ڈی آئی خان میں پولیس موبائل پر بم حملہ، 3 اہلکار شہید
اشاعت کی تاریخ: 3rd, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقے پنیالہ میں پولیس کی موبائل وین پر بم سے حملہ کیا گیا، جس میں تین اہل کار شہید ہو گئے۔
نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق حملے کی اطلاع ملتے ہی سیکورٹی ادارے حرکت میں آئے جب کہ ریسکیو ٹیموں نے شہدا کی میتوں کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کیا۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے جائے وقوع کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کرنے کا عمل شروع کیا گیا۔
پولیس کے مطابق شہید ہونے والوں میں اے ایس آئی گل عالم، کانسٹیبل رفیق اور موبائل ڈرائیور سخی جان شامل ہیں جب کہ ان کے ساتھ موجود کانسٹیبل آزاد شاہ معجزانہ طور پر محفوظ رہے۔
دھماکے کے بعد پورے علاقے میں خوف کی فضا طاری ہوگئی۔ سیکورٹی فورسز نے پنیالہ کے داخلی و خارجی راستوں پر سخت ناکا بندی کردی تاکہ حملہ آوروں یا منصوبہ سازوں کے ممکنہ فرار کے راستے بند کیے جا سکیں۔
واقعے کی خبر ملتے ہی ڈی ایس پی پنیالہ اور ایس ایچ او فوری طور پر جائے وقوع پر پہنچ گئے، جس کے بعد علاقے میں سرچ آپریشن شروع کردیا گیا ہے۔
دوسری جانب وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے واقعے پر شدید مذمت کا اظہار کرتے ہوئے اسے ’’فتنۃ الخوارج‘‘ کی بزدلانہ کارروائی قرار دیا۔
انہوں نے شہید اے ایس آئی گل عالم، کانسٹیبل رفیق اور ڈرائیور سخی جان کی بہادری کو خراج عقیدت پیش کیا اور کہا کہ خیبرپختونخوا پولیس کے جوان ہمیشہ اول صف میں کھڑے ہوکر ملک کی سلامتی کے لیے قربانیاں دیتے رہے ہیں۔
محسن نقوی نے کہا کہ شہدا کی قربانیاں کبھی فراموش نہیں کی جائیں گی اور ان کے ورثا کے ساتھ ہر سطح پر اظہارِ یکجہتی کیا جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
ایران کے شہید سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین تین بڑے شہروں ایران، قم اور مشہد میں نماز جنازہ کے بعد مشہد میں امام رضا کے مزار میں ہوگی، جس کے لیے حکام کی جانب سے تیاریاں شروع کی گئی ہیں۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ایران کے دارالحکومت تہران کے سماجی و ثقافتی امور کے نائب محمد امین توکلی زادہ نے بتایا کہ شہید سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ کی تدفین کے لیے تیاریاں جاری ہیں اور صرف دارالحکومت تہران میں ڈیڑھ سےدو کروڑ (15 سے 20 ملین) لوگوں کے لیے تیاریاں جاری ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم دنیا کے انتہائی استکبار مخالف رہنما، امریکا اور اسرائیل کے خلاف جنگ کے عظیم کمانڈر اور ایران کے عظیم قابل تقلید رہنما کے جنازے میں شریک ہو رہے ہیں۔
امین توکلی زادہ نے کہا کہ مختلف صوبوں کی جانب سے جنازے کی میزبانی کے لیے درخواستیں کی گئی ہیں اور تدفین ممکنہ طور پر ذوالحج کے اختتام اور محرم کے شروع میں ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ تہران میں نماز جنازے کا پروگرام تقریباً 24 گھنٹوں تک جاری رہے گا، ہم شیعہ مسلمانوں کا ایک بہت بڑا اجتماع دیکھیں گے اور یہاں تک کہ تمام مسلمانوں کا ایک عظیم اجتماع ہوگا۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی نماز جنازے میں ہمسایہ ممالک بشمول پاکستان، افغانستان، بھارت، بنگلہ دیش اور کشمیر سے بڑی تعداد میں سوگواروں کی شرکت کا امکان ہے۔
یاد رہے کہ ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے حملے میں شہید ہوگئے تھے جب ایران پر اچانک حملہ کیا گیا تھا اور بم باری کے نتیجے میں آیت اللہ علی خامنہ ای کے علاوہ ان کے خاندان کے چند انتہائی قریبی ارکان سمیت پاسداران انقلاب کے اعلیٰ کمانڈرز بھی شہید ہوگئے تھے۔
امریکا اور اسرائیل کے اس حملے میں مناب میں لڑکیوں کے ایک اسکول پربھی بم باری کی گئی تھی، جس کے نتیجے میں اسکول کی بچیوں سمیت 165 افراد شہید ہوگئے تھے، جبکہ ایران نے جواب میں اسرائیل اور خطے کے ممالک میں قائم امریکی اڈوں پر حملے شروع کیے تھے۔
پاکستان کی ثالثی میں اپریل میں امریکا اور ایران نے جنگ بندی پر اتفاق کیا اور دونوں اطراف سے حملے روک دیے گئے تاہم ایران نے آبنائے ہرمز کا کنٹرول اپنے پاس رکھا جبکہ امریکا نے ناکہ بندی کی جو تاحال جاری ہے لیکن مخصوص جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔