سپریم کورٹ لارجر بینچ کےفیصلےکیخلاف اپیل کون سنے گا؟ وفاقی آئینی عدالت کا اصول طےکرنےکافیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 25th, November 2025 GMT
سپریم کورٹ کے لارجر بینچ کے فیصلے کیخلاف وفاقی آئینی عدالت کا چھوٹا بینچ اپیل سن سکتا ہے یا نہیں؟ وفاقی آئینی عدالت نے اس سوال پر فریقین کے دلائل سن کر اصول طے کرنے کا فیصلہ کرلیا۔
آئینی عدالت میں پریکٹس اینڈ پروسیجر ترمیمی آرڈیننس کیخلاف اپیل پر سماعت ہوئی، جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بینچ نے بیرسٹر گوہر کی اپیل پر سماعت کی۔
وکیل سمیر کھوسہ نےمؤقف اپنایا کہ سپریم کورٹ کے سات رکنی بنچ نے ابتدائی فیصلہ دیا تھا،
سپریم کورٹ کے رولز آئینی عدالت نے اپنا لیے ہیں، رولز کے مطابق پانچ رکنی بنچ اپیل پر سماعت نہیں کر سکتا۔
جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ فیصلہ تبدیل کرنے کیلئے ہی سات رکنی سے بنچ زیادہ درکار ہوگا، وکیل سمیر کھوسہ نے کہا کہ آئینی عدالت کے جاری کردہ رولز کے نوٹیفکیشن میں ایسا کچھ نہیں لکھا۔
ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ آرٹیکل 189 کے تحت آئینی عدالت کا فیصلہ سپریم کورٹ پر لاگو ہوتا ہے، کیونکہ یہ عدالت الگ ہے اس لیے ججز کی تعداد کم یا زیادہ ہونے سے فرق نہیں پڑتا، آئینی عدالت نے خود طے کرنا ہے کہ کتنے ججز اپیل سنیں گے۔
وکیل سمیر کھوسہ نے کہا کہ موجودہ اپیل پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کے تحت دائر ہوئی ہے،
پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون کے فیصلہ دینے والے سے تحت لارجر بنچ ہی اپیل سن سکتا ہے۔
جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ نوٹس جاری کرنے کی حد تک تو کوئی مسئلہ نظر نہیں آ رہا، عدالت نے پریکٹس اینڈ پروسیجر ترمیمی آرڈیننس کیخلاف حکومت کو نوٹس جاری کر دیا۔
دوران سماعت چیئرمین پی ٹی آئی اور سیکرٹری جنرل پی ٹی آئی کے وکیل سمیر کھوسہ نے وفاقی آئینی عدالت پر اعتراض کیا اور مؤقف اپنایا کہ وفاقی آئینی عدالت کی خودمختاری پر سوالات ہیں، میری رائے میں وفاقی آئینی عدالت کی حیثیت پر سوالات ہیں۔
سمیر کھوسہ نے کہا کہ میں نے اپنی رائے سے متعلق اپنے موکلان کو آگاہ کردیا ہے، اب دیکھنا یہ ہے کہ میرے موکل مجھے وکیل رکھنا چاہتے ہیں یا نہیں۔
جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیے کہ اعتراض کرنا آپکا قانونی حق ہے۔
سپریم کورٹ کے لارجر بنچ کے فیصلے کیخلاف وفاقی آئینی عدالت کا چھوٹا بینچ اپیل سن سکتا ہے یا نہیں؟ وفاقی آئینی عدالت نے اس سوال پر فریقین کے دلائل سن کر اصول طے کرنے کا فیصلہ کرلیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پریکٹس اینڈ پروسیجر وفاقی آئینی عدالت جسٹس عامر فاروق وکیل سمیر کھوسہ آئینی عدالت نے سمیر کھوسہ نے سپریم کورٹ کے نے کہا کہ عدالت کا اپیل سن اپیل پر
پڑھیں:
کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ اسلام ٹائمز۔ پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔ پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔ فیصلے کے مطابق نیب خیبر پختونخوا اپر کوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔ احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔