ٹرانسپورٹرز کا 8 دسمبر سے صوبہ بھر میں پہیہ جام ہڑتال کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 3rd, December 2025 GMT
ویب ڈیسک :ٹرانسپورٹرز نے 8 دسمبر سے صوبہ بھر میں پہیہ جام ہڑتال کا اعلان کر دیا۔
صدر پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن نبیل طارق نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ مطالبات کی منظوری کے لئے حکومت کو 4 روز کا وقت دے رہے ہیں ، مطالبات نہ مانے گئے تو سڑکوں پر نکلیں گے۔
انہوں نے کہا کہ ٹریفک آرڈینینس 2025 ہم پر مسلط کیا گیا،کسی ٹرانسپورٹرز سے بھی مشاورت نہیں کی گئی،ڈرائیورز کی تذلیل کی جا رہی ہے، گاڑیاں بند کی جا رہی ہیں، اتنے بھاری جرمانے ہیں کہ ہمارا 80 فیصد کام رک چکا ہے۔
نبیل طارق نے کہا کہ ہمارا سامان ہمارے گوداموں میں پڑا ہے ، کوئی ڈرائیور لے کر جانے کو تیار نہیں،ٹریفک آرڈیننس کو فوری واپس لیا جائے،تمام ٹرانسپورٹرز خوف کے عالم میں ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہمارے کاروبار تباہ ہو رہے ہیں ، ہم کیسے اس نظام کے ساتھ چلیں،ٹریفک پولیس پیٹرولنگ اور تھانہ پولیس کی جانب سے چالان ٹارگٹ کو ختم کیا جائے،لاہور میں پیرا فورس اور کارپوریشن کی جانب سے ناجائز جرمانوں کو ختم کیا جائے۔
صدر مملکت ، وزیر اعظم اور وفاقی وزیر داخلہ کا 7 خوارج ہلاک کرنے پر سیکورٹی فورسز کو خراج تحسین
انہوں نے پریس کانفرنس کے دوران مزید کہا کہ سیکرٹری آر ٹی اے اور محکمہ ماحولیات کی جانب سے ناجائز جرمانے بند کیے جائیں،پاسنگ کی سہولت تمام سرکاری اڈوں پر مہیا کی جائے،لاہور میں نئے ٹرک سٹینڈز کے لیے جگہ مہیا کی جائے،منی مزدا کے لیے پورے پنجاب کیں کوئی سٹینڈ نہیں ان کے لیے بھی جگہ دی جائے،ہمارے منسوخ شدہ 7500 مزدوں کو بحال کیا کائے۔
نبیل طارق نے مزید کہا کہ روٹ پرمٹ جاری کرنے کا ایک خاص ٹائم فرید مقرر کیا جائے،روٹ پرمٹ کی مدت تین سال کی جائے،موٹر وے پر بھی ٹارگٹ چالان بند کیے جائے،ٹول میں اضافہ واپس لیا جائے،موٹر وے پر بڑھتی ہوئی ڈکیتوں کو روکا جائے،ایکسل لوڈ کے نظام کو پورے ملک میں یکساں کیا جائے،کچے کے علاقے کے قریب ڈکیتیوں کو روکا جائے ۔
ان کا کہنا تھا کہ ہائی ویز اور جی ٹی روڈ پر غیر ضروری ٹول پلازے ختم کیے جائیں،کسٹم کی ناجائز چیکنگ بند کی جائے۔
شمالی وزیرستان میں سیکیورٹی فورسز کی دو کاروائیاں، 7 خوارج ہلاک
آل پاکستان پبلک ٹرانسپورٹ اونرز ایسوسی کے صدر عصمت اللہ نیازی نے کہا کہ ہم پنجاب بھر میں آٹھ دسمبر سے کاروبار بند کر دیں گے،حکومت کو مطالبات کی منظوری کے لیے چار روز کا ٹائم دے رہے ہیں،ہمارے ہڑتال تب تک جاری رہے گی جب تک ہمارے مطالبات تسلیم نہ ہوئے
عصمت اللہ نیازی نے کہا کہ ہمیں جیلوں کیں جانا پڑا تو جائیں گے،ہم نے ابھی پنجاب میں ہڑتال کی بات کی ہے اگر مطالبات تسلیم نہ ہوئے تو پورے پاکستان میں ٹرانسپورٹ بند کریں گے۔
سول جج سید جہانزیب بخاری نےاستعفی دے دیا
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ، خیبرپختونخوا حکومت کا بڑا ریلیف اعلان
پشاور: سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ کے حوالے سے خیبرپختونخوا حکومت نے اہم فیصلہ کرتے ہوئے صوبے کے پنشنرز کی نیٹ پنشن میں 7 فیصد اضافے کی منظوری دے دی ہے۔ اس فیصلے کا اطلاق یکم جولائی 2026 سے ہوگا، جبکہ اس حوالے سے محکمہ خزانہ نے باضابطہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا ہے۔
جاری کردہ اعلامیے کے مطابق یہ اضافہ 30 جون 2026 تک وصول کی جانے والی نیٹ پنشن کی بنیاد پر دیا جائے گا۔ حکومت کے اس اقدام سے لاکھوں ریٹائرڈ سرکاری ملازمین اور ان کے اہل خانہ کو مہنگائی کے موجودہ دور میں مالی سہارا ملنے کی امید ہے۔
نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ یکم جولائی 2026 یا اس کے بعد ریٹائر ہونے والے سرکاری ملازمین بھی اس 7 فیصد اضافے سے مستفید ہوں گے۔ اسی طرح فیملی پنشن حاصل کرنے والے افراد اور کمپیشنٹ الاؤنس لینے والے مستحقین پر بھی یہ اضافہ یکساں طور پر لاگو ہوگا۔
محکمہ خزانہ کے مطابق بیرون ملک مقیم وہ پنشنرز بھی، جو خیبرپختونخوا حکومت کی پنشن کے اہل ہیں، مقررہ قواعد و ضوابط کے تحت اس اضافے سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔
حکومت نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ یہ اضافہ پہلے سے دی جانے والی کسی بھی خصوصی اضافی پنشن پر لاگو نہیں ہوگا، بلکہ صرف بنیادی نیٹ پنشن کی بنیاد پر ادا کیا جائے گا۔
ماہرین کے مطابق سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ کا یہ فیصلہ بڑھتی مہنگائی کے پیش نظر ریٹائرڈ ملازمین کے لیے اہم ریلیف ثابت ہوگا اور ان کے ماہانہ اخراجات پورے کرنے میں مدد فراہم کرے گا۔