data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

حیدرآباد/ بدین(اسٹاف رپورٹر) 16 ڈیز آف ایکٹیویزم کے حوالے سے صوبائی وزیر برائے ترقی و نسواں شاہینہ شیر علی کی ہدایت پر خواتین کے حقوق اور تحفظ کے لیے انچارج وومین کمپلین سیل سیدہ قرت العین شاھ کی جانب سے خصوصی پروگرام کا انعقاد کیا گیا۔اس موقع پر وومن کمپلینٹ سیل اور سیف ہاؤس کی انچارج سیدہ قراۃ شاہ نے کہا کہ صوبائی وزیر شاہینہ شیر علی کی سربراہی میں خواتین کو دستیاب سہولیات، قانونی مدد اور تحفظ کے طریقہ کار سے آگاہ کرنے کے لیے خصوصی اقدامات کیے جارہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ منعقدہ پروگرام کا مقصد خواتین اور بچیوں کو بااختیار بنانا، ان میں شعور اجاگر کرنا اور تشدد کے خلاف آواز اٹھانے کی حوصلہ افزائی کرنا تھا اور یہ سرگرمی ”ڈیجیٹل وائلنس” کے عنوان سے پیش کی گئی، جس میں سول سوسائٹی، میڈیا پرسنز، سرکاری افسران نے شرکت کی ۔اس موقع پر ریجنل ہیڈ اسٹرینگتھیننگ پارٹیسیپیٹری آرگنائزیشن کے ریجنل ہیڈ امجد بلوچ نے کہا کہ 16 ڈیز آف ایکٹیویزم کے دوران غیر سرکاری تنظیم SPO اپنے مختلف پروجیکٹس کے ذریعے کمیونٹی میں آگاہی اور تعلیم کو فروغ دے رہی ہے اور اس مہم کا مقصد بچوں، نوجوانوں اور خواتین کو اُن کے حقوق، تحفظ اور تشدد سے بچاؤ کے بارے میں بااختیار بنانا ہے.

انہوں نے بتایا کہ ان کی تنظیم شعور بیدار کرنے والی سرگرمیوں، تربیتی سیشنز اور تعلیمی پروگراموں کے ذریعے یہ پیغام عام کرتی ہے کہ تعلیم ہی وہ چابی ہے جس سے ظلم اور ناانصافی کے دروازے بند ہوتے ہیں16 ڈیز ایکٹوزم کے سلسلے میں سیف ہاؤس جامشورو کے تعاون اس اہم پروگرام کا انعقاد کیا گیا. اس پروگرام کا مقصد ڈیجیٹل وائلنس کے خاتمے، خواتین کے حقوق کے فروغ، اور ان کے تحفظ کے بارے میں آگاہی پیدا کرنا تھااسٹینڈنگ کمیٹی چیئرپرسن فار وومن ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ فرح سھیل نے کہا کہ 16 ڈیز آف ایکٹیویزم خواتین اور بچیوں کے خلاف ہر طرح کے تشدد کے خاتمے کا عالمی عہد ہے اور یہ ایام ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ ظلم چاہے گھر میں ہو یا معاشرے میں اس کیخلاف آواز اٹھانا ضروری ہے۔آئیں ہم سب مل کر ایک ایسے ماحول کے لیے کام کریں جہاں ہر فرد محفوظ، باوقار اور بااختیار ہو۰ ایس پی او کی وکیل کلپنا دیوی نے کہا کہ16 ڈیز آف ایکٹیویزم کے موقع پر خواتین کے تحفظ سے متعلق قوانین کے مؤثر نفاذ پر خاص توجہ دی جاتی ہے، حکومت گھریلو تشدد، ہراسانی اور صنفی بنیاد پر تشدد کے خلاف سخت قوانین رکھتی ہے، اور ان پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لیے پولیس، سماجی اداروں اور سپورٹ سروسز کو مضبوط کیا جاتا ہے۰پروگرام میں شرکاء نے بھی اپنا اظہارِ خیال کرتے ہوئے قانون سازی، کمیونٹی کردار اور ادارہ جاتی تعاون کی اہمیت کو اجاگر کیا۔

اسٹاف رپورٹر گلزار

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: پروگرام کا خواتین کے نے کہا کہ کے لیے

پڑھیں:

میں بالکل ٹھیک اور صحت مند ہوں؛گلوکارہ طاہرہ سید کی سوشل میڈیا افواہوں کی تردید

گلوکارہ طاہرہ سید نے اپنے حوالے سے سوشل میڈیا پر چلنے والی خبروں پر تردیدی بیان جاری کر دیا۔گلوکارہ کاکہناتھا کہ میں بالکل ٹھیک ٹھاک اور صحت مند ہوں ۔ تفصیلات کے مطابق گلوکارہ طاہرہ سید کے انتقال کے حوالے سے خبر جھوٹی اور افواہ ہے جو سوشل میڈیا پر پھیلائی جا رہی تھی۔ طاہرہ سید کاکہنا ہے کہ وہ امریکا میں بالکل خیریت سے ہیں اور صحت مند ہیں۔ انہوں نے خود ویڈیو بیان میں ان افواہوں کو فیک نیوز قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ "میری صحت کے بارے میں افواہ پھیلائی گئی ہے، میں بالکل صحت مند ہوں"۔ یادرہے کہ طاہرہ سید (ولادت 1958ء لاہور) پاکستان کی مشہور غزل اور لوک گلوکارہ ہیں، جن کی آواز آج بھی مقبول ہے،وہ ملکہ پکھراج کی بیٹی ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • اسکردو: معرکہ حق دوسری سرفرنگا نیشنل میراتھن 2026 کا کامیاب انعقاد
  • چوہدری شوکت منظور چیمہ کی چھٹی برسی، سعودی عرب میں یادگاری تقریب کا انعقاد
  • بلوچستان میں بیرونی فنڈنگ، بھارت کے مبینہ کردار اور انسانی حقوق کی رپورٹس پر سنگین سوالات
  • جمال رئیسانی کا بی وائی سی اور کالعدم بی ایل اے کے مبینہ روابط کا دعویٰ، خواتین کے استعمال کو بلوچ روایات کے خلاف قرار دے دیا
  • ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
  • جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن مقرر
  • گلگت بلتستان کو بھی آئینی وبنیادی حقوق ملنے چاہئیں ، سعد رفیق
  • جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے کی کوشش ناکام، 2 خواتین آف لوڈ، ایجنٹس گرفتار
  • علامہ ساجد علی نقوی سے علامہ جواد نقوی کی ملاقات، شہید امت کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی
  • میں بالکل ٹھیک اور صحت مند ہوں؛گلوکارہ طاہرہ سید کی سوشل میڈیا افواہوں کی تردید