Jasarat News:
2026-07-24@04:35:24 GMT

دو ریاستی حل ہی تنازع کا واحد حل ہے: پوپ لیو

اشاعت کی تاریخ: 1st, December 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

عیسائیوں کے روحانی پیشوا پوپ لیو نے کہا ہے کہ آزاد فلسطینی ریاست اسرائیل فلسطین تنازع کا واحد حل ہے۔

عالمی میڈیا رپورٹ کے مطابق ترکیے سے لبنان روانگی پر اتوار کے روز طیارے میں گفتگو کرتے ہوئے پوپ لیو نے کہا کہ رومن کیتھولک چرچ کی اعلیٰ قیادت کئی سال سے دو ریاستی حل کی حامی رہی ہے۔

عیسائیوں کے روحانی پیشوا نے کہا ہم سب جانتے ہیں اسرائیل دو ریاستی حل کو قبول نہیں کرتا، لیکن ہم دو ریاستی حل ہی کو اسرائیل فلسطین تنازع کا واحد حل سمجھتے ہیں۔

پوپ لیو نے مزید کہا کہ رومن کیتھولک چرچ کی اعلیٰ مرکزی قیادت ہولی سی نے 2015 ہی میں فلسطین کو ریاست تسلیم کر لیا تھا۔ رپورٹ کے مطابق پوپ نے ویٹِیکن کے مؤقف کی توثیق کی ہے کہ اسرائیل اور فلسطینی عوام کے درمیان دہائیوں سے جاری تنازع کا واحد حل ایک فلسطینی ریاست کا قیام ہی ہے۔

پہلے امریکی نژاد پوپ نے ترکی سے لبنان کے سفر کے دوران اپنی پہلی فضائی پریس کانفرنس میں اطالوی زبان میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ’’ہم اسرائیل کے بھی دوست ہیں اور ہم دونوں فریقوں کے درمیان ثالثی کی آواز بننے کی کوشش کر رہے ہیں، جو ممکن ہے کہ انھیں سب کے لیے انصاف پر مبنی حل کے قریب لانے میں مدد دے۔‘‘

اسرائیل کے سب سے بڑے اتحادی امریکا نے بھی فلسطینی آزادی کی حمایت کا اشارہ دیا ہے، تاہم اسرائیل کے وزیر اعظم نیتن یاہو تاحال فلسطینی ریاست کے قیام کے خلاف بیانات جاری کر رہے ہیں۔

پوپ نے کہا کہ انھوں نے اور ترک صدر طیب اردوان نے اسرائیل-فلسطین اور یوکرین-روس دونوں تنازعات پر گفتگو کی۔ پوپ لیو کے مطابق ترکی کا ان دونوں جنگوں کے خاتمے میں اہم کردار ہے۔

مرزا ندیم بیگ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: تنازع کا واحد حل دو ریاستی حل پوپ لیو نے کہا

پڑھیں:

سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں  میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔

نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔

کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔

ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔

سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔

ابراہام معاہدے کیا ہیں؟

ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔

ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم