ٹریفک پولیس لاہور نے سی ٹی او لاہور کے حکم پر شہر بھر میں ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیوں پر کریک ڈاؤن شروع کر دیا ہے۔ 3 روزہ کارروائی کے دوران تقریباً 1800 مقدمات درج کیے گئے اور متعدد گرفتاریاں عمل میں لائی گئیں۔

سی ٹی او لاہور کے مطابق، ون وے کی خلاف ورزی پر 1370 ایف آئی آرز درج کی گئیں جبکہ ڈرائیونگ لائسنس کے بغیر گاڑی چلانے والے 174 ڈرائیورز کے خلاف مقدمات بنائے گئے۔ علاوہ ازیں، کم عمری کی ڈرائیونگ کے لیے بچوں کو گاڑی یا موٹر بائیک دینے والے 30 معاونین پر بھی ایف آئی آرز درج کی گئیں۔

یہ بھی پڑھیے: کراچی: ڈی آئی جی ٹریفک قانون کی خلاف ورزی پر ای چالان کی زد میں آگئے

سرکاری گاڑیوں پر بھی رعایت نہیں دی گئی۔ ٹریفک پولیس نے 72 گھنٹوں کے دوران 55 سے زائد سرکاری محکموں کی تقریباً 600 گاڑیوں کے ای چالان جمع کرائے اور متعلقہ تھانوں میں گاڑیاں روکی گئیں۔

سی ٹی او لاہور نے بتایا کہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیوں پر کسی کو بھی رعایت نہیں دی جائے گی اور آئندہ دنوں میں کارروائیاں مزید تیز کی جائیں گی۔ شہریوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ ٹریفک قوانین پر سنجیدگی سے عمل کریں۔

ٹریفک پولیس لاہور شہریوں کو آگاہی بھی فراہم کر رہی ہے اور وزیر اعلیٰ پنجاب کے وژن کے مطابق حادثات سے بچاؤ اور حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے ہر لمحہ کوشاں ہے، ڈاکٹر اطہر وحید نے بتایا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

ای چالان ٹریفک سرکاری گاڑی.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ای چالان ٹریفک سرکاری گاڑی ٹریفک پولیس کی خلاف

پڑھیں:

لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق

لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں مبینہ زیادتی کا شکار ہونے والی 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جان کی بازی ہار گئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق لاہور کے علاقہ ماڈل ٹاؤن کے ایک گھر میں ملازمہ کے طور پر کام کرنے والی 18 سالہ لڑکی مبینہ طور پر گینگ ریپ اور بعد ازاں غیر قانونی طبی طریقہ کار کے باعث زندگی کی بازی ہار گئی ہے، متوفیہ نے ہسپتال میں دم توڑنے سے قبل اپنے بیانات ریکارڈ کرادیئے۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ لڑکی کا حمل ضائع کرنے کے لیے اسے پہلے رائے ونڈ کے ایک نجی کلینک لے جایا گیا، جہاں حالت بگڑنے پر اسے سروسز ہسپتال منتقل کیا گیا، وہ دو روز تک سروسز ہسپتال میں زیرِ علاج رہنے کے بعد دم توڑ گئی، متاثرہ لڑکی نے اپنے تحریری اور ویڈیو بیانات میں مکان مالک کے بیٹے اور ڈرائیور پر اجتماعی زیادتی کا سنگین الزام عائد کیا تھا، بعد میں مبینہ دباؤ کے تحت لڑکی نے اپنے بیان میں تبدیلی کی اور اپنے آخری بیان میں صرف ڈرائیور کو ہی نامزد کیا۔

(جاری ہے)

پولیس نے بتایا کہ لڑکی کے ابتدائی بیانات کی روشنی میں گینگ ریپ کا مقدمہ درج کیا گیا تھا، تاہم اس کی موت کے بعد مقدمے میں باقاعدہ طور پر قتل کی دفعات بھی شامل کر دی گئی ہیں، ایک نامزد ملزم ڈرائیور کو گرفتار کرکے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا ہے، قتل کی دفعات شامل ہونے کے بعد کیس کی تفتیش جینڈر سیل سے تبدیل کرکے انویسٹی گیشن ونگ کے سپرد کر دی گئی ہے، پولیس نے گھر کے مالکان سمیت ان تمام افراد کو دوبارہ شاملِ تفتیش کرنے کے لیے نوٹسز جاری کر دیئے ہیں جنہیں پہلے کلیئر کر دیا گیا تھا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت ریکارڈ کیے گئے بیانات کا دوبارہ باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا، متوفیہ کا پوسٹ مارٹم مکمل کر لیا گیا ہے اور موت کی اصل وجہ رپورٹ آنے کے بعد واضح ہوگی، اگر رائے ونڈ کے نجی کلینک کی جانب سے غفلت یا غیر قانونی طریقہ کار کے شواہد ملے تو اس کے خلاف بھی سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔

متعلقہ مضامین

  • شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
  • کراچی میں شہریوں کی رہنمائی کیلیے روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ قائم کرنے کرنا کا فیصلہ
  • بابوسر ٹاپ 8 جون تک ہر قسم کی ٹریفک کیلئے بند
  • ڈرائیونگ لائسنس سے متعلق بڑا فیصلہ، اہم شرط بھی ختم
  •  یکم جون سے فیس لیس چالان سسٹم کا آغاز،پہلے دن کتنے چالان جاری ہوئے؟ تفصیلات سامنے آگئی
  • طوفانی ہوائیں: موٹروے کے کئی مقامات پر ہیوی ٹریفک کا داخلہ بند
  • رکشہ ڈرائیور نے چالان ہونے پر رکشے کو آگ لگا دی
  • کراچی: شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی پر پہلے روز کتنے چالان ہوئے؟
  • لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق
  • لاہور میں وین ڈرائیور سے بدتمیزی ٹریفک وارڈن کو مہنگی پڑ گئی