دو ریاستی حل ہی تنازع کا واحد حل ہے: پوپ لیو
اشاعت کی تاریخ: 1st, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
عیسائیوں کے روحانی پیشوا پوپ لیو نے کہا ہے کہ آزاد فلسطینی ریاست اسرائیل فلسطین تنازع کا واحد حل ہے۔
عالمی میڈیا رپورٹ کے مطابق ترکیے سے لبنان روانگی پر اتوار کے روز طیارے میں گفتگو کرتے ہوئے پوپ لیو نے کہا کہ رومن کیتھولک چرچ کی اعلیٰ قیادت کئی سال سے دو ریاستی حل کی حامی رہی ہے۔
عیسائیوں کے روحانی پیشوا نے کہا ہم سب جانتے ہیں اسرائیل دو ریاستی حل کو قبول نہیں کرتا، لیکن ہم دو ریاستی حل ہی کو اسرائیل فلسطین تنازع کا واحد حل سمجھتے ہیں۔
پوپ لیو نے مزید کہا کہ رومن کیتھولک چرچ کی اعلیٰ مرکزی قیادت ہولی سی نے 2015 ہی میں فلسطین کو ریاست تسلیم کر لیا تھا۔ رپورٹ کے مطابق پوپ نے ویٹِیکن کے مؤقف کی توثیق کی ہے کہ اسرائیل اور فلسطینی عوام کے درمیان دہائیوں سے جاری تنازع کا واحد حل ایک فلسطینی ریاست کا قیام ہی ہے۔
پہلے امریکی نژاد پوپ نے ترکی سے لبنان کے سفر کے دوران اپنی پہلی فضائی پریس کانفرنس میں اطالوی زبان میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ’’ہم اسرائیل کے بھی دوست ہیں اور ہم دونوں فریقوں کے درمیان ثالثی کی آواز بننے کی کوشش کر رہے ہیں، جو ممکن ہے کہ انھیں سب کے لیے انصاف پر مبنی حل کے قریب لانے میں مدد دے۔‘‘
اسرائیل کے سب سے بڑے اتحادی امریکا نے بھی فلسطینی آزادی کی حمایت کا اشارہ دیا ہے، تاہم اسرائیل کے وزیر اعظم نیتن یاہو تاحال فلسطینی ریاست کے قیام کے خلاف بیانات جاری کر رہے ہیں۔
پوپ نے کہا کہ انھوں نے اور ترک صدر طیب اردوان نے اسرائیل-فلسطین اور یوکرین-روس دونوں تنازعات پر گفتگو کی۔ پوپ لیو کے مطابق ترکی کا ان دونوں جنگوں کے خاتمے میں اہم کردار ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: تنازع کا واحد حل دو ریاستی حل پوپ لیو نے کہا
پڑھیں:
امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
ایران کی ایئرڈیفنس کے جوائنٹ ہیڈکوارٹرز کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ بندی سے قبل جارحیت کے دوران فضائی جنگی صلاحیت اور آلات کو بڑا نقصان پہنچایا۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ کے دوران جدید ڈرونز سمیت جنگی آلات کی مد میں کروڑ ڈالر کا نقصان پہنچایا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو پہنچنے والے نقصانات سے انہیں ایران کے اندر اپنے اہداف کی نشان دہی اور نشانہ بنانے کی صلاحیت پر بدترین اثر پڑا اور اس کے نتیجے میں فضائی کارروائی کی صلاحیت محدود ہوگئی۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے منفرد اور مؤثر جواب کے لیے ڈسپرشن، الیکٹرونک ڈسپشن اور درست نشانہ پر حملوں جیسی ذہین حکمت عملیوں کا استعمال کیا گیا، دشمن کے فضائی حملوں کے اثرات کو نمایاں طور پر کم کر دیا اور اس کی ڈرون صلاحیتوں کو بھی کمزور کر دیا۔
کمانڈر نے کہا کہ ایرانی ایئرڈیفنس نے امریکا اور اسرائیل کے ایئرکرافٹ، ایم کیو-9 ریپر، ہرمیس 900، آربیٹر، لیوکاس اور ہیرمس 450 اور جنگی لڑاکا طیاروں کی فلیٹ کا مقابلہ کرنے کے لیے ریڈار ڈیٹا پروسیسنگ اور دیگر ٹیکنالوجی کا استعمال کیا، دشمن کو اپنے فائر پاور اور جدید ٹیکنالوجی پر انحصار تھا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ ایران کے جدید اور مربوط فضائی دفاعی نیٹ ورک نے حملہ آور دشمنوں کی فضائی قوت کو ایسا بھاری نقصان پہنچایا جو فضائی جنگوں کی تاریخ کے بدترین نقصانات میں شمار ہوتے ہیں۔