Jang News:
2026-07-24@08:56:19 GMT

مئی میں پاک بھارت جنگ بھی خطرناک ثابت ہو سکتی تھی: اسحاق ڈار

اشاعت کی تاریخ: 3rd, December 2025 GMT

مئی میں پاک بھارت جنگ بھی خطرناک ثابت ہو سکتی تھی: اسحاق ڈار

—فائل فوٹو

نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ مئی میں پاک بھارت جنگ بھی خطرناک ثابت ہوسکتی تھی۔

اسلام آباد میں سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بھارت نے یکطرفہ طور پر سندھ طاس معاہدہ معطل کرنے کا اعلان کیا۔ مسئلہ کشمیر کے حل نہ ہونے سے خطے کے امن کو خطرہ لاحق ہے۔

اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ دنیا میں سلگتے تنازعات عالمی امن کے لیے خطرہ ہیں، پاکستان تنازعات کے حل کے لیے مذاکرات اور سفارتکاری کی حمایت کرتا ہے۔

افغان مسئلہ طاقت سے حل کر سکتے ہیں، نہیں چاہتے کہ بھائی کو گھر میں گھس کر ماریں، اسحاق ڈار

نائب وزیراعظم نے کہا کہ ماسکو میں ایس سی او سمٹ میں وزیراعظم کی ہدایت پرپاکستان کی نمایندگی کی، افغانستان میں امن، استحکام اور معاشی بحالی پر بات کی۔

انہوں نے کہا کہ جنوبی ایشیا سب سے زیادہ آبادی والا خطہ ہے، جنوبی ایشیا میں موسمیاتی تبدیلی اور غذائی قلت کے چیلنجز سنگین ہوتے جا رہے ہیں۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ موسمیاتی تبدیلی اس وقت بہت بڑا چیلنج ہے، درجہ حرارت میں اضافے اور سیلابوں کے معیشت پر تباہ کن اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ جنوبی ایشیا کو غربت، ناخواندگی، ناگہانی آفات سمیت دیگر چیلنجز درپیش ہیں۔

نائب وزیراعظم نے کہا کہ جنوبی ایشیا کے ممالک کو اپنے مسائل کے حل کے بارے میں سنجیدگی سے سوچنا ہوگا، مشترکہ خوشحالی کے لیے علاقائی روابط اہم ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: جنوبی ایشیا نے کہا کہ

پڑھیں:

عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ

اسلام آباد: مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جہاں برینٹ کروڈ پہلی بار 100 ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کر گیا، جبکہ امریکی خام تیل بھی 90 ڈالر فی بیرل سے اوپر پہنچ گیا۔

تازہ عالمی مارکیٹ رپورٹس کے مطابق خطے میں جاری غیر یقینی صورتحال اور سپلائی میں ممکنہ رکاوٹوں کے خدشات نے خام تیل کی قیمتوں کو نئی بلند ترین سطح پر پہنچا دیا ہے۔

ماہرین توانائی کا کہنا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ کی صورتحال مزید کشیدہ ہوئی اور تیل کی ترسیل متاثر ہوئی تو برینٹ کروڈ کی قیمت 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔

تیل کی قیمتیں کیوں بڑھ رہی ہیں؟

تجزیہ کاروں کے مطابق ایران سے تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات، بحیرہ احمر میں حوثیوں کی جانب سے بحری سرگرمیوں میں رکاوٹ اور اہم تجارتی راستوں پر بڑھتے ہوئے خطرات نے عالمی توانائی مارکیٹ کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے اہم آئل ٹرمینل جزیرہ خارگ کو کسی بھی ممکنہ نقصان یا تیل کی صنعت میں ہڑتال کی صورت میں عالمی سطح پر سپلائی مزید متاثر ہو سکتی ہے، جس سے قیمتوں میں مزید تیزی آنے کا امکان ہے۔

پاکستان پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟

توانائی ماہرین کے مطابق اگر عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت اسی رفتار سے بڑھتی رہی تو پاکستان میں بھی پیٹرول، ڈیزل اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات مزید مہنگی ہونے کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ ٹرانسپورٹ، بجلی کی پیداوار، صنعتی لاگت اور مہنگائی پر بھی اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ عالمی تیل منڈی میں جاری غیر یقینی صورتحال برقرار رہی تو نہ صرف توانائی کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں بلکہ عالمی معیشت اور سپلائی چین بھی شدید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ماہرینِ صحت کی دوپہر کے کھانے میں غذائیت سے بھرپور سلاد کو معمول کا حصہ بنانے کی سفارش
  • میٹھے پر سجاوٹ کیلئے چیونٹیوں کا استعمال ریسٹورنٹ مالک کو مہنگا پڑگیا
  • ایرانی اثاثے ضبط کرنے کی ٹرمپ کی دھمکی خطرناک نظیر ہے، عباس عراقچی کا سخت ردعمل
  • نئی امریکی ویزا پالیسی پاکستانی طلبہ کے لیے مشکلات کا سبب بن سکتی ہے
  • مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا میں امن کی بنیاد، دہشتگردی عالمی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ: اسحاق ڈار
  • اسحاق ڈار ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کیلئے کرغزستان پہنچ گئے
  • عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
  • توشہ خانہ ریکارڈ، وزیراعظم اور اسحاق ڈار کے تحائف کی تفصیلات سامنے آگئیں
  • پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار