اسرائیلی افواج فلسطینی علاقوں سے نکل جائے، اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں قرارداد بھاری اکثریت سے منظور
اشاعت کی تاریخ: 3rd, December 2025 GMT
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے منگل کو ایک قرارداد منظور کی ہے جس میں مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اسرائیلی افواج کے انخلا کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
قرارداد ’’فلسطین کے سوال کے پرامن حل‘‘ کے عنوان سے پیش کی گئی، جس کے حق میں 151 ممالک نے ووٹ دیا، 11 نے مخالفت کی اور 11 نے ووٹنگ سے اجتناب کیا۔
قرارداد میں مشرقِ وسطیٰ امن عمل کے تمام اہم معاملات پر قابلِ اعتماد مذاکرات فوری طور پر شروع کرنے اور ماسکو میں ایک بین الاقوامی امن کانفرنس بلانے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔
جنرل اسمبلی نے اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی قوانین کی مکمل پاسداری کرے، غیر قانونی قبضہ ختم کرے، نئی آبادکاری روکے اور مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے تمام یہودی آبادکاروں کو نکالے۔
✅ Adopted#UNGA resolution on the Peaceful settlement of the question of #Palestine
Read the full text here ???? https://t.
The resolution was adopted by recorded vote: 151 in favour-11 against-11 abstentions ⤵️ pic.twitter.com/TgHGtqC2YT — UN Media Liaison (MALU) (@UNMediaLiaison) December 2, 2025
قرارداد میں کہا گیا کہ غزہ میں کسی بھی قسم کی آبادیاتی یا جغرافیائی تبدیلی کو مسترد کیا جاتا ہے، اور غزہ اور مغربی کنارے کو فلسطینی اتھارٹی کے تحت متحد کیا جانا چاہیے۔
مزید کہا گیا کہ اسرائیل کو 1967 سے قبضے میں لیے گئے تمام فلسطینی علاقوں سے انخلا کرنا ہوگا تاکہ فلسطینی عوام اپنے بنیادی حق—حقِ خود ارادیت—کا استعمال کر سکیں۔
پاکستان کے مستقل مندوب برائے اقوام متحدہ اسامہ افتخار احمد نے بحث کے دوران کہا کہ دنیا کو اپنے وعدوں کو عمل میں تبدیل کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان فلسطینی عوام کی جدوجہدِ آزادی، خود مختاری، امن اور انصاف کے مطالبے کی مکمل حمایت کرتا ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ غزہ میں سیزفائر کا مکمل نفاذ، اسرائیلی فوج کا انخلا، انسانی امداد کی بلا تعطل فراہمی اور غزہ کی فوری تعمیرِ نو ناگزیر ہیں۔
Statement by Ambassador Asim Iftikhar Ahmad
Permanent Representative of Pakistan to the UN
At the General Assembly Debate on the Question of Palestine and Adoption of the Resolution on the “Peaceful Settlement of the Question of Palestine”
(2nd December 2025)
******
Madam… pic.twitter.com/FWFnGbSswe
پاکستانی مندوب نے کہا کہ مقبوضہ علاقوں کی کوئی جبری تبدیلی، تقسیم، الحاق یا جبری بے دخلی قابلِ قبول نہیں۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ صرف ایک سیاسی راستہ ہی پائیدار امن لا سکتا ہے — یعنی 1967 کی سرحدوں پر ایک خودمختار، مکمل، آزاد اور جغرافیائی طور پر متصل فلسطینی ریاست کا قیام جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم (القدس الشریف) ہو۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: فلسطینی علاقوں سے
پڑھیں:
ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔
میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔
ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔
تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔
اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔
ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔
اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔
گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔
آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔
مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔