تحریک انصاف جنوبی پنجاب کے صدر سینیٹر عون عباس بپی کا خصوصی انٹرویو
اشاعت کی تاریخ: 3rd, December 2025 GMT
اپنے خصوصی انٹرویو میں سینیٹر عون عباس بپی نے کہا کہ ہم ظلم کے وضع کردہ اصول تسلیم نہیں کرتے۔ عمران خان سے ملاقات اُنکا آئینی اور قانونی حق ہے اور اس حق سے دستبردار ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ ریاستی جبر کے سامنے ہم سر نہیں جھکائیں گے۔ پی ٹی آئی کے ساتھ ہونیوالا ظلم ہماری یادوں سے مٹ نہیں سکتا۔ موجودہ حکومت نے معیشت کو تباہ کرکے رکھ دیا ہے، جبکہ کسان بدحالی کی آخری حد تک پہنچ چکے ہیں۔ ملکی معیشت کی بربادی کے اثرات براہِ راست عوام اور زرعی طبقے کو اپنی لپیٹ میں لے رہے ہیں اور اس ناانصافی اور معاشی زوال کے ذمہ دار حکمران ہیں۔ متعلقہ فائیلیںسینیٹر عون عباس بپی پاکستان کی سیاست میں ایک سرگرم اور عوامی مزاج رکھنے والے رہنماء ہیں۔ وہ پاکستان کی سینیٹ کے رکن ہیں اور پاکستان تحریک انصاف جنوبی پنجاب کے صدر کے طور پر کارکنوں سے مضبوط رابطے اور سیاسی قیادت کیلئے جانے جاتے ہیں۔ انکی پہچان روایتی رسمی سیاست سے ہٹ کر سیدھی اور عملی گفتگو، عوامی مسائل کو نمایاں کرنے اور کارکنوں کیساتھ کھڑے ہونے کے نظریئے سے جڑی ہے۔ گذشتہ روز ہونیوالا احتجاج بھی انکی سیاسی سرگرمیوں کا حصہ تھا، جہاں وہ اڈیالہ جیل احتجاج میں عمران خان سے ملاقات کے مطالبے کیلئے شامل ہوئے۔ انہوں نے جنوبی پنجاب سے آنیوالے متعدد کارکنوں کے قافلے کے ہمراہ اسلام آباد میں شرکت کی اور احتجاجی کارکنوں کی قیادت میں نمایاں نظر آئے۔ اس موقع پر اسلام آباد میں سینیئر صحافی نادر بلوچ نے انکا خصوصی انٹرویو بھی کیا، جو انکے سیاسی مؤقف اور احتجاجی جدوجہد کی واضح ترجمانی کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ عون عباس بپی کی سیاست میں علاقائی کارکنوں کی نمائندگی، نوجوانوں کی آواز اور جنوبی پنجاب کے حقوق کی جدوجہد بنیادی ستون سمجھے جاتے ہیں۔ انٹرویو پیش خدمت ہے۔ قارئین و ناظرین محترم آپ اس ویڈیو سمیت بہت سی دیگر اہم ویڈیوز کو اسلام ٹائمز کے یوٹیوب چینل کے درج ذیل لنک پر بھی دیکھ اور سن سکتے ہیں۔ (ادارہ)
https://www.
youtube.com/@ITNEWSUrduOfficial
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: عون عباس بپی
پڑھیں:
معاون خصوصی / وزیر مملکت نے اپنی وزارت میں پندرہ لاکھ کے مساج کا بل جمع کروادیا
اسلام آباد(نیوز ڈیسک)ایک معاون خصوصی / وزیر مملکت نے مبینہ طور پر اپنی وزارت میں پندرہ لاکھ کے مساج کا بل جمع کروایا ہے،وزیر موصوف کا کہنا ہے کہ انہوں نے تھائی لینڈ سے مساج کروایا تھا،اب وزارت کے سیکرٹری بل پر دستخط نہیں کررہے۔
نوٹ۔ پاکستان میں غربت اور مہنگائی عروج پر ہے اور وزیر مساج کا بل بھی سرکاری کھاتے سے ادا کرنا چاہتے ہیں، کیا لوٹ مار کی گنگا بہہ رہی ہے ۔
مزید پڑھیں۔کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار مقرر کرنے کی سفارش