data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

فیفا عرب کپ 2025 کے افتتاحی دن نے دکھ کے سائے میں جینے والے لاکھوں فلسطینیوں کو برسوں بعد خوشی کا حقیقی لمحہ فراہم کردیا۔

خبر رساں اداروں کے مطابق قطر کے الحبیب اسٹیڈیم میں کھیلا جانے والا یہ مقابلہ صرف ایک میچ نہیں تھا بلکہ یہ امید کی تازہ لہر تھی جو پوری دنیا میں بکھرے فلسطینیوں کے دلوں میں دوڑ گئی۔ اسٹیڈیم تماشائیوں سے بھرا ہوا تھا، ہر طرف شور، نعروں اور جوش میں ڈوبا ہوا ماحول تھا، لیکن اس ہجوم میں سب سے بلند جذبہ فلسطینی کھلاڑیوں کا تھا جو اپنی قوم کے لیے فتح کا خواب لیے میدان میں اُترے تھے۔

میچ کے آغاز سے ہی دونوں ٹیموں نے ایک دوسرے کو سخت آزمائش میں ڈالا۔ قطر کے فارورڈز نے چند خطرناک حملے کیے، لیکن فلسطینی گول کیپر اور دفاعی کھلاڑی ہر حملے کے سامنے دیوار بن کر کھڑے رہے۔

دوسری جانب فلسطینی ٹیم نے بھی اپنے مواقع بنائے مگر کبھی نشانہ خطا ہوگیا، کبھی گیند پوسٹ سے ٹکرا کر نکل گئی اور کبھی قطر کے گول کیپر نے شاندار سیو کرتے ہوئے اسٹیڈیم کو تالیوں سے بھر دیا۔ ہر لمحہ میچ کا رخ بدلنے کے قریب نظر آتا رہا ۔

دوسرے ہاف میں دباؤ مزید بڑھ گیا۔ دونوں ٹیمیں ایک دوسرے کے حصار کو توڑنے کی کوشش میں مسلسل دوڑتی رہیں۔ میچ کے حالات اس نہج پر پہنچ چکے تھے کہ کھلاڑیوں، کوچز اور ناظرین سب نے مان لیا کہ اب فیصلہ اضافی وقت اور پھر ممکنہ پینلٹی شوٹ آؤٹ پر ہوگا، لیکن فٹبال کی دنیا میں ایک لمحہ سب کچھ بدل دینے کے لیے کافی ہوتا ہے۔

اچانک پچانویں منٹ کا یادگار لمحہ فلسطینیوں کے لیے ایک تحفہ ثابت ہوا۔ فلسطینی فارورڈ نے بائیں جانب سے برق رفتاری سے حملہ کرتے ہوئے ایک خطرناک کراس ڈالا۔ گیند تیزی سے گول کی جانب بڑھ رہی تھی کہ قطر کے دفاعی کھلاڑی سلطان البرک بے بسی میں اسے روکنے کی کوشش میں اپنے ہی جال میں ڈال بیٹھے۔

اسٹیڈیم ایک لمحے کو ساکت ہوا، پھر چیخیں، تالیاں اور آنسو ہر سمت پھیل گئے۔ فلسطینی کھلاڑی ایک دوسرے سے لپٹ گئے، گھٹنوں کے بل گر کر اللہ کا شکر ادا کرنے لگے اور اسٹیڈیم میں بیٹھے فلسطینی شائقین کے چہرے برسوں بعد جگمگا اُٹھے۔

اس ایک گول نے دنیا بھر میں موجود فلسطینیوں کے دلوں کو خوش کردیا۔ اُدھر غزہ کی تباہ حال گلیوں میں بچے تالیاں بجاتے نظر آئے، مغربی کنارہ کی چھتوں پر نوجوان نعرے لگاتے رہے اور دنیا کے مختلف ملکوں میں پناہ گزین فلسطینی خاندان اس فتح کو اپنے آنسوؤں سے مناتے ہوئے دکھائی دیے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: فلسطینیوں کے قطر کے

پڑھیں:

سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں  میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔

نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔

کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔

ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔

سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔

ابراہام معاہدے کیا ہیں؟

ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔

ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • رائل کمیشن کی مکہ کے تاریخی ورثے کے تحفظ اور فروغ کے لیے اہم پیشرفت
  • سعودی ایپ ’ہُدہُد‘ عمرہ زائرین کے لیے جدید رہنما بن گئی، مکہ کے مذہبی و تاریخی مقامات تک رسائی آسان
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
  • فیفا نے ورلڈ کپ 2026 کی ٹیم آف دی ٹورنامنٹ کا اعلان کر دیا
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل