پنجاب کے عوام نے ضمنی الیکشن کو مسترد کیا، زین قریشی
اشاعت کی تاریخ: 25th, November 2025 GMT
فائل فوٹو
پاکستان تحریک انصاف کے رہنما زین قریشی نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کسی حلقے سے نہیں ہاری، جس طرح سے الیکشن ہوتے ہیں وہ سب بہتر جانتے ہیں۔
لاہور میں اے ٹی سی کے باہر میڈیا سے گفتگو میں زین قریشی نے کہا کہ ضمنی الیکشن میں پی ٹی آئی کے کارکنوں نے بائیکاٹ کیا۔
انہوں نے کہا کہ ضمنی الیکشن میں دس فیصد سے ٹرن آؤٹ کم رہا، پنجاب کے عوام نے ضمنی الیکشن کو مسترد کیا ہے۔
لاہور ضمنی انتخابات میں ن لیگ کی واضح برتری، قومی.
کیس پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پراسکیوشن نے آج بھی ریکارڈ پیش نہیں کیا، گزشتہ سماعت پر جج صاحب نے کہا تھا کہ پراسکیوشن نے ریکارڈ پیش نہ کیا تو کیس کا فیصلہ کردیا جائے گا۔
زین قریشی نے کہا کہ ضمانت ملزم کا قانونی حق ہے، آج ایک اچھی امید کے ساتھ آیا تھا مگر تاریخ مل گئی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: ضمنی الیکشن
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔