لاہور: ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر پولیس سمیت سینکڑوں سرکاری گاڑیوں کے خلاف کارروائی
اشاعت کی تاریخ: 1st, December 2025 GMT
چیف ٹریفک آفیسر (سی ٹی او) لاہور ڈاکٹر اطہر وحید کی ہدایت پر ٹریفک پولیس کا شہر میں بڑا ایکشن جاری ہے جس میں ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر پولیس اہلکاروں کو بھی کوئی رعایت نہیں دی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور ٹریفک پولیس نے ایک دن میں 11 بچوں کو پیشہ ور بھکاریوں کے چنگل سے بچالیا
سی ٹی او لاہور کے مطابق گزشتہ 72 گھنٹوں کے دوران کارروائی کرتے ہوئے 149 پولیس افسران اور اہلکاروں کی گاڑیاں اور موٹر سائیکلیں ای چالان ڈیفالٹر ہونے پر بند کی گئیں۔
مزید برآں ٹریفک قوانین کی مختلف خلاف ورزیوں پر پولیس کی 80 موٹر بائیکس اور گاڑیوں کو موقع پر ہی چالان کیا گیا اور ان کے خلاف کارروائی عمل میں لائی گئی۔
ڈاکٹر اطہر وحید کے مطابق تمام گاڑیوں کو جرمانے کی ادائیگی کے بعد چھوڑا گیا۔
سی ٹی او لاہور نے واضح کیا کہ قانون سب کے لیے ایک ہے، اور اگر پولیس ملازمین بھی ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کریں گے تو انہیں کسی قسم کی رعایت نہیں دی جائے گی۔
مزید پڑھیے: لاہور میں میٹرو بس حادثے کا شکار، سروس معطل کردی گئی
انہوں نے بتایا کہ آئی جی پنجاب کی واضح ہدایات ہیں کہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر کارروائی کا آغاز سب سے پہلے پولیس سے کیا جائے۔
ترجمان کے مطابق، ٹریفک پولیس نے 55 سے زائد سرکاری محکموں کی تقریباً 600 سرکاری گاڑیوں کے خلاف بھی کارروائی کی، جن کے ای چالان جمع کروانے کے بعد انہیں چھوڑا گیا۔
مزید پڑھیں: پنجاب میں ٹریفک اصلاحات کا اعلان، لاہور میں چنگ چی رکشوں پر پابندی
سی ٹی او لاہور نے کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کے حکم پر شہر بھر میں ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیوں کے خلاف بلا تفریق کارروائی جاری ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
سرکاری گاڑیوں کے خلاف کارروائی لاہور لاہور ٹریفک پولیس لاہور چالان.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: سرکاری گاڑیوں کے خلاف کارروائی لاہور لاہور ٹریفک پولیس لاہور چالان ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ٹریفک پولیس سی ٹی او کے خلاف
پڑھیں:
مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔