نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ اس ہائی پروفائل قتل میں ملوث اصل چہروں سے واقف ہیں، تاہم قومی اور سفارتی اثرات کے باعث وہ فی الحال نام ظاہر نہیں کر رہیں۔

بی جے پی حکومت پر سنگین الزامات

منگل کو وسطی کولکتہ میں ایک بڑے احتجاجی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ممتا بنرجی نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی وفاقی حکومت پر پہلی بار کھل کر الزامات کی بوچھاڑ کی۔ انہوں نے کہا کہ مرکز کی مودی حکومت عثمان ہادی کے قتل کیس سے متعلق انتہائی حساس معلومات اور شواہد کو عوام سے چھپا رہی ہے۔

میگھالیہ سرحد سے داخلہ اور اسپیشل ٹاسک فورس کی کارروائی

سابق وزیراعلیٰ نے سنسنی خیز تفصیلات بتاتے ہوئے مزید دعویٰ کیا کہ بنگلہ دیش کی تنظیم ’انقلاب منچ‘ کے مرکزی کردار عثمان ہادی کے قتل میں ملوث ملزمان بھارتی ریاست میگھالیہ کی سرحد کے راستے مغربی بنگال میں داخل ہوئے تھے۔ ان کی آمد کی اطلاع ملتے ہی مغربی بنگال کی ’اسپیشل ٹاسک فورس‘ (ایس ٹی ایف) نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ملزمان کو گرفتار کر لیا تھا۔

امیت شاہ کا فون اور خاموش رہنے کی درخواست

ممتا بنرجی نے یہ بھی انکشاف کیا کہ ملزمان کی گرفتاری کے فوراً بعد انہیں بھارتی وزیر داخلہ ’امیت شاہ‘ کا فون موصول ہوا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:عثمان ہادی قتل کیس کے مرکزی ملزمان کا عدالت میں الزامات سے انکار

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ’امیت شاہ‘  نے مجھ سے درخواست کی کہ اس کیس کی تفصیلات اور ملزمان کی شناخت کو عوام کے سامنے نہ لایا جائے کیونکہ یہ معاملہ براہِ راست ’قومی مفاد‘ سے جڑا ہوا ہے‘۔

ممتا بنرجی کا کہنا تھا کہ وہ طویل عرصے سے ملک اور خطے کے مفاد میں خاموش تھیں، لیکن وفاقی حکومت کی جانب سے حالیہ دنوں میں مبینہ سیاسی دباؤ اور انتقامی کارروائیوں کے بعد اب وہ سچ بولنے پر مجبور ہو گئی ہیں۔

دوسری جانب نئی دہلی میں وفاقی حکومت کی طرف سے ممتا بنرجی کے ان سنگین الزامات پر فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

مجھے سب کچھ معلوم ہے

اپنے خطاب کے دوران ممتا بنرجی نے سوال اٹھایا کہ عثمان ہادی کے قتل کا حتمی حکم کس نے دیا تھا؟ انہوں نے واضح اشارہ دیا کہ وہ سازش کاروں کے ناموں سے اچھی طرح واقف ہیں۔

نام نہ بتانے کی وجہ بتاتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’میں جانتی ہوں کہ قتل کس نے کروایا اور کن لوگوں کے نام سامنے آئے تھے۔ حکومتیں بدل سکتی ہیں، لیکن مجھے سب کچھ معلوم ہے۔ اگر میں نے ابھی نام ظاہر کر دیے تو بنگلہ دیش میں شدید سیاسی اثرات اور بھونچال آ سکتا ہے‘۔

مزید پڑھیں:عثمان ہادی قتل کیس: مرکزی ملزم فیصل کے معاون کو بھارت میں گرفتار کر لیا گیا

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مغربی بنگال میں حالیہ اسمبلی انتخابات کے بعد پیدا ہونے والی شدید سیاسی کشیدگی کے دوران ممتا بنرجی کے اس بیان نے نہ صرف بھارتی سیاست کو گرما دیا ہے، بلکہ بھارت اور بنگلہ دیش کے مابین حساس سفارتی تعلقات پر بھی سوالیہ نشانات کھڑے کر دیے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

الزامات امیت شاہ بنگلہ دیش ترنمول کانگریس سنگین سیاسی عثمان ہادی۔ مغربی بنگال ممتا بنر جی مودی سرکار

متعلقہ مضامین

  • محسن نقوی سے فیصل کریم کنڈی کی ملاقات، سکیورٹی چیلنجز سے آگاہ کیا
  • فلاحی ریاست کا درس دینے والے غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں؟ سعدیہ جاوید
  • جانتی ہوں، عثمان ہادی کو کس نے قتل کروایا؟، ممتا بنر جی کے مودی سرکار سے متعلق سنسی خیز انکشافات
  • صدر مملکت ، وزیر اعظم وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ سندھ  کا بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز پر سیکورٹی فورسز کی ستائش 
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی